رسائی کے لنکس

مشرقی یورپ میں تعینات امریکی فوج میں اضافے کا فیصلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں یورپ میں مسلح امریکی فورسز موجود ہوں گی۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پینٹاگان آئندہ سال فروری سے روس سے خطرہ محسوس کرنے والے اپنے اتحادیوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے جاری کوششو ں کے سلسلے میں مشرقی یورپ کی سرحدوں پر مکمل سازوسامان سے لیس ایک لڑاکا آرمر بریگیڈ کو تعینات کرے گا۔

یورپ میں امریکی کمان کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کے بعد یورپ میں امریکہ کی فوجی موجودگی تین بریگیڈ پر مشتمل ہو گی اور ان کو ہر نو ماہ کے بعد تبدیل کر دیا جائے گا اور یہ ایسٹونیا، لیٹویا، لیتھوینیا ، پولینڈ، رومانیہ، بلغاریہ اور ہنگری میں فوجی مشقیں کریں گے۔

یورپ میں مستقل طور پر تعینات امریکی فوج کے اہلکاروں تعداد تقریباً 62,000 ہے جن میں سے 25,000 صرف بری فوج سے تعلق رکھتے ہیں اور اس نئے منصوبے کے تحت کسی بھی وقت ان فوجیوں کی تعداد 29,200 تک پہنچ جائے گی۔

امریکہ کے یورپی کمان کے سربراہ جنرل فلپ بریڈلو نے کہا کہ (اضافی فورسز کی) تعیناتی کے فیصلے کے بعد امریکی اتحادی اکثر جدید سامان سے لیس ایک آرمر بریگیڈ کو اپنے ملکوں میں موجود پائیں گے۔

فوج کا کہنا ہے کہ یورپ میں استعمال ہونے والے موجودہ سازوسامان کو بلجیئم، نیدرلینڈ اور جرمنی میں محفوظ کیا جائے گا جو "ضرورت کے وقت اضافی لڑاکا طاقت فراہم کر سکے گا۔‘‘

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں یورپ میں مسلح امریکی فورسز موجود ہوں گی اور یہ اقدام پینٹاگان کی طرف سے گزشتہ سال دی جانے والی اس تجویز کے تحت عمل میں لایا جارہا ہے جس کے تحت امریکی فوج کی دفاعی صلاحیت بڑھا کر روس کو یہ پیغام دینا ہے کہ اتحادیوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی قبول نہیں ہو گی۔

روس کی طرف سے 2014 میں یوکرین کے علاقے کریمیا پر قبضہ اور اس کی طرف سے بمبار طیاروں کی پروازیں نیٹو اتحادیوں میں تشویش کا باعث بنی ہیں۔

XS
SM
MD
LG