رسائی کے لنکس

پاکستان کے راستے ترسیل کی جلد بحالی متوقع ہے: امریکہ


میری ہارف

میری ہارف

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے کہا کہ "ہم لاگت کی وجہ سے پاکستان کے راستے سامان کی ترسیل کے حامی ہیں۔ امید ہے اور میں ایسا نہیں دیکھتی کہ واپسی کے اس عمل پر وہاں کی صورتحال کا اثر تادیر ہوگا۔"

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے فوجی ساز و سامان کی وطن واپسی کے لیے پاکستان کا زمینی راستہ استعمال کرنے کا حامی ہے اور اسے امید ہے صوبہ خیبر پختونخواہ کی حالیہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گی۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

"ہم لاگت کی وجہ سے پاکستان کے راستے سامان کی ترسیل کے حامی ہیں۔ امید ہے اور میں ایسا نہیں دیکھتی کہ واپسی کے اس عمل پر وہاں کی صورتحال کا اثر تا دیر ہو گا۔"

ان کا اشارہ خیبر پختونخواہ میں وہاں کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے امریکی و نیٹو افواج کے لیے سامان رسد کی ترسیل روکنے کے لیے احتجاجی دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کی طرف تھا۔

ایک روز قبل امریکی پینٹاگون کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اس نے ڈرائیوروں کی سلامتی کے پیش نظر افغانستان سے پاکستان کے راستے اپنے ساز و سامان کی واپسی فی الوقت روک دی ہے اور مال بردار ٹرکوں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے۔

میری ہارف کا کہنا تھا کہ فی الوقت طورخم کے راستے سامان کی ترسیل نہیں ہو سکتی کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ صورت حال ٹرک ڈرائیوروں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

افغانستان سے امریکی لڑاکا اور اتحادی افواج 2014ء کے اواخر تک انخلا کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں اور ان کا بہت سا سامان واپس بھیجا جا رہا ہے۔

افغانستان کے لیے پاکستان سے دو زمینی راستے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں ایک طورخم اور دوسرا چمن کا ہے۔ لیکن آمدورفت کے زیادہ اہم طورخم کا راستہ ہی استعمال ہوتا ہے۔

طورخم سے ملحقہ صوبہ خیرپختونخواہ میں تحریک انصاف ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے نیٹو کی رسد لے جانے والے ٹرکوں کو افغانستان نہیں جانے دے رہے۔

مرکزی حکومت اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے تحریک انصاف کے اس اقدام کو غیر سود مند قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG