رسائی کے لنکس

سلمان بشیر کی امریکی وزیرِ خارجہ سے مختصر ملاقات: پاکستانی ذرائع


سلمان بشیر کی امریکی وزیرِ خارجہ سے مختصر ملاقات: پاکستانی ذرائع

سلمان بشیر کی امریکی وزیرِ خارجہ سے مختصر ملاقات: پاکستانی ذرائع

’تمام اختلافات کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات جاری رہیں گے، اور یہ کہ ایک مستحکم اور جمہوری پاکستان، امریکہ اور خطے کے مفاد میں ہے‘

جمعرات کو پاکستانی وفد کے سربراہ ، سکریٹری خارجہ سلمان بشیر کی امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کے ساتھ ایک مختصر ملاقات ہوئی۔یہ بات واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر نے بتائی۔

جمعرات کی شام میڈیا کووفد کی ہلری کلنٹن سے ملاقات کے حوالے سے بریف کرتے ہوئے حسین حقانی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام اختلافات کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات جاری رہیں گے، اور یہ کہ ایک مستحکم اور جمہوری پاکستان، امریکہ اور خطے کے مفاد میں ہے۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں میڈیا میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کے بارے میں آنے والی اطلاعات ایک بار پھر غلط ثابت ہوئی ہیں۔

ڈرون ٹیکنالونی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر سفیر نے کہا کہ پاکستان اپنا نقطہٴ نظر پیش کرتا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اس قسم کے آپریشنز زیادہ مؤثر انداز میں کرسکتا ہے، مگر اِس بارے میں کوئی واضح بیان دینے سے انکار کیا کہ پاکستان کو 50ڈرون طیارے دیے جارہے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن کے بیان کے حوالے سے جو بیانات دیے جارہے ہیں، وہ، اُن کے بقول، ’صرف ایک فریق کا مؤقف ہے۔ ایک سائیڈ کی رائے ہے، اور دونوں ممالک اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور ہمارے تعلقات ایک دوسرے کے حقیقی اقدامات یا بیانات کے باوجود قائم رہ سکتے ہیں۔‘

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ جب صحافی کسی ایک مسئلے پر بار بار سوالات کرتے ہیں تو کچھ لوگ ، اُن کے بقول، حقیقی جواب دے دیتے ہیں۔

مسٹر حقانی نے کہا کہ ’پاکستان میں ایسے لوگ ہیں، جِن میں حکومت کے ارکان بھی شامل ہیں ،جنھوں نے امریکی پالیسیوں کے کچھ پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔‘

اُن کے الفاط میں: ’میرے نقطہٴ نظر یہ ہے کہ ایک طرف تو تعاون ہے، ساجھے داری ہے اور دوسری طرف ساتھ ہی کچھ ایسے مسائل ہیں جِن پر ہم اب بھی مل کر کام کررہے ہیں کہ اُن سے کسی طرح عہدہ برآ ہواجائے۔‘

پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ایڈمرل ملن کے بیان پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کےردِ عمل پر ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنرل کیانی کسی طرح بھی ایڈمرل مائیک ملن کا حوالہ نہیں دے رہے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جنرل کیانی کا بیان ایڈمرل مائیک ملن کا جواب تھا، اور یہ کہ پاکستان کے سول اور ملٹری دونوں رہنما ایڈمرل ملن کو احترام سے دیکھتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ محض امریکی تھنک ٹینکس اور میڈیا کا حوالہ دے رہے تھے جِن میں، اُن کے بقول، ہمیں ہمیشہ منفی رجحان نظر آتا ہے، یعنی امریکی تھنک ٹینکس اور میڈیا کبھی بھی پاکستان کی کوششوں اور کامیابیوں کی تعریف نہیں کرتا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG