رسائی کے لنکس

امریکہ میں ’نقلی پستول‘ لہرانے والا لڑکا پولیس کی فائرنگ سے ہلاک


ایک عینی شاہد جس نے اس لڑکے کے طرز عمل کے متعلق ایمرجنسی سروس کو اطلاع دی تھی کا کہنا تھا کہ غالباً یہ نقلی ہتھیار تھا لیکن یہ لوگوں کے لیے خوف کا باعث بن رہا تھا ۔

امریکہ کی ریاست اوہایو میں پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا بارہ سالہ بچہ اتوار کو انتقال کر گیا۔

ہفتے کو پولیس نے ایک بارہ سالہ لڑکے کو اوہایو کے شہر کلیولینڈ کے پارک میں گولی مار کر اُس وقت شدید زخمی کر دیا جب اُس بچے کے ہاتھ میں ایک پستول تھی جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ایک نیم خود کار ’’نقلی پستول‘‘ تھی۔

پولیس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اہلکاروں کی طرف سے لڑکے پر اس وقت گولی چلائی گئی جب اسے ہاتھ بلند کرنے کے لیے کہا گیا تو اس کی بجائے ایسا نظر آیا کہ اس نے اپنی کمر پر بندھے پستول کی طرف ہاتھ بڑھائے ہیں۔

پولیس کے ڈپٹی سربراہ ایڈ ٹامبا نے کہا کہ ایک پولیس افسر نے دو دفعہ گولی چلائی جب لڑکے نے ’کھلونا‘ پستول کو اپنی کمر سے نکالا، جس پر زرد رنگ کا حفاظتی نشان موجود نہیں تھا جو عمومی طور پرنال پر موجود ہوتا ہے۔

ایک عینی شاہد جس نے اس لڑکے کے طرز عمل کے متعلق ایمرجنسی سروس کو اطلاع دی تھی کا کہنا تھا کہ غالباً یہ نقلی ہتھیار تھا لیکن یہ لوگوں کے لیے خوف کا باعث بن رہا تھا۔

کاؤنٹی کے ایک طبی عملے کے ایک عہدیدار نے اس لڑکے کی شناخت تیمر رائس کے نام سے کی ہے۔

اس کے خاندان کے ایک اٹارنی ٹموتھی کچارسکی نے کہا کہ لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ ہفتہ کی دوپہر کو پارک میں گیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں تفصیل معلوم نہیں کہ گولی کیوں ماری گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بار ے میں جلدی میں اپنی رائے نہیں دیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ بالاآخر ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ (واقعہ) کس طرح ہوا۔

پولیس کی طرف سے اس واقعہ کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور اس واقعہ میں ملوث دو پولیس عہدیداروں کو اس واقعہ کی انکوائری تک انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

کاؤنٹی کے پراسیکیوٹر کا دفتر بھی اس واقعہ کی انکوائری کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG