رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں ’مستقبل کے رہنما کانفرنس‘

  • انجم گل

او آئی سی کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب رشاد حسین (دائیں) یو ایس پاک فاؤنڈیشن کے عرفان ملک کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک یوتھ کانفرنس کے دوران

او آئی سی کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب رشاد حسین (دائیں) یو ایس پاک فاؤنڈیشن کے عرفان ملک کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک یوتھ کانفرنس کے دوران

گذشتہ دنوں وائٹ ہاؤس میں ’مستقبل کے راہنماؤں کی تشکیل ‘ کے نام سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس کا ایک نمایاں پہلو اس میں امریکہ کی 16 ریاستوں سے تعلق رکھنے والے165 پاکستانی نژاد طالب علموں کی شرکت تھی۔ جن میں سے اکثر ہائی اسکولوں کے طالب علم تھے۔

اس کانفرنس کا اہتمام یوایس پاک فاؤنڈیشن نے کیاتھا۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب 21 اکتوبر کو وہائٹ ہاؤس میں ہوئی۔ جس میں اوباما انتظامیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور دیگر سینیر حکام نے نوجوانوں کوجنوبی ایشیا سے متعلق صدر اوباما کی پالیسی اور ترجیحات سے آگاہ کیا۔

تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر عرفان ملک کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں کو مستقبل میں قائدانہ کردار کے لئے تیار کرنا ہے۔ گزشتہ سال اس کانفرنس میں پندرہ امریکی ریاستوں سے 175 طالب علم شریک ہوئے تھے۔

وہائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں امریکہ کے آرگنائیزیش آف اسلامک کانفرنس کے لیے خصوصی مندوب رشاد حسین، اوباما انتظامیہ کے پال ٕمونٹیرونے بین المذاہب مکالمے پر بات کی جبکہ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں میں گلوبل انگیجمنٹ کے ڈائرکٹر شارق ظفر اور تمنا ثلیق الدین نےبھی نوجوانوں سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس کے بعد نوجوان طالب علموں کو کیپیٹل ہل لے جایا گیا جہاں کینن بلڈنگ میں کانفرنس کے باقاعدہ سیشن کا آغاز ہوا۔

کانفرنس کے اجلاس میں مسلمان کمیونیٹی کے لیے امریکی دفترِ خارجہ کی نمائندہ فرح پنڈت، پاکستانی نژاد ویٹ لفٹر خاتون کلثوم عبداللہ اور پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت مسلم لاکھانی کے علاوہ کئی نمایاں شخصیات نے نوجوانوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔

اسی شام پاکستانی سفارتخانے نے کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔

عرفان ملک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کانفرنس میں شریک ایسے پاکستانی نژاد امریکیوں نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا جو یا تو امریکی حکومت یا پھر یہاں کے بڑے کاروباری اداروں سے منسلک ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو یہ بتایا کہ مخصوص شعبوں میں جانے کے لیے کن مضامین کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔

عرفان ملک کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے چار سیشن ہوئے جن میں پہلا اور سب سے مفید سیشن اپنی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کرنے کا تھا۔ ماہرین نے نوعمر طالب علموں کو بتایا کہ آگے بڑھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ کامیابی سے چل سکتی ہیں۔ دیگر اجلاسوں میں انہیں پبلک سپیکنگ، اپنا تعارفی خاکہ تحریر کرنے اور اسکول اور کالج میں تعلیم کے دوران ہراساں کیے جانے سے متعلق تھا۔

اس کانفرنس میں پاکستانی نژاد طالب علموں کی ملاقات ان بھارتی اور یہودی نوجوانوں سے بھی کروائی گئی، جو یہاں نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد اپنے شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بچوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔

کانفرنس کےاخراجات کےمتعلق عرفان ملک کا کہنا تھا کہ منتظمین نے بچوں سے صرف 175 ڈالر رجسٹریشن فیس لی، جس سے ان کے کھانے، ٹرانسپورٹیشن اور کانفرنس کے لیے مسودات کی اشاعت کےنصف اخراجات ادا ہوئے ، جب کہ باقی اخراجات تنظیم نے خود برداشت کیے۔

عرفان ملک نے بتایا کہ اس کانفرنس کے ذریعے نوجوان طالب علموں کو امریکی سیاست، تجارت اور برنس میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے پاکستانی نژاد امریکیوں سے براہ راست بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ جنہوں نے انہیں اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے مفید مشورے دیے۔

یو ایس پاک فاؤنڈیشن، پاکستانی امریکیوں کی ایک اور تنظیم’ پاک پیک‘ کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ عرفان ملک کا کہناتھا کہ پاک پیک کے زیادہ تر مقاصد سیاسی ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی تنظیم بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی جوپاکستانی امریکیوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے ، ان کے حصول کی جدوجہد کرنے اور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔

تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ہمار مقصدپاکستانی نژاد امریکیوں کو یہ بتانا تھا کہ اس ملک میں آگے بڑھنے کےلیے انہیں مساوی مواقع حاصل ہیں۔ اور انہیں اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG