رسائی کے لنکس

امریکی سیاسی پارٹیوں کے اختلافات قانون سازی میں حائل

  • مائیکل بامین

امریکی سیاسی پارٹیوں کے اختلافات قانون سازی میں حائل

امریکی سیاسی پارٹیوں کے اختلافات قانون سازی میں حائل

وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں ری پبلیکن پارٹی امریکی ایوان زیریں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ماہرین کئی اہم امور پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہونے کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں ۔ حال ہی میں ری پبلیکن راہنماؤں نے پچھلے سال منظور ہونے صحت عامہ کی اصلاحات کے کو ختم کرنے کا بل لانے کا اعلان کرچکے ہیں ۔ اسی طرح حکومتی اخراجات، ریٹائرڈ افراد کی پنشن ، توانائی اور امیگریشن کے حوالے سے بھی دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

حالیہ برسوں میں امریکہ میں کوئی بھی سیاسی پارٹی پوری طرح اپنے ایجنڈے پر عمل نہیں کر سکی یا پھر اپنے اصولوں پر سمجھوتا۔ جس کی وجہ اس کی راہ میں کھڑی ہونے والی رکاوٹیں ہیں۔ امریکی سینٹ میں قوانین کو پاس ہونے سے روکنے کے لیے گزشتہ دو برسوں میں جس قدر بلز پیش کیے گئے ہیں اتنے کل ملا کر 19ویں اور 20ویں صدی میں بھی پیش نہیں کیے گئےتھے۔

تجزیہ کار نارمن اورن سٹین کا کہناہے کہ میں گزشتہ 41 برسوں سے واشنگٹن میں ہوں اور کانگریس کی سیاست کا قریب سے مشاہدہ کررہا ہوں۔ میں نے اتنی کشیدگی پہلے نہیں دیکھی۔

صدر اوباما اس وعدے کے ساتھ وہائٹ ہاوس میں آئے تھے کہ وہ واشنگٹن کی سیاست کا انداز تبدیل کریں گے۔ مگر ان کی طرف سے پاس کیے جانے والے نئے قوانین کو ریپبلکنز کی شدید مخالفت کا سامنا رہا۔ جن میں کئی مواقعوں پر سخت ترین لمحات دیکھنے میں آئے۔

نئی کانگریس کے آنے کے ساتھ پھر سے تبدیلی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جان کیری کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کے لیے اگلے انتخابات میں نئی نسل یک دم تبدیلی لائے گی اور اکیسویں صدی امریکہ کی صدی ہو سکتی ہے۔ مگر صرف اس صورت میں کہ جب ہم ذمہ داری کا احساس اجاگر کریں اور سیاسی اختلافات پر ڈٹے رہنے کے بجائے یہ بحث کریں کے ہمارے ملک کے لیے کیا بہتر ہے۔

گزشتہ سال انتخابات سے پہلے ہونے والے کانگریس کے اجلاسوں سے ایک امید پیدا ہوئی تھی۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز نے درمیانی صورت نکالی اور چند مالی اور ٹیکس معاملات پر اتفاق ظاہر کیا۔ کانگریس نے کئی اور بل پاس کیے جن میں انہیں ری پبلیکنز تھوڑی بہت حمایت حاصل تھی۔

مگر انتخاب جیت کرایوان میں پہنچنے والے ری پبلیکنز کا کہناہے کہ ان کے پاس صدر اوباما کے ایجنڈے کو روکنے یا واپس کرنے کے لیے ووٹرز کا مینڈیٹ ہے، جس میں صدر اوباما کا نافذ کردہ امریکہ میں صحتِ عامہ کی اصلاحات میں تبدیلی کا قانون بھی شامل ہے۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ایری زونا سے منتخب ہونے والی رکنِ کانگریس گیبریل گفرڈزپر قاتلانہ حملہ ملکی سیاست میں کوئی تبدیلی لائے گایا سیاسی تقاریر کی گرمی کم کرکے سمجھوتوں کےلیے جگہ پیدا کرے گا۔ فی الحال اس حادثے کے نتیجے میں کانگریس کے تمام اراکین متحد ہو گئے ہیں۔ کانگریس کے نئے سپیکر کا کہنا ہے کہ ایک رکن پر حملے کا مطلب ہے تمام اراکین پر حملہ۔ ایسے اقدامات کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

رکنِ کانگریس پر حملے کے نتیجے میں امریکی ایوانِ زیریں کے اجلاس ملتوی کر دیے گئے اور اسی وجہ سے ہیلتھ کئیر بل کی منسوخی کا ووٹ بھی التوا کا شکار ہو گیا۔

XS
SM
MD
LG