رسائی کے لنکس

پاک امریکی حکام کی ملاقات کا مقصد باہمی شکایات کو دور کرنا ہے، تجزیہ کار

  • یاسمین جمیل

پاک امریکی حکام کی ملاقات کا مقصد باہمی شکایات کو دور کرنا ہے، تجزیہ کار

پاک امریکی حکام کی ملاقات کا مقصد باہمی شکایات کو دور کرنا ہے، تجزیہ کار

نامور تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس اورفوج کے عہدے داروں کی حالیہ ملاقاتوں کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان ’باہمی شکایات کو دور کرنا‘ اور دہشت گردی کی جنگ میں ’تعاون کو جاری رکھنا‘ ہے، جِس کا دونوں ملکوں کوسامنا ہے۔

جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘سے انٹرویو میں اُنھوں نے اِس خیال کا اظہار کیا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی 80کروڑ ڈالر کی امداد کی معطلی کا مسئلہ ’ کوئی زیادہ پیچیدہ شکل ‘ اختیار نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی ، اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں میں اضافے کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے۔

اِس میں سے بیشتر پیسا، اُن کے بقول، پاکستان کو فوجی امداد کے سلسلے میں مل جائے گا، لیکن جو ٹرینرز کے لیے پیسا ہے وہ ظاہر ہے پاکستان کو اِس لیے نہیں ملے گا کیونکہ پاکستان نے امریکہ کے تربیتی مشن بند کروادیا ہے۔ اگر وہ شروع کروا دیں گے تو فنڈنگ اِسی مقصد سے استعمال ہوگی لیکن باقی معاملات میں تعاون رہے گا۔

خرچ کی گئی رقم کی ادائگی کے بارے میں پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ اکرم ذکی کا کہنا تھا کہ بڑے ملک نا دہندہ ہو بھی جائیں ’تو اُن کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا‘۔ اِس سلسلے میں، اُنھوں نے کہا کہ بڑے ممالک نے پہلے ہی بہت سے ملکوں کا پیسا ضبط کر لیا ہے اور اُن کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکا ۔

حسن عسکری رضوی نے کہا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات میں کشیدگی اور بہتری کی صورتِ حال جاری رہے گی، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سوچ میں فرق ہے، لیکن مکمل بریک ڈاؤن کا امکان نظر نہیں آتا۔ اُن کے بقول، جہاں سوچ ایک ہے وہاں تعاون ہے جہاں نہیں ہے وہاں آپ کو عدم تعاون نظر آئے گا۔ اِس قسم کی مشکلات اِن تعلقات میں درپیش رہیں گی، لیکن مکمل بریک ڈاؤن کا امکان نظر نہیں آتا۔

اکرم ذکی نے پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ نوعیت کو ایک دوسرے پر دباؤ کا طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات جاری رہیں گے۔اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا جاری رہنا دونوں کے مفاد میں ہے۔

اکرم ذکی کا کہنا تھا کہ اگر تعاون جاری نہیں رہے گا تو طرفین کا نقصان ہے، پاکستان کا بھی ہے لیکن امریکہ کا بھی ہوگا۔ اُن کے الفاظ میں،’ امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اپنا کتنا نقصان چاہتے ہیں‘۔

اِس سوال پر کہ ایسے میں پاکستان کیا کرسکتا ہے، اکرم ذکی نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کے اندر جو مشکلات ہیں اُنھیں اُس کا مقابلہ کرنا پڑے گا، باقی جو امریکہ کے لیے کام کرتا تھا، شاید وہ نہ کرے۔ڈاکٹر رضوی پُر امید تھے کہ پاکستان امریکہ تعلقات فروغ پائیں گے، لیکن اُن کا کہنا تھا کہ اِس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اِن دونوں کے درمیان آئندہ کبھی اختلافات پیدا نہیں ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیکن، جب تک نیت یہ ہو کہ معاملےطے کرنے ہیں تو معاملات سفارت کاری سے طے کیے جاسکتے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG