رسائی کے لنکس

امریکہ صوبہٴ سرحد کی سڑکوں کی تعمیر کےلیےچار کروڑ ڈالرمہیا کرے گا


امریکہ صوبہٴ سرحد کی سڑکوں کی تعمیر کےلیےچار کروڑ ڈالرمہیا کرے گا

امریکہ صوبہٴ سرحد کی سڑکوں کی تعمیر کےلیےچار کروڑ ڈالرمہیا کرے گا

امریکہ کے نائب وزیرِ مملکت جیکب جے لیو اور پاکستان کے سکریٹری فنانس سلمان صدیق نے جمعرات کے دِن واشنگٹن میں ایک یادداشت نامے پر دستخط کیے جِس کے تحت مالاکنڈ کی تعمیرِ نو اورپاکستان کی سڑکوں کی تعمیر کے لیے اولیت کی بنیاد پر تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین ترمیم شدہ سمجھوتے پر دستخط ہونے اور فنڈز کے فراہم ہوتےہی منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا۔

یہ بات امریکی محکمہ ٴخارجہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے حقائق نامے میں کہی گئی ہے۔

پراجیکٹ کے لیے امریکہ سےچار کروڑ ڈالر کی امداد ملے گی، جس کی مدد سے دو اہم سڑکوں میں بہتری لائی جائے جائے گی۔ یہ سڑکیں ہیں: پاکستان کے صوبہٴ سرحد میں پشاور رِنگ روڈ اور سوات میں کانجو سے مدین سڑک۔

حقائق نامے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی یہ خواہش ہے کہ وہ مسائل جو پاکستانی لوگوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، اُنھیں اولیت دی جائے۔

اِس میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں میں بہتری لانے سے سلامتی کی حالت میں بہتری آتی ہے، جِس سے قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں کی رسائی کو فروغ ملتا ہے، کھیت سے منڈی تک مال کی رسد میں اخراجات میں کمی آتی ہے، تجارت اور مواصلات کو فروغ ملتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

اِن منصوبوں پر عمل درآمد حکومتِ صوبہٴ سرحد کے توسط سے ہوگا، اور اِن کا ٹھیکہ پاکستانی کمپنیوں کو ملے گا، جو مروجہ مقابلے کے ضوابط پر پوری اُترتی ہوں ۔

پروجیکٹ کے تحت صوبہ سرحد میں سوات کے کانجو سے مدین تک اندازاً 43 کلومیٹر کی سڑک تعمیر کی جائے گا۔

سوات کے علاقے کی یہ سڑک محل وقوع اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ اِس سے سکیورٹی فورسز کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی، لوگوں کے تحفظ میں مدد ملے گی اور تنازعے کے بعد کے بحالی کے کام کے لیے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی میسر آئے گی۔

پشاور رِنگ روڈ پراجیکٹ کی مدد سے رِنگ روڈ کی تعمیرِ نو ہو گی۔ یہ سڑک دیہی علاقے سے گزرتی ہے ، اِسے سہ رویہ بنایا جائے گا، حیات آباد کے رہائشی علاقے میں چار کلومیٹر طویل بائی پاس تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ منصوبے میں سڑک کو مَتانی بائی پاس روڈ سے ملانا شامل ہے جو اِس وقت امریکی امداد سے زیرِ تعمیر ہے۔

یہ سڑک سال 1990ء کی دہائی کے دوران دونوں اطراف دو رویہ بنائی گئی تھی، لیکن اِس وقت طورخم پاس سے گزرنے والے بھاری ٹرکوں اور ٹرالروں کے زیرِ استعمال ہے۔ طورخم افغانستان م کے ساتھ آمد و رفت کے لیے اہم ترین راستہ ہے۔

بھاری ٹرکوں کی آمد و رفت کے باعث سڑک کی حالت نا گفتہ بہ ہے، جس سے ٹریفک سست روی کا شکار ہو گئی ہے اور راستے میں جرائم پیشہ عناصر کی طرف سےگزرنے والی ٹریفک کو زد میں لانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG