رسائی کے لنکس

قندوز میں اسپتال حملے پر امریکی فوجی اہلکاروں کو سزا


حملے کا نشانہ بننے والا اسپتال

حملے کا نشانہ بننے والا اسپتال

امریکی سنٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان کرنل پیٹرک رائڈر کا کہنا تھا کہ "اس معاملے سے قریبی طور پر منسلک اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔"

افغانستان کے شہر قندوز میں گزشتہ سال ایک بین الاقوامی طبی امدادی ادارے کے زیر انتظام اسپتال پر ہونے والے فضائی حملے کے معاملے پر حکام کے بقول امریکی اہلکاروں کو سزا دی جائے گی۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان کرنل پیٹرک رائڈر کا کہنا تھا کہ "اس معاملے سے قریبی طور پر منسلک اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔"

سزاؤں سے متعلق کھلے عام تو کوئی بات نہیں کہی گئی لیکن اطلاعات کے مطابق ان میں اہلکاروں کی سرزنش پر خط و کتابت بھی شامل ہے، جو ان کی ترقیاں روک سکتی ہے۔

محکمہ دفاع جلد ہی اس معاملے پر کی گئی اپنی تحقیقات جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں قندوز میں "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کے زیر انتظام اسپتال پر ہونے والے فضائی حملے میں طبی عملے اور مریضوں سمیت 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے اس وقت کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے کہا تھا کہ "یہ حملہ ایک ایسی انسانی غلطی کا نتیجہ تھا جس سے بچا جا سکتا تھا"۔ انھوں نے اسے ایک افسوسناک غلطی قرار دیا تھا۔

گزشتہ سال امریکی فوج کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق امریکی فورسز کا یہ حملہ ہدف سے متعلق فراہم کی گئی غلط معلومات کا شاخسانہ تھا۔

افغانستان کے انٹیلی جنس ادارے کا ماننا تھا کہ اس عمارت میں طالبان جنگجو چھپے ہوئے ہیں اور افغان فورسز یہاں کارروائی کے دوران امریکی فضائی مدد کی درخواست کی تھی۔

XS
SM
MD
LG