رسائی کے لنکس

دو طرفہ تناؤ کو دور کرنے کے لیے مخصوص قدم اٹھائے جائیں، امریکی اخبارات سے

  • صلاح احمد

دو طرفہ تناؤ کو دور کرنے کے لیے مخصوص قدم اٹھائے جائیں، امریکی اخبارات سے

دو طرفہ تناؤ کو دور کرنے کے لیے مخصوص قدم اٹھائے جائیں، امریکی اخبارات سے

امریکہ نے پاکستان کے لیے امداد کی فراہمی کو اِس بات سے مشروط کر دیا ہے کہ وہ القاعدہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں امریکی مقاصد کے حصول میں پیش رفت کا مظاہرہ کرے: اخباری رپورٹ

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ ہے کہ وہائٹ ہاؤس نے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کی فراہمی کو اِس بات سے مشروط کر دیا ہے کہ وہ القاعدہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں امریکی مقاصد کے حصول میں پیش رفت کا مظاہرہ کرے۔

امریکہ نے پاکستان سے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ دو طرفہ تناؤ کو دور کرنے کے لیے مخصوص قدم اٹھائے۔

اخبار کہتا ہے کہ ’یہ کلا سیفائڈ سسٹم‘ اسامہ بن لادن کی پاکستان کی پناہ گاہ پر حملہ کرکے اُس کو ہلاک کرنے کے بعد سے نافذ کیا گیا ہے اور یہ پاکستان کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے اُس رشتے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جِس کے تحت پاکستان کو کارکردگی کی بنیاد پر ادائگی ہوتی تھی۔

کیونکہ، اخبار کے مطابق ، اِس بارے میں شبہات بڑھ گئے ہیں کہ دونوں ملک مشترکہ مفادات کی بنیاد پر وسیع تر اتحاد کو فروغ دے سکتے ہیں۔

اخبار نے سرکردہ امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مئی میں بن لادن پر حملے اور پاکستان میں سی آئی اے کے ایک ٹھیکیدار کی گرفتاری کے بعد انسدادِ دہشت گردی میں باہمی تعاون میں بھاری تنزل آیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ نیا طرزِ عمل اُس کوشش کا غماز ہے جِس کا مقصد یہ ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے کام میں جتنا بھی ممکن ہو باقیماندہ تعاون برقرار رکھا جائے تاکہ ایسے میں جب وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے ، امریکی عہدے دار پاکستان میں القاعدہ کی باقیماندہ قیادت پر بالآخر ایک ہلاکت خیز وار کرسکیں۔

اخبار کہتا ہے کہ وہاؤٹ ہاؤس کانگریس کے اِن مطالبات کو جُزوی طور پر مانتا جارہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کڑی شرائط لگانی چاہئیں۔ متعدد ارکان کانگریس نے فوجی امدادی میں بھاری کٹوتی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ آجکل جِن معاشی مشکلات میں سے گزر رہا ہے، اُس پر’ نیو یارک ٹائمز‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ کانگریس اور صدر نےایک سال تک بحث میں کٹوتیاں لگانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے جسے اخبار ناقص پالیسی کی فتح سے تعبیر کرتا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ معیشت ڈگمگا رہی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح نو اعشاریہ ایک فی صد ہے۔ لیکن بے روزگاری کی یہ شرح اصل میں 16اعشاریہ ایک فی صد ہے۔ اگر اُن ڈھائی کروڑ لوگوں کو بھی اِس میں شامل کیا جائے جِن کو صرف جُز وقتی کام ملتا ہے اور جنھوں نے اب نوکری کی تلاش کو ہی چھوڑ دیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ استصواب منعقد کرنے والوں کو لوگ بار بار جتا چکے ہیں کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا بجٹ کےخسارے کو ختم کرنے سےکہیں زیادہ اہم ہے۔ لیکن، اِس کے باوجود ری پبلیکن قیادت کا زور کفایت شعاری پر ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اُن

کاخیال ہے کہ بے روزگاری کی شرح اونچی ہوگی تو اس سے صدر اوباما کا اُن کے مقابلے میں زیادہ نقصان ہوگا۔

لہٰذا، اخبار کے خیال میں امکان یہی ہے کہ وہ اُن مساعی کی مزاحمت کریں گے جِن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے چاہے اِس کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔

اخبار کہتا ہے کہ روزگار کےمواقع کی عدم موجودگی میں معیشت اور بجٹ دونوں میں مزید ابتری آئے گی۔ وقت آگیا ہے کہ صدر اوباما کانگریس کو روزگار سے متعلق ایک ایسی تجویز بھیجیں جس کو عوامی مقبولیت حاصل ہے اور جِس سے ری پبلیکنز کو شرم

دلانے کی کوشش کی جائے۔

اُنھیں سینیٹ کے تعاون کی بھی ضروری رہے گی جس کو چاہیئے کہ روزگار سے متعلق ایک کے بعد دوسرا بِل پیش کرے اور اس کے ارکان کو مجبور کرے کہ یا تو وہ روزگار پیدا کرنے کے منصوبوں کی حمایت کریں یا پھر یہ بات ریکارڈ پر آنے دیں کہ اُنھیں اِس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

اخبار ’سیاٹل ٹائمز‘ کہتا ہے کہ صدر اوباما کو 2012ء کے صدارتی انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔ اخبار کہتا ہے کہ نیوز لائن پول کے مطابق 90000افراد کی رائے معلوم کی گئی تھی۔ اُن میں سے 27فی صد نے کہا کہ وہ اوباما کو دوبارہ منتخب کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے جب کہ 69فی صد نے کہا کہ وہ کسی اور کو ووٹ دیں گے۔

ظاہر ہے اس سے اوباما کی پالیسیوں پر وسیع پیمانے کی عدم اطمینان کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ جو اب دینے والوں نے صدر کی اِس تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے کہ ملک میں مقیم غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکیوں کو عام معافی دی جائے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG