رسائی کے لنکس

ایک امریکی شہر کے پاکستانی میئر


میئر ہارون سلیم

میئر ہارون سلیم

ہارون سلیم کا کہنا تھا کہ ا گرچہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ میئر بنیں گے لیکن حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ انھیں یہ قدم اٹھانا پڑا ۔

امریکہ شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں غیر ملکی تارکین وطن سیاسی نظام کا تیزی سے حصہ بن رہے ہیں۔ امریکی ریاست واشنگٹن کے ایک شہر گرینیٹ فالس کے میئر پاکستانی شہری ہارون سلیم کہتے ہیں کہ امریکہ کو تارکین وطن کا ملک شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ملک یہاں آنے والے ہر شخص کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ میئر ایسے وقت بنے جب انھیں اس کی بلکل بھی امید نہیں تھی۔ کیونکہ ان کے مطابق گرینیٹ فالس 99 فیصد سفید فام امریکی عیسائیوں کا شہر ہے اور سال 2009 میں جب وہ اس شہر میں میئر کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے تو وہ اپنے شہر میں بسنے والے ناصرف واحد غیر سفید فام اور پاکستانی تھے بلکہ واحد مسلمان بھی۔
لیکن پھر بھی وہ 65 فیصد ووٹ حاصل کر کے اس شہر کے میئر منتخب ہوئے اور یہ خبر مقامی اخباروں نے نمایاں کر کے شائع بھی کی۔

گرینیٹ فالس کا شہر امریکی ریاست واشنگٹن میں واقع ہے، یہ ریاست کاروباری لحاظ سے نہایت اہم تصور کی جاتی ہے جہاں مائیکرو سافٹ ، ایما زون اور بوئنگ جیسی بین الاقوامی کمپنیوں کی بنیاد رکھی گئی۔

اس کے علاوہ یہ امریکہ کی واحد ریاست ہے جس کا نام کسی امریکی صدر کے نام پر رکھا گیا۔ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے نام پر قائم کی گئی یہ ریاست امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کے پاس واقع ہے۔

یہ شہر کان کنی اور درختوں سے کاٹی جانے والی لکڑی کی درآمد کے باعث جانا جاتا تھا جس کی آبادی ہمیشہ سے سفید فام افراد پر مشتمل رہی ہے۔ لیکن نئی صدی کا آغاز اس شہر میں ایک بڑی تبدیلی سے ہوا جب ایک پاکستانی تارک وطن اپنی بیوی اور ایک بیٹی کے ہمراہ اس شہر میں آ کر آباد ہوا۔


ہارون سلیم وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے

ہارون سلیم وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے

سال 2000 میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخص ہارون سلیم نے اس شہر میں ایک ریسٹورنٹ شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا کاروبار چل پڑا اور وہ مقامی لوگوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے۔ اور اتنے کامیاب ہو گئے کہ سال 2009 میں وہ اس شہر کے میئر بن گئے، لیکن ان کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ میئر بن جائیں گے، لیکن حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ انھیں یہ کرنا پڑا ۔ اپنے اس سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ سن 1979 میں راولپنڈی سے امریکی ریاست کیلی فورنیا آبسے۔ لیکن کچھ امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے انھیں مختلف شہروں میں جانا پڑا اور آخر کار کئی شہروں اور ریاستوں میں رہنے کے بعد وہ گرینیٹ فالس آئے۔

انھوں نے بتایا کہ جب ستمبر گیارہ 2001 کے واقعات ہوئے تو انھیں لگا کہ اب شاید انھیں کچھ مشکلات کا سامنا ہوگا۔ لیکن ان کے مطابق اس دن شہر کے کئی لوگ ان کےپاس آئے اور انھیں کہا کہ وہ یہاں بلکل محفوظ ہیں اور انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

امریکہ کے بڑے شہروں کے برعکس جہاں کچھ نفرت پر مبنی جرائم دیکھنے میں آئے، ہارون سلیم کو ایسی کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوا۔ بلکہ بہت محبت ملی اور اتنی محبت کہ اس شہر میں آنے کے 9 سال بعد اسی شہر کے لوگوں نے ہارون سلیم کو اپنا میئر منتخب کرلیا۔

ہارون سلیم کا کہنا تھا کہ ا گرچہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ میئر بنیں گے لیکن حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ انھیں یہ قدم اٹھانا پڑا ۔ ان کے مطابق ہوا یوں کہ اس شہر کے پولیس چیف کی ساتھ ان کے کچھ اختلافات ہو گئے، پولیس چیف نے انھیں تنگ کرنا شروع کردیا۔ وہ اپنی شکایت لے کر میئر کے پاس گئے لیکن جب میئر نے بھی کچھ نا کیا تو انھوں نے سوچا کہ کیون نا وہ خود ہی میئر بن جا ئیں اور حالات کو ٹھیک کریں۔

تو اس طرح ایک مشکل میں آجانے سے انھوں نے یہ قدم اٹھایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی ہم ان سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ اس وقت حالات سے ڈر کے یہ شہر چھوڑ دیتے تو کہانی مختلف ہوتی۔


وائس آف امریکہ کے ثاقب الاسلام میئر سلیم اور پولیس چیف کے ہمراہ

وائس آف امریکہ کے ثاقب الاسلام میئر سلیم اور پولیس چیف کے ہمراہ

ہم نے شہر کے موجودہ پولیس چییف ڈینس ٹیلر سے بھی ملاقات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں مذہبی اور انسانی رواداری کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ پاکستان کے ایک شہر سے، ایک مسلمان تارک وطن آکر امریکہ کی دور دراز کی ایک ریاست کے شہر کا میئر بن جاتا ہے جہاں کی آبادی مکمل طور پر سفید فام عیسائیوں پر مشتمل ہے جہاں شاید تارکین وطن کو بسنے میں مشکلات کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا لوگ سلیم کو ایک اچھے انسان کے طور پر پہچانتے ہیں ، ان کی عزت کرتے ہیں اور یہی چیز انھیں منفرد بناتی ہے اور اس شہر نے انھیں مکمل طور پر اپنا لیا ہے۔

ہارون سلیم نے کہا کہ ایک پاکستانی ایک مسلمان ہوتے ہوئے ان کا اس شہر کا میئر بننا جہاں وہ اکیلے ہی مسلمان ہیں اور اکیلے ہی پاکستانی، اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ میں عام لوگ کسی کے مذہب، اور رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر ان کے بارے میں سوچتے ہیں اور انھیں قبول کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG