رسائی کے لنکس

کیا صدارتی انتخابات میں صدر اوباما کا مقابلہ ہرمن کین سے ہوگا؟

  • گریگ فلیکس
  • سارہ زمان

Herman Cain

Herman Cain

کین جو امریکہ میں ایک پیزا کمپنی کے سربراہ رہ چکے ہیں یہاں ٹیکس کا نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیئے وہ ایک منصوبہ پیش کر رہے ہیں جس کے تحت عام افراد اور کارپوریشنزپر ٹیکس کی شرح نو فیصد ہوگی اور قومی سیلز ٹیکس بھی اسی شرح سے لیا جائے گا۔

امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم کے لیے فنڈز عوامی عطیات کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ صدارتی انتخابات میں ابھی تقریباً ایک سال باقی ہے، لیکن صدر اواباما کی انتخابی مہم کے لیے ان کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی گزشتہ تین ماہ کے دوران لگ بھگ سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

دوسری جانب ری پبلیکنز پارٹی پرائمری انتخابات کے ذریعے کسی متفقہ امیدوار کی تلاش کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اورٹیلی ویژن چینل این بی سی کے مرتب کردہ رائے عامہ کے ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق سیاہ فام ری پبلکن امید وار ہرمن کین 27 فیصد حمایت کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ریاست میساچوسٹس کے سابق گورنر مِٹ رامنی 23 فیصد حمایت کے ساتھ دوسرے اور ریاست ٹیکسس کے گورنر رِک پیری 16 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

ری پبلکن نامزدگی حاصل کرنے کے لیے پرامید ہرمن کین کی مقبولیت ایک مہینے کے دوران پانچ فیصد سے بڑھ کر 27 فیصد ہو گئی ہے۔ اورکیا یہ ممکن ہے کہ2012کے انتخاب میں صدراوباما کو چیلنج کرنے والا بھی کوئی سیاہ فام ہی ہو؟

ہرمین کین ان دنوں جہاں بھی جاتے ہیں ان کے حامی ان کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔

بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنا ان کے لیے شاید ہی ممکن ہو۔ لیکن ہرمین کین اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

ہرمین کین کے پاس سیاست کا کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی مٹ رومنی اور رک پیری جیسے امیدواروں کی طرح ان کی انتخابی مہم کے پاس زیادہ سیاسی کارکن یا مالی سرمایہ ہے ۔ لیکن ریاست فلوریڈا میں ہونے والے ایک جائزے میں ہرمین کین دیگر تمام انتخابی امیدواروں سے بازی لے گئے۔

کین جو امریکہ میں ایک پیزا کمپنی کے سربراہ رہ چکے ہیں یہاں ٹیکس کا نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیئے وہ ایک منصوبہ پیش کر رہے ہیں جس کے تحت عام افراد اور کارپوریشنزپر ٹیکس کی شرح نو فیصد ہوگی اور قومی سیلز ٹیکس بھی اسی شرح سے لیا جائے گا۔

معاشی ماہرین کی اس منصوبے کے بارے میں رائے ملی جلی ہے لیکن ہرمین کین کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ ملک کو درپیش مالیاتی مسائل حل کر سکتا ہے۔

اس ہفتے امریکی ٹی وی چینل این بی سی اور اخبار وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے کیے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں ہرمین کین اور ری پبلیکن پارٹی کے اب تک کے سب سے مضبوط نظر آنے والے امیدوار مٹ رومنی کی مقبولیت ایک برابر تھی۔

آنے والے دنوں میں ریپبلیکن پارٹی کے دیگر امیدوار ہرمین کین کے ٹیکس منصوبے کو مزید تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔ لیکن اگر ری پیبلیکن ووٹروں نے ان کی سوچ کی حمایت کر دی تو ممکن ہے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کو چیلینج کرنے والا امیدوار بھی ایک سیاہ فام ہی ہو۔

XS
SM
MD
LG