رسائی کے لنکس

کانگریس انٹیلی جنس کمیٹی میں پیٹریس کی گواہی

  • واشنگٹن

ڈیوڈ پیٹریس(فائل)

ڈیوڈ پیٹریس(فائل)

کئی قانون سازوں کو یہ خدشہ ہے کہ لیبیا میں امریکی قونصلیٹ کی سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریس جمعے کے روز کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر ستمبر کے مہلک حملے کے بارے میں گواہی کے لیے پیش ہوئے۔

انہوں نے امریکی قونصیلٹ پر حملے اور اس بارے میں اوباما انتظامیہ کے ابتدائی بیانات پر قانون سازوں کے سوالات کے جواب دیے۔


انہوں نے کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ اس حملے میں دہشت گردوں کا ہاتھ موجود تھا۔

ریٹائرڈ جنرل نے جمعے کی سماعت میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے قانون سازوں کو بتایا کہ حملے سے بچاؤ کے لیے امریکہ کا ردعمل کیاتھا

کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل انٹیلی جنس کمیٹی نے جمعرات کو بنددروازوں کے پیچھے امریکی قونصلیٹ پر حملے کی سماعت کی جس میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز اور تین امریکی سفارت کار ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کے عہدے دار گواہی کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

کئی قانون سازوں کو یہ خدشہ تھا کہ لیبیا میں امریکی قونصلیٹ کی سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے اوریہ کہ آیا چھ نومبر کے صدارتی انتخابات سے پہلے کسی ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لیے بعد ازاں اوباما انتظامیہ نے حقائق چھپانے کی کوشش کی تھی ۔

ڈیوڈ پیٹریس نے ایف بی آئی کی جانب سے اپنی سوانح نگار پاؤلا براڈ ویل کے ساتھ غیر ازدواجی روابط رکھنے کی تحقیقات کے بعد پچھلے ہفتے سی آئی اے کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس واقعہ نے قومی سلامتی کے افشا سے متعلق سوالات کھڑے کردیے تھے۔

اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے جمعرات کو کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پیٹریس اسکینڈل سے قومی سلامتی کے کسی پہلو کے افشا کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔

ایک اور خبر کے مطابق ہاؤس کی خارجہ امور کی چیئر مین الینا راس لیٹینن نے کہاہے کہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اگلے ماہ کمیٹی کی سماعت کے دوران گواہی کے لیے پیش ہوں گی۔
XS
SM
MD
LG