رسائی کے لنکس

دہشت گردی کا سوال؛ صدارتی امیدواروں کا انداز مختلف، سختی کے حامی


فائل

فائل

اب ٹرمپ اپنی متنازع تجویز کو شد و مد کے ساتھ مزید پیش نہیں کرتے، جس بات کا اعلان اُنھوں نے گذشتہ نومبر میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کیا تھا کہ ملک میں مسلمانوں کی آمد پر بندش لاگو کی جائے گی

ایسے میں جب دہشت گردی کے معاملے پر عام لوگوں میں پریشانی پائی جاتی ہے، صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ نے قومی سکیورٹی کے سوال پر سخت انداز اپنانے پر زور دیا ہے۔

ٹرمپ کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ امی گریشن کے معاملے پر سختی دکھائی جائے گی، جن کا انداز انتخابی مہم کا ایک متنازع معاملہ بن چکا ہے، جو دہشت گردی پر ہونے والے مباحثے کے دوران چھایا رہا ہے۔

اب ٹرمپ اپنی متنازع تجویز کو شد و مد کے ساتھ مزید پیش نہیں کرتے، جس بات کا اعلان اُنھوں نے گذشتہ نومبر میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کیا تھا کہ ملک میں مسلمانوں کی آمد پر بندش لاگو کی جائے گی۔

برعکس اس کے، اب وہ مسلمان ملکوں سے آنے والے تارکینِ وطن کے سلسلے میں ’’سخت چھان بین‘‘ کی بات کرتے ہیں، تاکہ دہشت گردوں کو ملک سے دور رکھا جائے۔

وہ شام کے تنازع کے باعث بننے والے مہاجرین کی ملک میں آمد کی مخالفت کرتے ہیں، اور خبردار کیا ہے کہ کلنٹن کا منصوبہ ملک میں اُن کی تعداد بڑھا کر 65000 تک کرنا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی محکمہٴ ہوم لینڈ کے لیے ’ملک دشمن‘ کو آنے سے روکنا مشکل امر ہوگا۔

گذشتہ ہفتے اپنے آخری صدارتی مباحثے کے دوران بدشگونی کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ ’’انتظار کریں، دیکھیں آئندہ سالوں کے دوران کیا ہوتا ہے‘‘۔

کلنٹن نے ٹرمپ کے مطالبے کو مسلمانوں کے ملک میں داخلے پر بندش کی مذمت کی ہے۔ لیکن، اُن کا منصوبہ یہ ہے کہ شام اور کہیں اور سے آنے والے مہاجرین کی ’’سختی سےچھان بین ‘‘ہونی چاہیئے۔

اپنے دوسرے صدارتی مباحثے کے دوران، اُنھوں نے کہا کہ ’’میں کسی کو بھی ملک میں آنے نہیں دوں گا، جس کے لیے میں سمجھتی ہوں کہ وہ ہمارے لیے خطرے کا باعث ہوگا‘‘۔

تاہم، اب جب کہ ٹرمپ مسلمانوں پر بندش کا معاملہ مزید نہیں اٹھا رہے ہیں، مائیکل او ہانلون کہتے ہیں کہ ’’اب دونوں امیدواروں کی سوچ میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہا، جتنا کہ لوگ خیال کرتے ہیں‘‘۔مائیکل او ہانلون واشنگٹن کے ’بروکنگز انسٹی ٹیوٹ‘ میں سینئر فیلو ہیں۔

ملک کا تحفظ

داخلی طور پر پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خوف کے معاملے پر دونوں امیدواروں نے مسلمانوں میں قدامت پسندی میں کمی کی کوششوں پر زور دیا ہے۔

ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ’’قدامت پسند اسلام پر کمیشن‘‘ قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ’’ہمارے معاشرے کے نیٹ ورکس، جو قدامت پسندی کی حمایت کرتے ہیں، اُنھیں بے نقاب کیا جائے‘‘۔

ری پبلیکن امیدوار، جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اُن کا مسلمان مخالف بیانیہ امریکی مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی واقعات میں اضافے کا باعث بنا ہے، اُنھوں نے گذشتہ ہفتے ہونے والے مباحثے کے دوران یہ بات تسلیم کی کہ ’اسلامو فوبیا‘ ایک مسئلہ ہے۔ تاہم، اُنھوں نے ایک مسلمان امریکی کے سوال پر بتایا کہ ’’مسلمان جب کوئی ایسا مسئلہ دیکھیں تو اُنھیں چاہیئے کہ وہ خود اِس کی رپورٹ درج کرائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے، تو یہ ملک کے لیے انتہائی مشکل صورت حال ہوگی‘‘۔

کلنٹن کے خیال میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب نرم گوشہ رکھنے والی مسلمان امریکی برادری داخلی طور پر پیدا ہونے والی دہشت گردی سے نبردآزما ہونے اور ملک کے تحفظ کے معاملے میں اہم کردار ادا کرے گی؛ اور اپنی انتخابی مہم کے دوران وہ اُن کے رہنماؤں سے مل چکی ہیں۔

گذشتہ دسمبر میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ’’عین ممکن ہے کہ داخلی قدامت پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے ایسے امریکی ہمارا پہلا، آخری اور بہترین دفاع ثابت ہوں۔‘‘

دیگر باتوں کے علاوہ، کلنٹن نے داعش کو شکست دینے اور قدامت پسند جہادی سوچ کے خاتمے کےلیے ایک مربوط منصوبہ ترتیب دیا ہے، جس میں ‘‘انٹیلی جنس پر زور‘‘ دیا گیا ہے، تاکہ قانون کا نفاذ کرنے والوں کو دہشت گرد منصوبہ سازی کی بروقت اطلاع میسر آسکے اور وہ اُنھیں مؤثر طور پر ناکام بنا سکیں، اور ’’اکیلے سر پھرے فرد‘‘ کی شناخت ہوسکے اور پُرتشدد انتہاپسندوں کو روکا جاسکے۔

داعش کے خلاف لڑائی

دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے کلنٹن اور ٹرمپ دونوں یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے اتحاد کی وکالت کرتے ہیں، ساتھ ہی عراق اور شام میں داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیےڈرون اور خصوصی کارروائی پر مامور افواج

کو استعمال کرنے، شمالی شام کی فضائی حدود پر ’نو فلائی زون‘ قائم کرنے کے حامی ہیں۔

تاہم، وہ دیگر معاملوں سے نبردآزما ہونے کے انداز سے اتفاق نہیں کرتے۔ اِن میں، کلنٹن چاہتی ہیں کہ صدر بشار الاسد سے لڑنے والے شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنا چاہیئے، جب کہ ٹرمپ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ اس بات کے خواہاں ہیں کہ بَری فوج کو تعینات کرنا چاہیئے۔ کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ وہ فوجیں بھیجنے کی سوچ سے اتفاق نہیں کرتیں۔

XS
SM
MD
LG