رسائی کے لنکس

پینٹاگان: شہریوں کے ممکنہ جانی نقصان کی تحقیقات کا فیصلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوجی عہدیداروں نے منگل کو کہا کہ امریکی سنٹرل کمانڈ جو اس اتحاد کی قیادت کر رہی ہے وہ شام اور عراق میں رپورٹ ہونے والے ایسے تین واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگان‘ کی طرف سے پہلی بار اعتراف کیا گیا ہے کہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کے خلاف کی جانے والی فضائی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو بھی جانی نقصان پہنچا۔

فوجی عہدیداروں نے منگل کو کہا کہ امریکی سنٹرل کمانڈ جو اس اتحاد کی قیادت کر رہی ہے وہ شام اور عراق میں رپورٹ ہونے والے ایسے تین واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو فوج نے ہمیشہ سے سنجیدگی سے لیا ہے۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ عراق اور شام میں کتنے عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ الزامات کس نے عائد کیے۔

تاہم اس طرح کے الزامات ہیومن رائٹس واچ اور برطانیہ میں قائم سئیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس کی طرف سے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

کربی نے کہا کہ "ہم ہر بار جب بھی کارروائی کرتے ہیں تو اس (بات) کا دھیان رکھتے ہیں کہ اس سے عام شہریوں کا کم سے کم نقصان ہو۔''

انھوں نے مزید کہا کہ "جب بھی عام شہری زخمی (یا) ہلاک ہوئے۔ اس کو ہم نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہم اس کی تحقیق کرتے ہیں"۔

سئیرین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی کارروائیوں کی وجہ سے صرف شام میں 52 عام شہری ہلاک ہوئے۔

اس تنظیم کے ایک عہدیدار رامی عبدالرحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایک طرف یہ تعداد شام کی سرکاری فورسز اور دولت اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی نسبت بہت کم ہے، تاہم اس لڑائی میں ہر فرد کی ہلاکت انصاف کا تقاضا کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ "ہم تمام شامی شہریوں کے انسانی حقوق کے لیے کام کرتے ہیں"۔

عبدالرحمٰن نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سئیرین آبزرویٹری نے امریکی فضائی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں کوئی بھی رپورٹ نہیں دیکھی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پینٹاگان کی تحقیقات پہلے کی فضائی کارروائیوں میں ہونے والی ممکنہ ہلاکتوں یا زخمی ہونے والوں کے متعلق ہے۔

دوسری طرف عراق کے انبار صوبے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ جھڑپوں اور ایک خود کش حملے میں عراقی فوج اور حکومت کی حامی ملیشیاؤں کے کم از کم 23 اہلکار ہلاک ہوئے۔

امریکی دستوں نے دسمبر میں انبار صوبے میں دولت اسلامیہ کے باغیوں کی طرف سے متواتر گولہ باری کے باوجود عراقی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینی شرو ع کی تھی۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو نے کہا کہ عراقی دستوں کی تربیت اور مشاورت کے لیے الاسد نامی فوجی اڈے پر 320 امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG