رسائی کے لنکس

ریپبلیکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل


ریپبلیکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل

ریپبلیکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل

ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 39 نشستیں درکار تھیں لیکن منگل کو پولنگ کے ابتدائی اندازوں کے مطابق حزب اختلاف کے اُمیدواروں نے کم از کم 60 نشستیں جیت لی ہیں ۔تاہم معمولی برتری سے سینٹ میں حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کا کنٹرول برقرار ہے۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں رائے دہندگان نے حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کو پارلیمان کے ایوان زیریں میں اکثریت سے محروم کرنے کے علاوہ سینٹ یا ایوان بالا میں بھی اپوزیشن ری پبلکن پارٹی کی صفوں کو مستحکم کردیا ہے۔

مبصرین نے اس پیش رفت کو صدر براک اوباما کے لیے ایک بڑاسیاسی دھچکا قرار دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست کی بڑی وجوہات میں اقتصادی پالیسیوں پر عوام کی پریشانی اور صدر اوباما کی قیادت پر رائے دہندگان کا عدم اطمینان ہیں۔

ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 39 نشستیں درکار تھیں لیکن منگل کو پولنگ کے ابتدائی اندازوں کے مطابق حزب اختلاف کے اُمیدواروں نے کم از کم 60 نشستیں جیت لی ہیں ۔تاہم معمولی برتری سے سینٹ میں حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کا کنٹرول برقرار ہے۔

جان بوئنر اپنی فتح کا جشن منا رہے ہیں

جان بوئنر اپنی فتح کا جشن منا رہے ہیں

اپوزیشن کی اس فتح سے ایوان زیریں کی پہلی خاتون اسپیکر بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کی نینسی پلوسی کی جگہ ری پبلکن پارٹی کے جان بوئنر کے ا سپیکر بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں منقسم حکومت کے ایک نئے دور کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔

ایوان نمائندگان میں قائمہ کمیٹیوں کا کنٹرول ری پبلکن پارٹی کے ہاتھ میں آنے کے بعد اب صدر اوباما کے لیے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا بھی ایک مشکل کام ہو گا۔ 1994ء میں بھی کانگریس میں اس بڑے پیمانے پر تبدیلی دیکھنے میں آئی تھی جب ری پبلکن پارٹی نے ایوان نمائندگان میں 54 نشستیں جیتیں تھیں۔ اس وقت بھی ڈیموکریٹک پارٹی صدر بل کلنٹن کی قیادت میں اقتدار میں تھی۔

جان بوئنر نے واشنگٹن میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی نئی اکثریت مختلف انداز میں کام کرنے کے لیے تیار ہو گی اور اس پالیسی کا مقصد اخراجات اور حکومت کی جسامت میں کمی نہ کہ اضافہ ہو گا۔

انھوںنے انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی کامیابی کو صدر اوباما اور اُن کی جماعت کی پالیسوں پر عدم اعتماد کا نتیجہ قرار دیا اوراپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ ”آج رات سے اس صورت حال میں تبدیلی شروع ہوگئی ہے“۔

صدر اوباما جان بوئنر کو ٹیلی فون پر مبارک باد دیتے ہوئے

صدر اوباما جان بوئنر کو ٹیلی فون پر مبارک باد دیتے ہوئے

اُن کے ایک قریبی ساتھی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ صدر اوباما نے بوئنر کو رات گئے ٹیلی فون کر کے انھیُں مبارک باد دیتے ہوئے اُن کے ساتھ گفتگو میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کی بہتری پر خیالات کا تبادلہ کیا۔

سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر ہیری ریڈ نے نواڈا میں ایک سخت مقابلے کے بعد ٹی پارٹی کے فیوریٹ قراردیے جانے والے شیرون اینگل کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔

حکمران پارٹی نے مغربی ورجینیا اور کیلی فورنیا میں بھی سینٹ کی اہم نشستیں جیت لی ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل

ریپبلیکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل

منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینٹ کی 100 میں سے 37 جبکہ 50 ریاستوں میں سے 37 کے گورنرکے عہدوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

انتخابات سے پہلے سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی رائے دہندگان سب سے زیادہ ملک کی معیشت کے بارے میں پریشان تھے اور ہر دس میں سے آٹھ کا کہنا تھا کہ یہی اُن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ صدر اوباما سے ناخوش ہیں۔ ہر دس میں سے چار ووٹروں کا کہنا تھا کہ وہ ٹی پارٹی کی حمایت کریں گے جبکہ تقریباََََ تین چوتھائی کا ماننا تھا کہ حکومت مناسب انداز میں اپنا کام نہیں کررہی ہے۔

ٹی پارٹی چھوٹی بڑی مختلف تنظیموں کا مجموعہ اور قدرے کم منظم جماعت ہے جو ٹیکسوں اور سرکاری اخراجات میں کمی کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس تحریک کے حمایت یافتہ ری پبلکن پارٹی کے اُمیدواروں نے سینٹ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں کینٹیکی کے رینڈ پال اور فلوریڈا میں مارکو روبیو شامل ہیں۔

جیت کا جشن منانے والی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پال کا کہنا تھا کہ ” ہم اپنی حکومت واپس لینے کے لیے آگئے ہیں“۔

ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں نے ایوان نمائندگان میں قائمہ کمیٹیوں کے عہدوں پر فائزحکمران پارٹی کے لگ بھگ 30 ممبران کو شکست دی ہے جن میں آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سکلٹن(Skelton ) اور بجٹ کمیٹی کے چیئرمین جان سپراٹ ( John Spratt)شامل ہیں۔

ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں نے سینٹ میں انڈیانا (Indiana )، وسکانسن ( Wisconsin) ، شمالی ڈکوٹا ( North Dakota )، پنسلوینیا(Pennsylvania ) اور آرکانسا( Arkansas ) کی نشستیں جیتنے کے علاوہ الینوائے (Illinois ) میں صدر اوباما کی دو سال قبل خالی کی گئی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

XS
SM
MD
LG