رسائی کے لنکس

پاکستان میں ڈرون حملوں کے اثرات پر تجزیاتی رپورٹ

  • میریڈیتھ بیول

پاکستان میں ڈرون حملوں کے اثرات پر تجزیاتی رپورٹ

پاکستان میں ڈرون حملوں کے اثرات پر تجزیاتی رپورٹ

ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بغیر پائلٹ کے ڈرون ہوائی جہازوں کے حملوں میں تیزی سے اضافہ القاعدہ اور طالبان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے میں موئثر ثابت ہوا ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان حملوں سے باغیوں کو بم بنانے والوں کو تربیت دینے یا مغربی ملکو ں کے اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے سے روکنا ممکن نہیں ہے۔

واشنگٹن میں قائم نیو امریکن فاونڈیشن ’’ New America Foundation ‘‘ کے ایک تجزیے کے مطابق گذشتہ سال کے شروع میں صدر باراک اوباما کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بغیر پائلٹ کے جہازوں کے حملوں میں ،جنھیں ڈرون کہا جاتا ہے، ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2009ء میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون کے51 حملے ہوئے جب کہ جارج ڈبیلو بش کی انتظامیہ کے پورے آٹھ برسوں میں کل45 حملے ہوئے تھے۔

اس تحقیقی مطالعے میں چھ برس کے عرصے میں بغیر پائلٹ کے جہازوں سے کیے جانے والے 114 حملوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں 1210 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 850 عسکریت پسند تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں کی ایک تہائی تعداد سویلین باشندوں پر مشتمل تھی۔ سی آئی اے کے ڈرون پروگرام میں تمامتر توجہ پاکستانی کے قبائلی علاقے پر ہے جہاں حکومت پاکستان کا قانون نہیں چلتا۔

عہد ے داروں کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو، اسی علاقے سے افغانستان میں امریکی فوجوں اور دوسرے مغربی ملکوں کے اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ڈرون حملوں کے سخت خلاف ہیں اور انہیں پاکستان کے اقتدار اعلیِٰ کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ امریکہ سرکاری طور پر ان حملوں کا اعتراف نہیں کرتا۔

نیو یارک میں مقیم رپورٹر پال کریویکشانگ ’’ Paul Cruickshank ‘‘ نے القاعدہ پر خصوصی تحقیق کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے بعض عسکریت پسندوں نے جو القاعدہ میں شامل ہو گئے تھےاورجنھیں مغربی ملکوں کی سیکورٹی فورسز نے پکڑ لیا، بتایا ہے کہ بغیر پائلٹ والے ڈرون جہاز وں سے بہت فرق پڑ رہا ہے ’’القاعدہ میں شامل مغربی ملکوں کے باشندوں نے جو ان حملوں کے وقت موجود تھے، بتایا ہے کہ ڈرون مہم بہت موئثرہے۔ القاعدہ میں اس کی وجہ سے بہت تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ مغربی ملکوں کے ان لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا رہا تھا تا کہ انہیں ان حملوں سے بچایا جا سکے۔ القاعدہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں اپنے آپریشن اور تنظیمی ڈھانچے میں ان حملوں کی وجہ سے بنیادی تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں‘‘۔

پال کہتے ہیں کہ ڈرون مہم کی وجہ سے القاعدہ نے اپنے آپریشن کی مرکزیت ختم کر دی ہے اور نئے لوگوں کو کھلے میدانوں کے بجائے عمارتوں کے اندر تربیت دی جا رہی ہے۔ اپنے پیغامات کی ترسیل کے لیے اب یہ دہشت گرد گروپ الیکٹرانک ذریعے استعمال نہیں کرتا کیوں کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کا سراغ لگا سکتی ہیں۔

اب تمام اطلاعات قاصدوں کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ پال کہتے ہیں کہ ان تمام اقدامات کے باوجود القاعدہ نے بم بنانے کی تربیت دینے کا پروگرام جاری رکھا ہے۔ ’’ ڈرون پروگرام کو وسعت دی گئی ہے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی جاری ہے لیکن میرے خیال میں اس کے باوجود القاعدہ کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے ۔ امکان یہی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں نئی سازشیں تیار کی جاتی رہیں گی‘‘۔

سی آئی اے میں القاعدہ کی سابق تجزیہ کار باربرا سیوڈ ’’ Barbara Sude ‘‘جو آج کل رینڈ کارپوریشن ’’ Rand Corporation‘‘ سے وابستہ ہیں، کہتی ہیں کہ القاعدہ کے لیڈروں کا خیال ہے کہ وہ ڈرون جہازوں کے حملوں اور افغانستان اور پاکستان کو امریکی امداد کے وعدوں کے باوجود اپنا کام جاری رکھیں گے ’’وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان ملکوں کو امریکی امداد کے خاتمہ ہونے کے بعد بھی اپنا وجود برقرار رکھیں گے۔ آخر امریکہ کب تک قربانی دیتا رہے گا اور یہ سلسلہ زیادہ دن نہیں چلے گا۔ لیکن ماضی میں القاعدہ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ عراق میں ان سے غلطی ہوئی اور افغانستان میں بھی وہ غلط ثابت ہو سکتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ملکوں پر اس مہم کو ختم کرنے اور واپس آنے کے لیئے دباو پڑ رہا ہے‘‘۔

پاکستانی طالبان نے جب پورے ملک میں سرکاری اور سویلین اہداف کے خلاف حملوں کی زبردست مہم شروع کر دی تو گذشتہ اکتوبر میں پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں اپنی مہم کا آغاز کیا۔ حکام کاکہنا ہے کہ 2009 میں پاکستان میں 87 خود کش حملے کیے گئے جو ایک ریکارڈ ہے۔ ان حملوں میں 1,300 افراد ہلاک ہوئے۔

نیوامریکن فاونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 18 مہینوں سے جاری ڈرون حملوں کی مہم کے بعد پاکستان کے بہت سے عسکریت پسند افغانستان کی سرحد کے نزدیک اپنے محفوظ ٹھکانوں سے نکل کر ملک کے کم خطرناک علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

پاکستان نے حال ہی میں طالبان کے بعض چوٹی کے لیڈروں کو ملک کے جنوب میں شہر کراچی سے گرفتار کیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG