رسائی کے لنکس

امریکہ: تین مزید ری پبلکن صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل


بین کارسن (فائل فوٹو)

بین کارسن (فائل فوٹو)

2008ء میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے والے ریاست آرکنساس کے سابق گورنر مائیک ہکابی بھی منگل کو اپنے صدارتی اُمیدوار ہونے کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس ہفتے تین نمایاں رپبلیکن صدراتی امیدواروں کے دوڑ میں شامل ہونے سے 2016ء کے صدارتی انتخاب کا میدان وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

اتوار کو بین کارسن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنی پارٹی کی نامزدگی کے لیے مقابلے میں شریک ہوں گے جس میں پہلے ہی بہت سے اُمیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ وہ پیر کو ڈیٹرائٹ میں ایک تقریب میں اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

کارسن نے اس وقت شہرت حاصل کی جب دو برس قبل ایک تقریر میں انہوں نے صدر اوباما کے صحت کے تاریخی اقدام پر تنقید کی تھی۔ اس تقریر میں اس اقدام کو غلامی سے تشبیہ دینے اور ہم جنس پرستی کے بارے میں ان کے خیالات پر تنقید بھی کی گئی۔

پیر کو ھیولٹ پیکارڈ کی سابق سربراہ کارلی فیورینا بھی اپنے اُمیدوار ہونے کا اعلان کریں گی۔ انہیں 2008ء میں صدارتی دوڑ کے دوران سینیٹر جان مکین کی اقتصادی مشیر کے طور پر کام کرنے اور 2010ء میں سینیٹ الیکشن لڑنے (جسے وہ ہار گئی تھیں) کے باعث قومی سیاست کا کچھ تجربہ ہے۔ جان مکین اس دوڑ میں اوباما سے ہار گئے تھے۔

2008ء میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے والے ریاست آرکنساس کے سابق گورنر مائیک ہکابی بھی منگل کو اپنے صدارتی اُمیدوار ہونے کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رپبلیکن صدارتی اُمیدواروں میں سینیٹر ٹیڈ کروز، رینڈ پال اور مارکو روبیو بھی شامل ہیں۔ وسکونسن کے گورنر اسکاٹ واکر اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش کی بھی صدراتی دوڑ میں حصہ لینے کی توقع ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی میں ابھی تک صرف سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور ورمونٹ سے سینیٹر بارنی سینڈرز نے اپنے اُمیدوار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

چھوٹی پارٹیوں سے بھی اُمیدوار دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں مگر ہر چار سال بعد ہونے والا صدارتی اتنخاب بنیادی طور پر دو بڑی جماعتوں کے نامزد اُمیدواروں کے درمیان ہوتا ہے۔ اگلا صدر 2017 میں صدر اوباما کی دوسری بار مدت صدارت ختم ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالے گا۔ امریکی آئین میں ایک اُمیدوار دو مرتبہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔

XS
SM
MD
LG