رسائی کے لنکس

فلپائن، جس کا 2014ء میں فوجی بجٹ 1.9 ارب ڈالر تھا، چین کی جانب سے سمندری علاقے کے حق ِملکیت کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے باعث اپنے بحری بیڑوں کو دفاع کے لیے تیار رکھنا چاہتا ہے

امریکہ اور فلپائن نے رواں ہفتے جنوبی بحیرہِ عرب میں باہمی فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔

امریکہ اور فلپائن کے درمیان یہ فوجی مشقیں ایک حالیہ فوجی معاہدے کا نتیجہ ہیں۔

فلپائن اور چین کے درمیان گذشتہ کچھ عرصے سے سمندری حدود کی ملکیت پر تنازع چلا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ سمندری حدود ان کی ملکیت ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فلپائن اب اپنی بحری کارکردگی کو بڑھانا چاہتا ہے اور یہ مشقیں بھی اسی سمت ایک سفر ہیں۔

اس برس ہونے والی ان فوجی مشقوں میں فلپائن کے دو جدید ترین اور بڑے بحری بیڑے شامل کیے جائیں گے۔ فلپائن میں بحری مشقوں کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جیم برنارڈ ڈینو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسے وقت میں چند سنگین ’دھمکیوں‘ سے نبرد آزما ہے جس وقت وہ اپنی فوجی طاقت کو ایک ٹھوس شکل دینے میں مصروف ہے۔

ریئر ایڈمرل جیم برنارڈ ڈینو کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجی دستوں کو سخت مشق کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے بحری بیڑے تیار رکھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ سمندری پانیوں کی بہتر مانیٹرنگ کے سلسلے کو زیادہ موثر بنایا جائے۔

فلپائن، جس کا 2014ء میں فوجی بجٹ 1.9 ارب ڈالر تھا، چین کی جانب سے سمندری علاقے کے حق ِملکیت کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے باعث اپنے بحری بیڑوں کو دفاع کے لیے تیار رکھنا چاہتا ہے۔

واضح ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے چین اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان سمندری پانیوں کی ملکیت کے حوالے سے تنازعات شدت اختیار کرتے جا رہے اور چین نے فلپائن، ویتنام، برونائی، ملیشیاء اور تائیوان کی سمندری حدود پر اپنا حق جما رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG