رسائی کے لنکس

ہمارا امیدوار ہی فتحیاب ہوگا: انتخابی مہموں کا دعویٰ

  • واشنگٹن

Obama / Ohio Rally

Obama / Ohio Rally

رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ پوری قوم ذاتی پسندو ناپسند کے اعتبار سے بٹی ہوئی ہے، جب کہ دونوں امیدواروں کی انتخابی مہمیں اس یقین کا اظہار کررہی ہیں کہ منگل کے انتخاب میں اُنہی کا امیدوار جیتے گا: تجزیہ کار

اب جب کہ صدارتی انتخاب میں40 سے بھی کم گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، انتخابی مہم کے سلسلے میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر براک اوباما اور ریپبلیکن پارٹی کے اُن کے مدِ مقابل اور میساچیوسٹس کے سابق گورنر مِٹ رومنی امریکہ کے ایک کونے سے دوسرے تک کے سفر میں مصروف ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کے مائیکل بومین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ پوری قوم ذاتی پسند و ناپسند کے اعتبار سےبٹی ہوئی ہے، جب کہ دونوں امیدواروں کی انتخابی مہموں سے وابستہ عہدے داروں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ منگل کے انتخاب میں اُنہی کا امیدوار جیتے گا۔

صدر اوباما نے ہیمپشائر میں انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ صبح شام جاری انتخابی مہم کے باعث اُن کا گلہ بیٹھا ہوا ہے۔ صدر اوباما نے اپنے ووٹروں سے کہا کہ وہ الیکشن کے دِن اُن کا ساتھ دیں۔

اُن کے الفاظ میں، ’ہم بہت آگےنکل آئے ہیں۔ اب کسی طرح کی سست روی برتنے کا وقت باقی نہیں رہا۔ اب تھک کر بیٹھنے کا وقت بھی نہیں رہا۔ یہ آگے بڑھتے رہنے کا وقت ہے‘۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ چار سال صدر رہنے کے بعد بھی وہ ابھی تک واشنگٹن میں حقیقی تبدیلی کی واضح نمائندگی کرتے ہیں۔

اوباما کے بقول،’ آپ کے علم میں ہے کہ میں بخوبی جانتا ہوں کہ اصل تبدیلی کیا ہوتی ہے، کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ شانہ بشانہ جدوجہد کی ہے۔ میں اِس کی مثالیں پیش کر سکتا ہوں۔ میں ہونے والےاپنےسفید بال دکھا سکتا ہوں‘۔

رومنی نے کہا کہ، ’وائٹ ہاؤس تک پہنچنے اور امریکہ کے اقتدار کو واپس لینے کے لیے مجھے آئیوا کی حمایت درکار ہے‘۔

گورنر رومنی کے الفاظ میں: ’امریکہ کو تبدیلی کی ضرورت ہے، تاکہ مسٹر اوباما کی ناکام پالیسیوں سے چھٹکارا ملے‘۔

رومنی کے بقول، ’ اُن (مسٹر اوباما) کے کہنے کے مطابق اب بے روزگاری 5.4فی صد رہ گئی ہے، جب کہ جمعے کو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ابھی بھی 7.9فی صد کی سطح پر ہے۔ اس انتخاب میں ایک ہی سوال سامنے آتا ہے اور وہ ہی کہ، کیا آپ چاہتے ہیں کہ اگلے چار سال بھی گذشتہ چار برسوں کی طرح کے ہوں، یا پھر آپ اصل تبدیلی چاہتے ہیں؟‘

جوں جوں تُرش انداز والی حالیہ انتخابی مہم کے خاتمے کا وقت قریب آرہا ہے، امیدوار قوم کے مسائل کے حل کےلیے طرفداری پر مبنی قومی سوچ کو بدلنے کا عہد کر رہے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ، ’جب تک میں صدر ہوں میں کسی بھی پارٹی سے وابستہ فرد کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں، تاکہ اس ملک کو ترقی کی طرف لے جایا جاسکے‘۔

رومنی نے کہا کہ، ’جب میں منتخب ہوجاؤں گا، میں کانگریس میں موجود ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں‘۔

اور انتخابی مہم کے دوران امیدوار جانی پہچانی قومی شخصیات کو جلسوں میں لاتے رہے۔ سابق صدر بِل کلنٹن بھی مسٹر اوباما کی حمایت میں جلسوں میں شریک ہوتے رہے۔
XS
SM
MD
LG