رسائی کے لنکس

پاکستان کی امداد منظور کی جائے، امریکی عہدے داروں کا کانگریس سےمطالبہ

  • ال پسین

امریکی کانگریس

امریکی کانگریس

اعلیٰ امریکی عہدے داروں نے جمعرات کے روز ارکانِ کانگریس پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے طویل المدتی فوجی اور سولین سکیورٹی امداد کی منظوری دی جائے، جو اُن کے بقول، عالمی دہشت گردی کے خلاف امریکی قیادت میں لڑی جانے والی لڑائی میں اہمیت کا حامل ہے۔

ایوان کے دونوں طرف کی جماعتوں سے وابستہ ارکان عمومی طور پر اِس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ کچھ اراکین نے پاکستانی فوج کے لیے نئے ہیلی کاپٹر مہیا کرنےپر تیزی سے اقدام لینےکی ضرورت پر زور دیا۔

دفاعی امور کی انڈر سیکریٹری مِشل فلورنوائے نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی مسلح افواج کی کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو بے حد اہمیت دیتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات چیلنجوں سے بھرپور رہے ہیں۔ تاہم، القاعدہ کو درہم برہم کرنے اور شکست دینے کے ہمارے مقصد کے لیے یہ بات سب سے اہم ہے کہ اِس نازک علاقے میں استحکام پیدا کیا جائے۔

ایوانِ نمائندگان کی اِس کمیٹی کے اراکین نے حکومت کے اِس مؤقف کی حمایت کی اور زور دیا کہ پاکستان کے فوجی حکام کو امریکہ میں تعلیم دینے کے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اہم فوجی سازو سامان کی ترسیل جلد از جلد کی جائے، بالخصوص اُنھیں نئے ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں۔

دفاعی امور کی انڈر سیکریٹری نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ پانچ سالہ دفاعی منصوبے پر بات چیت جاری ہے۔ غیر ملکی فوجی امداد، اور سکیورٹی امداد کے سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔ ابھی تک اُنھوں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، مگر یہ ایک ایسا موضوع ہے جِس پر اُن کے ساتھ مسلسل بے تکلفانہ بات چیت جاری ہے۔

مِشل فلورنوائے نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کی تجدید کے سلسلے میں کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ کیونکہ یہ ایک عرصے تک تعطل کا شکار رہے ہیں، اِس لیے اِس سلسلے میں بہت سے مسائل ہیں، مثلاً پاکستان کی محدود فوجی صلاحیتیں، اُن علاقوں کو محفوظ رکھنے کا سوال جہاں سے پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کو نکال باہر کیا ہے۔

نَوّے کے عشرے میں امریکہ کا اُس علاقے سے نکل جانا اور اُس سے پیدا ہونے والا عدم اعتماد اور عسکریت پسندوں کی جانب سے خطرات کی سنگینی کے بارے میں کسی قدر اختلاف شامل ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ یہ مسائل حل ہوتے جارہے ہیں۔

اِس کے ساتھ ساتھ، فلورنوائے نے یہ بتایا کہ جنوبی افغانستان میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور مغربی علاقے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔اِس طرح سرکشوں کی کارروائیاں مشکلات کی شکار ہوتی جارہی ہیں جو پہلے سرحد کے آر پار آزادی سے اپنی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

دفاعی امور کی انڈر سیکریڑی اور دوسرے اعلیٰ امریکی حکام نے کمیٹی کے ارکان کے سامنے یہ بیانات دیے ہیں اور اگلے پانچ سال کے لیے پاکستان کی فوجی اور غیر فوجی امریکی امداد میں اربوں ڈالر کی امداد کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔

XS
SM
MD
LG