رسائی کے لنکس

پاکستان امریکہ جوہری تعاون ہو سکتا ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن پوسٹ کے کالم میں کہا گیا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ بھارت سول جوہری معاہدے کی طرز پر پاکستان کے ساتھ بھی ایک جوہری معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں ایک کالم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک معاہدے پر مذاکرات میں مصروف ہیں جن کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سول جوہری معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

منگل کو ڈیوڈ اگنیشس نے اپنے کالم میں دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور ان کے ڈلیوری سسٹم یعنی ترسیل کے نظام پر نئی حدود اور کنٹرول لاگو کرنے کے لیے سفارتی ذرائع تلاش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ بھارت سول جوہری معاہدے کی طرز پر پاکستان کے ساتھ بھی ایک جوہری معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

2005 میں طے پانے والے امریکہ بھارت سول جوہری معاہدے کے بعد امریکہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کو ان ضوابط سے چھوٹ دینے کی حمایت کی تھی جن کے تحت ان ملکوں سے جوہری تجارت نہیں کی جا سکتی جنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

امریکہ کے بھارت سے سول جوہری معاہدے کے بعد بھارت کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی جوہری تعاون کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ شہزاد چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان کا امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ طے پا جائے تو یہ پاکستان کے لیے بہت اچھا ہو گا۔ ان کے بقول امریکہ کے ساتھ سول جوہری معاہدے نے بھارت کی باضابطہ طور پر جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار کی حالانکہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہوئے۔

’’اور اس سے بھی بھارت کو بہت فائدہ پہنچ رہا تھا۔ اس کی قانونی حیثیت مضبوط ہوئی اور دوسرا اسے جوہری سپلائیز اور ٹیکنالوجیز جو اس کو چاہئیں تھی وہ ملنا شروع ہو گئیں۔ اگر پاکستان کے ساتھ بھی اس قسم کا کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تو پھر پاکستان کی پوزیشن بھارت کے برابر ہو جائے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کے مفاد میں بھی ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی طور پر مسائل رہے ہیں۔ شہزاد چوہدری کے بقول اگر امریکہ دونوں ممالک کے ساتھ ایک ہی طرح کا رویہ رکھے گا تو اس سے خطے میں کشیدگی کم ہو گی۔

یاد رہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کی صورتحال کے حوالے سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس لیے یہ مذاکرات امریکہ کے لیے بہت اہم ہیں۔

ڈیوڈ اگنیشس نے مذاکرات سے باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کو بھارت کے خلاف دفاع تک محدود کرنے کی تجویز پر غور کے لیے کہا ہے۔

اس کے عوض امریکہ پاکستان کے لیے بھی نیوکلیئر سپلائیرز گروپ سے تعاون میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG