رسائی کے لنکس

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں محض دو روز باقی رہ گئے ہیں اور اس باقی ماندہ وقت کو ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ ہلری کلنٹن بھرپور طریقے سے ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اپنی اپنی مہم میں اپنے بیانیے پر ہی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی حریف کلنٹن کے امریکی صدر بننے کی صورت میں ملک کا ایک تاریک تصور پیش کیا ہے جب کہ کلنٹن نے ووٹرز پر زور دیتے ہوئے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ "اتحاد میں استحکام ہے۔"

نواڈا علاقے رینو میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اگر وہ (ہلری) انتخاب جیتتی ہیں تو یہ ایک غیر معمولی آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں ہمیں فرد جرم والا ایک صدر میسر ہوگا اور یہ معاملہ فوجداری مقدمے میں تبدیل ہو جائے گا۔ یہ حکومت کو مفلوج کر دے گا۔"

ان کا اشارہ ہلری کلنٹن کی ای میلز سے متعلق تازہ تحقیقات کی طرف تھا جو بطور وزیر خارجہ وہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے اپنے نجی ای میل سرور سے کرتی رہی ہیں۔

ہفتہ کو ٹرمپ نے شمالی کیرولائنا، فلوریڈا، کولوراڈو اور نواڈا میں ریلیوں سے خطاب کیا جب کہ روایتی طور پر ڈیموکریٹس کی حامی ریاست منیسوٹا میں بھی کچھ دیر کے لیے قیام کیا۔

رینو میں ہونے والی ریلی میں اس وقت ٹرمپ کو سیکرٹ سروس کے اہلکار اپنے حصار میں لے کر اسٹیج سے بحفاظت لے گئے جب وہاں موجود کسی شخص کے پاس اسلحے کی افواہ نمودار ہوئی۔

مشتبہ شخص کو ریلی سے باہر لے جایا گیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ واپس اسٹیج پر تشریف لائے۔

بعد ازاں سیکرٹ سروس نے ایک بیان میں کہا کہ "یہاں کوئی بندوق، بندوق چلایا تھا لیکن کسی قسم کا اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔"

ڈیموکریٹ ہلری کلنٹن نے ہفتہ کو فلوریڈا میں مصروف دن گزارا۔ صدارتی انتخاب میں اس ریاست کو ہمیشہ سے بڑی اہمیت رہی ہے۔ 2000ء میں ہونے والے انتخابات میں یہاں ووٹوں کی گنتی کے معاملہ اس قدر سنگین ہو گیا تھا کہ بالآخر سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا پڑا جس کے مطابق ریپبلکن امیدوار جارج ڈبلیو بش کو ڈیموکریٹ الگور کے خلاف کامیاب قرار دیا گیا۔

کلنٹن نے میامی میں ایک ریلی میں شرکت کی اور وہاں وہ 2012ء میں ایک سفید فام کے ہاتھوں مارے جانے والے نوجوان ٹریون مارٹن کی والدہ کے ساتھ اسٹیج پر آئیں۔

کلنٹن نے کہا کہ "میں نہیں سمجھتی کہ مجھے آپ کو ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں تمام غلط باتیں بتانے کی ضرورت ہے۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ سب یہ یاد رکھیں یہ میں سب لوگوں کے لیے صدر بننا چاہتی ہوں۔ وہ سب جو مجھ سے متفق ہیں اور وہ بھی جو اختلاف رکھتے ہیں۔"

اب تک کے رائے عامہ جائزوں سے دونوں حریف امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG