رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: بحرانوں میں گھرا بے دست و پا پاکستان

  • کراچی

'نیویارک ٹائمز' نے اوباما انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہر ممکن طور پر پاکستانی حکام بشمول فوج کے ساتھ معاملہ کرنے کی کوششیں جاری رکھے کیوں کہ، اخبار کے الفاظ میں، ’’ امریکہ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں‘‘۔



اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان سے آنے والے طالبان جنگجووں کے حملوں پر ایک اداریہ شائع کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اوباما انتظامیہ ایک مدت سے پاکستانی حکام سے ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے کی اپیل کرتی چلی آرہی ہے جو پاکستان سے آکر افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

اخبار لکھتا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کے حالیہ سرحد پار حملوں اور ان میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امید ہے کہ پاکستان ان شکایات پہ سنجیدگی سے غور کرے گا۔
شدت پسندوں کے خلاف کاروائی دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد میں ہے لیکن ایسی کوئی نشانی نہیں ملتی جس سے پتا چلے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کی سمجھ میں یہ بات آئی ہو


'نیو یارک ٹائمز' نے لکھا ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے افغانستان میں تعینات امریکی و نیٹو افواج کے سربراہ جنرل جان ایلن کے ساتھ اپنی ملاقات میں بھی سرحد پار حملوں کا یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

اخبار کے مطابق جنرل کیانی نے نیٹو سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحد کے پار موجود ان جنگجووں کے خلاف کاروائی کرے جو پاکستانی علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔جواباًً جنرل ایلن نے بھی اس امریکی مطالبے کا اعادہ کیا کہ پاکستانی افواج 'حقانی نیٹ ورک' سمیت ان طالبان جنگجووں کے خلاف کاروائی کریں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے اپنی حدود میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں۔

'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائی دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد میں ہے لیکن ایسی کوئی نشانی نہیں ملتی جس سے پتا چلے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کی سمجھ میں یہ بات آئی ہو۔

اخبار لکھتا ہے کہ پاکستانی فوج افغانستان میں موجود ان گروہوں کے خلاف کاروائی تو چاہتی ہے جو خود پاکستان کے لیے خطرہ ہیں اور ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ لیکن وہ حقانی نیٹ ورک اور ایسے دوسرے گروہوں کے ساتھ قطعِ تعلق پر آمادہ نہیں جو افغانستان کو استحکام بخشنے کی امریکی کوششوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

' 'نیو یارک ٹائمز' نے بعض اراکینِ کانگریس کی جانب سے 'حقانی نیٹ ورک' کو دہشت گرد تنظیم قرار دلانے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے پر لامحالہ پاکستان بھی دہشت گرد ریاست قرار پائے گا اور اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہوں گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان کا تعاون حاصل کرنا مزید مشکل ہوجائے گا جو پہلے ہی نیٹو سپلائی کی بحالی کے معاملے پر پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔

'نیویارک ٹائمز' نے اوباما انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہر ممکن طور پر پاکستانی حکام بشمول فوج کے ساتھ معاملہ کرنے کی کوششیں جاری رکھے کیوں کہ، اخبار کے الفاظ میں امریکہ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ تو جلد ہی اس خطے سے چلا جائے لیکن افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کے لیے اپنے حقیقی اور مجازی دشمنوں سے نبٹنا ایک مشکل کام ہوگا جس کی اسے ابھی سے فکر کرنی چاہیے۔

امریکہ میں ان دنوں مجرموں کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف بحث جاری ہے اور کئی حلقے اس سزا کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے اس موضوع پر اپنے ایک اداریہ میں کہا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے 1890ء میں ہی قیدِ تنہائی کو ذہنی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔

امریکہ میں لگ بھگ 25 ہزار افراد جیلوں میں قیدِ تنہائی کاٹ رہے ہیں جب کہ مزید 80 ہزار قیدیوں کو کسی نہ کسی شکل میں قیدِ تنہائی سے گزرنا پڑ رہا ہے
اخبار لکھتا ہے کہ ایک صدی سے زائد مدت گزرنے کے بعد گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی ایک سب کمیٹی کی جانب سے اس معاملے کی سماعت کرنے پر اس سزا کے خاتمے کی تحریک میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔

سینیٹ سب کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں لگ بھگ 25 ہزار افراد جیلوں میں قیدِ تنہائی کاٹ رہے ہیں جب کہ مزید 80 ہزار قیدیوں کو کسی نہ کسی شکل میں قیدِ تنہائی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق امریکہ میں قیدِ تنہائی کاٹنے والوں کی تعداد کسی بھی دوسرے جمہوری ملک سے زیادہ ہے اور یہ انسانی حقوق کا ایک ایسا معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اخبارلکھتا ہے کہ خطرناک مجرموں کو قیدِ تنہائی میں رکھنے سے جیلوں کا حفاظتی انتظام برقرار رکھنے میں تو شاید مدد ملتی ہو لیکن اس سے ان قیدیوں کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔اس کے برعکس ایسے قیدیوں کے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ تنہائی میں رکھے جانے والے قیدیوں میں خود کشی کا رجحان بھی بہت زیادہ ہے اور امریکی جیلوں میں خودکشی کرنے والے قیدیوں میں سے نصف قیدِ تنہائی کاٹنے والے قیدی ہوتے ہیں۔

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ رہائی کے بعد بھی عموماً ایسے قیدی معاشرے میں گھل مل نہیں پاتے اور مختلف نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قیدِ تنہائی کے ایک مجرم پر بیرکوں میں رکھے جانے والے قیدی کے مقابلے میں تین گنا اضافی خرچ آتا ہے ۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس سوال کا جواب حکام پر قرض ہے کہ امریکی جیلوں میں مجرموں کو قیدِ تنہائی میں رکھنے سے آخر امریکی معاشرے میں کیا مثبت تبدیلی آئی ہے اور تمام تر قباحتوں اور برائیوں کے باوجود یہ روایت بدستور کیوں جاری ہے؟
XS
SM
MD
LG