رسائی کے لنکس

پاک امریکہ تعلقات کی بحالی کا پیچیدہ راستہ

  • Mumtaz Rahi

Pakistan's President Asif Ali Zardari, FILE August 15, 2010.

Pakistan's President Asif Ali Zardari, FILE August 15, 2010.

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے سرد مہری بلکہ کسی حد تک کشیدگی کا شکار ہیں۔ تعلقات کی حالیہ خرابی کا آغاز گزشتہ برس نومبر میں اس وقت ہوا تھا جب امریکی جنگی طیاروں نے افغانستان کی سرحد سے منسلک پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں 24پاکستانی سپاہی ہلاک ہوگئے تھے۔

کئی ماہ طویل اس سفارتی تعطل کے بعد اب پاکستان کی پارلیمان نے امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی بحالی کے لیے بعض شرائط عائد کی ہیں جن پر ان دنوں امریکہ اور پاکستان، ہر دو ملکوں میں بحث جاری ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ میں یہ خاصا غیر معمولی واقعہ ہے کہ دو طرفہ تعاون کے رہنما اصول حکومتِ پاکستان کے بجائے پارلیمان نے وضع کیے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کی سابق نائب وزیرِ خارجہ ٹیریسیٹا شیفر بھی اس پیش رفت کو بے نظیر قرار دیتی ہیں کیوں کہ ان کے بقول پارلیمان کی جانب سے خارجہ امور سے متعلق معاملے کے تعین کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

مس شیفر کے بقول پارلیمان کو اس لیے بیچ میں ڈالا گیا کیوں کہ دونوں حکومتیں اور شاید پاکستانی فوج بھی اپنے لیے کسی اوٹ کی متلاشی تھی۔ "فوج اور حکومت درحقیقت جو کچھ کرنا چاہتی تھیں اس کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ سیاسی تحفظ درکار تھا۔ اور بظاہر فوج اور حکومت دونوں ہی پارلیمان کی جانب سے اس معاملہ پر زیادہ سخت موقف اپنانے کے مخالف نہیں تھے"۔

تاہم کئی مبصرین اور ماہرین کی رائے ہے کہ ضروری نہیں کہ امریکہ دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے عائد کردہ ان تمام شرائط کو تسلیم بھی کرے کیوں کہ ان کے بقول اب امریکہ کو نیٹو رسد کے لیے پاکستان کے زمینی راستوں کی اتنی ضرورت نہیں رہی جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔

امریکہ کی 'جارج ٹائون یونی ورسٹی' سے منسلک جنوبی ایشیا کی امور کی ماہر کرسٹین فیئر اسی خیال کی حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے نیٹو کی رسد کے لیے اپنے زمینی راستے بند کرنے کے نتیجے میں امریکہ اور نیٹو ان کے بغیر جینا سیکھ چکے ہیں۔

فیئر کا کہنا ہے کہ نیٹو اب زمینی راستوں کے بجائے فضا کے ذریعے افغانستان میں تعینات اپنی افواج کو رسد پہنچا رہا ہے اور گوکہ یہ ایک مہنگا ذریعہ ہے لیکن بہر حال ایک متبادل کی حیثیت سے موجود ہے۔

فیئر کے بقول پاکستان کے ساتھ تعلقات میں امریکہ کے لیے زیادہ اہم معاملہ ڈرون حملوں کا ہے جس پر پاکستانی پارلیمان نے مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

انٹیلی جنس ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ امریکہ یہ حملے پاکستانی حکام کی رضامندی سے کرتا ہے اور اس ضمن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان کوئی باقاعدہ خفیہ معاہدہ یا کسی نوعیت کی مفاہمت موجود ہے۔

مس شیفر کے بقول گو کہ صدر زرداری اور ان کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے پارلیمان کے ذریعے کڑی شرائط عائد کرکے اپنے لیے سیاسی تحفظ حاصل کرلیا ہے لیکن اگر امریکہ ایسا کوئی معاہدہ منظرِ عام پر لے آیا تو زرداری حکومت کی ساکھ کو بڑا دھچکا پہنچے گا۔

کرسٹین فیئر کا کہناہے کہ درحقیقت پارلیمان اور سول حکومت کے بجائے پاکستان کی فوج وہ اصل قوت ہے جو پاک امریکہ تعاون کی نوعیت کا تعین کرے گی۔

لیکن تمام تر خدشات اور تحفظات کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ باہمی اعتماد پر مبنی تعمیری تعلقات کے قیام کے لیے پارلیمان کی جانب سے عائد کردہ شرائط پر پاکستانی حکومت کےساتھ مذاکرات کے منتظر ہیں۔

XS
SM
MD
LG