رسائی کے لنکس

کپاس کی فصل کو ’وائرس‘ سے بچانے کے لیے امریکی معاونت


 امریکی اور پاکستانی سائنسدان

امریکی اور پاکستانی سائنسدان

امریکی محکمہ زراعت روزگار کو بہتر بنانے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے پاکستانی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کی مدد کررہا ہے۔

امریکہ کے ماہرین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گز شتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے پاکستانی ہم منصب سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کپاس کی پیداوار کو متاثر کرنے والی تباہ کن بیماری سے بچاؤ کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان میں ’کاٹن لیف کرل وائرس‘ یا پتہ مروڑ جرثومہ کی بیماری سے سالانہ 15 لاکھ گانٹھیں ضائع ہوتی ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکی سائنسدانوں کی ٹیم نے لاہور اور فیصل آباد کا بھی دورہ کیا جہاں اُنھوں امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی جانب سے فراہم کردہ گرین ہاؤسز میں بیجوں کی آزمائشی کاشت کا معائنہ بھی کیا۔

بیان کے مطابق یہ دورہ کاٹن لیف کرل وائرس کے خلاف مدافعت کے حامل بیج کی تیاری کے لیے پاکستانی سائنسدانوں کے ساتھ مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکہ پاکستان کے زرعی شعبے بالخصوص چھوٹے کاشتکاروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے پاکستانی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے

امریکی محکمہ زراعت کے سائنسدان ڈاکٹر برائین شیفلر نے بیان میں کہا کہ اس مہلک بیماری کے خلاف پاکستانی محققین کے کام میں پیش رفت متاثر کن ہے۔

’’امریکی محکمہ زراعت اس بیماری کے پاکستان کی کپاس کی فصل پر اثرات کو کم کرنے اور پاکستانی کاشت کاروں کے لیے فصل کی پیداوار بڑھانے کی کوششوں میں تعاون کرنے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔‘‘

امریکی محکمہ زراعت روزگار کو بہتر بنانے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے پاکستانی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کی مدد کررہا ہے ۔
XS
SM
MD
LG