رسائی کے لنکس

امریکہ کا مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینے کا اعلان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یورپ کو درپیش پناہ گزینوں کے بحران کے پیشِ نظر امریکہ ان تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کرچکا ہے جنہیں وہ معمول کے مطابق پناہ فراہم کرتا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام اور بحرانوں کا شکار دنیا کے دیگر ملکوں سے فرار ہونے والے مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔

بدھ کو امریکی کانگریس کے ارکان کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کب اور مزید کتنے تارکینِ وطن کو پناہ دے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یورپ کو درپیش پناہ گزینوں کے بحران کے پیشِ نظر امریکہ ان تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کرچکا ہے جنہیں وہ معمول کے مطابق پناہ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ان تارکینِ وطن کی تعداد کا حتمی تعین کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جن کا بوجھ امریکہ اٹھاسکتا ہے۔

شام میں گزشتہ ساڑھے چار برس سے جاری خانہ جنگی کے باعث اب تک ایک کروڑ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جن میں سے 30 لاکھ شام کے پڑوسی ملکوں میں پناہ گزین ہیں جب کہ اندرونِ ملک بے گھری کا سامنا کرنے والے شامی باشندوں کی تعداد 65 لاکھ ہے۔

امریکہ نے اب تک شام سے ہجرت کرنے والے صرف 1500 افراد کو پناہ دی ہے اور محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک مزید 300 شامی تارکینِ وطن کی پناہ کی درخواستوں کو نبٹادیا جائے گا۔

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے بحران اور جنگ زدہ ملکوں سے ہجرت کرنے والے ہزاروں افرادکی غیر قانونی راستوں سے یورپ آمد کےباعث یورپی ممالک کو بحرانی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن یورپ کے صرف ایک ملک جرمنی پہنچے ہیں جس نے رواں سال آٹھ لاکھ تارکینِ وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پناہ کی متلاشی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث یورپی ملکوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تارکینِ وطن کی آبادکاری کے لیے آگے آئے۔

بعض امریکی قانون ساز بھی اوباما انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ شام اور دیگر بحران زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو پناہ دینے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

بدھ کو جان کیری سے ملاقات کےبعد ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹرک لیہے نے ارکانِ کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مختص 40 کروڑ ڈالر سے زائد رقم کی بحالی کے لیے ترمیم منظور کریں جسے امریکی سینیٹ نے 2016ء کے بجٹ سے نکال دیا تھا۔

ری پبلکن سینیٹر جان مکین نے بھی امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ کو درپیش تارکینِ وطن کے بحران سے نبٹنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے۔

یورپی کمیشن کے سربراہ یوں کلوڈ ینکر نے یونین کے رکن ملکوں میں ایک لاکھ 60 ہزار تارکینِ وطن کی آباد کاری کا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں رکن ممالک کے لیے تارکینِ وطن کی آباد کاری کا کوٹہ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بدھ کو یورپی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ یونین کے 22 رکن ملکوں کو پناہ گزینوں کو فوراً قبول کرنا چاہیے تاکہ بحران کی شدت کو کم کیا جاسکے۔

یورپی کمیشن یونین کے رکن ملکوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران کوٹے کے مطابق آباد کاری کے اس منصوبے کی توثیق کریں۔

نئے منصوبے میں پناہ گزینوں کے کوٹے کی تقسیم میزبان ملک کی اقتصادی پیداوار، آبادی، بے روزگاری کی شرح اور پہلے سے مقیم پناہ گزینوں کی تعداد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت جرمنی، فرانس اور اسپین سب سے زیادہ افراد کو پناہ دیں گے جس کے بعد پولینڈ، ہالینڈ، رومانیہ، بیلجیم اور سویڈن کے نام ہیں۔

لیکن اس منصوبے پر اتفاقِ رائے خاصا مشکل ہے کیوں کہ کئی یورپی حکومتیں پناہ گزینوں کی آبادکاری کے لیے کوٹے کے نفاذ کی مخالفت کر رہی ہیں۔

رواں سال جون میں یورپی یونین کے رکن ملکوں نے پناہ گزینوں کی آباد کاری سے متعلق ایسا ہی ایک منصوبہ مسترد کردیا تھا جس میں صرف 40 ہزار تارکینِ وطن کو پناہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG