رسائی کے لنکس

حمزہ بن لادن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ سنہ 2015 میں اُنھوں نے باضابطہ طور پر القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی؛ اور گذشتہ دو برسوں کے دوران اُنھوں نے عام بیانات دیے ہیں جن میں مستقبل میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے

امریکی محکمہٴ خارجہ نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے، حمزہ بن لادن کو دہشت گرد فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حمزہ بن لادن، جن کی عمر 20 برس کے پیٹے میں ہے، اُن کے لیے کہا جاتا ہے کہ جب 2011ء میں امریکی افواج کی خفیہ کارروائی میں اُن کا والد ہلاک ہوا، تب سے وہ القاعدہ کے دہشت گرد حلقوں میں سرگرم عمل تھے۔

محکمہٴ خارجہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی امریکی شہری کے لیے دہشت گرد فہرست میں شامل کسی شخص کے ساتھ کاروباری لین دین کی ممانعت ہے۔

حمزہ بن لادن کے لیے کہا جاتا ہے کہ سنہ 2015 میں اُنھوں نے باضابطہ طور پر القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے؛ اور گذشتہ دو برسوں کے دوران اُنھوں نے عام بیانات جاری کیے جن میں مستقبل میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اُنھوں نے اپنے والد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی بھی دھمکی دی ہے۔

اضافی طور پر، جمعرات ہی کے روز، امریکی محکمہٴ خارجہ نے مصر کے شہری، ابراہیم البنا کو، جو جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ کا سینئر رُکن ہیں، اُنھیں بھی دہشت گرد فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG