رسائی کے لنکس

عوامی حمایت کے بغیر امریکہ کے ساتھ تعاون جاری نہیں رکھ سکتے، گیلانی


وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی خصوصی امریکی ایلچی برائے پاکستان اور افغانستان مارک گراس مین کے ساتھ۔ فائل

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی خصوصی امریکی ایلچی برائے پاکستان اور افغانستان مارک گراس مین کے ساتھ۔ فائل

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ 18 کروڑ پاکستانیوں کا اعتماد حاصل نہیں کرلیتا اس کے ساتھ اشتراکِ عمل جاری رکھنا ان کی حکومت کےلیے باعثِ خطرہ بنا رہے گا۔

امریکی جریدہ ’ٹائم‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرِاعظم گیلانی نے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں خرابی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے ۔

جمعرات کے روز شائع ہونے والا انٹرویو گزشتہ ہفتے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی کاروائی کے دوران القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد وزیرِاعظم کی جانب سے کسی بھی میڈیا ادارے کو دیا جانے والا پہلا انٹرویو ہے۔

بن لادن کی ہلاکت کیلیے پاکستانی سرزمین پر کی جانے والی یک طرفہ امریکی کاروائی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔

انٹرویو کے دوران وزیرِ اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ اسامہ کی ہلاکت کےلیے کی جانے والی یک طرفہ امریکی کاروائی کے باعث دونوں ممالک کے خفیہ اداروں – سی آئی اے اور آئی ایس آئی – کے مابین تعاون ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے معاملہ پر بھی اختلافات موجود ہیں۔

ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر پاکستانی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ امریکہ نے اسامہ کی موجودگی کی اطلاع پر پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر یک طرفہ کاروائی کیوں کی۔ ان کے بقول ’اگر ہم ساتھ مل کر ایک جنگ لڑ رہے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ اگر امریکہ کے پاس کوئی ٹھوس اطلاع موجود بھی تھی تو اسے پاکستان کو خبردار کرنا چاہیے تھا تاکہ دونوں ممالک اکٹھے کاروائی کرسکتے‘۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں پر تنقید کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کےلیے عوامی حمایت کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ڈرون حملے کارآمد ثابت ہورہے ہیں تو امریکہ اور پاکستان کو اس حوالے سے ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جسے عوامی حمایت بھی حاصل ہوسکے۔

انہوں نے پاکستان کے اس مطالبے کو دہرایا کہ امریکہ پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرے۔

وزیرِاعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ ایک فوجی ڈکٹیٹر نہیں بلکہ ایک منتخب راہنما ہیں اور ایک ایوان کے سامنے جوابدہ ہیں جہاں ان کے بقول شدید امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوامی جذبات امریکہ کے مخالف ہونگے تو ان کے بقول ان کےلیے ان جذبات کونظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونا ممکن نہیں ہوگا۔

وزیرِاعظم گیلانی نے امیدظاہر کی کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان قریبی تعلقات جلد بحال ہوجائینگے تاہم ان کے بقول اس کےلیے امریکہ کو پاکستانی عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جن کے باعث پاکستانی عوام کو یہ یقین دلایا جاسکے کہ امریکہ پاکستان کا مددگار ہے۔

XS
SM
MD
LG