رسائی کے لنکس

صدراتی انتخابات میں مسلم ووٹوں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ امریکی اخبارات

  • صلاح احمد

انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون میں امریکہ کے عام انتخابات میں مسلمان ووٹروں کی اہمیت پر ایک تجزیاتی رپورٹ میں پروفیسر فرید سین ذئی کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ امریکی مسلمان تعداد کے اعتبار سے قومی آبادی کا بُہت چھوٹا حصّہ ہیں۔ وُہ امریکہ کی اُن ریاستوں میں آباد ہیں۔جہاں کےووٹر کبھی ایک پارٹی کی حمائت کرتے ہیں اور کبھی دُوسری کی۔ ان ریاستوں میں مشی گن، اوہائیو۔ ورجینیا ۔ پینسلوانیا اور فلوریڈا شامل ہیں، پروفیسر فرید سین ذئی ، جو سانتا کلارا یونیورسٹی میں سیاسیات پڑھاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ آبادی باقی مذاہب سے تعلّق رکھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اور جہاں تک اُن کےسیاسی مشاغل کا تعلّق ہے ، تو وُہ زیادہ واضح اور گُنجلک ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ ریاستیں اُن ریاستوں میں شامل ہیں، جن کے بارے میں بہت سُوں کو یقین ہے کہ سنہ 2012 کے صدارتی انتخابات کا فیصلہ انہِیں ریاستوں میں ہوگا۔ جس میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا کردار فیصلہ کُن ثابت ہوگا ۔

انسٹی ٹیوٹ فار سوشیل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ نے ، جس کے پروفیسر سین ذئی ڈئرکٹر ہیں ، ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس کے مطابق انتخابی سیاسیات میں اس برادری کے کردار کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ اس سال کے انتخابات میں یہ اہمیت حیر ت انگیز حد تک بڑھ جائے اور پرائمری انتخابات کے دوران جن ری پبلکن لیڈروں نےمسلمانوں کو آسانی سے ہدف بنا یا تھا۔ وُہ شایداپنے آپ کو ان ریاستوں کے اندر مشکل میں گرفتار پائیں گے، جن میں صدارتی انتخابات کے فاتح کا تعیّن ہونا یقینی ہے ۔

اس پورٹ میں امریکی مسلمانوں کے ایک عشرے پر محیط طرزعمل کےا عداد و شمارکے تجزئے میں فلوریڈا کی ایک کیس سٹڈی شامل ہے۔جس کے مطابق ووٹوں کے نہائت ہی کم فرق سے سابقہ انتخابوں کا فیصلہ ہوا تھا۔فلوریڈا کی مسلمان آبادی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے ۔ اور اس وقت اس کے ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہے۔ اور انتخاب لڑنے والا کوئی شخص انہیں نظر انداز کر نے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ری پبلکن صدارتی امید واروں نے اپنے جوش خطابت میں مسلمانوں کی طرف جو معاندانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اُس کی وجہ سے اور11/9 کے بعدکے اسلامو فوبیا نے مسلمان برادری کو سیاست میں کُودنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہوتاہے کہ دو تہائی مسلمان ایک ہی صدارتی امید وار کے حق میں مِن حیث القوم ووٹ ڈالنا پسند کریں گے۔ ایک وقت ری پبلکن سیاستدانوں کو مسلمان ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے میں خُوب کامیابی ہوئی تھی۔ لیکن اب جوش خطابت میں اسلام کاجو ہوا کھڑا کیاجا رہے اس کی بدولت ملک کے بعض علاقوں میں ووٹ حاصل کرنے میں شاید مد دملے۔ لیکن بارہ کلیدی ریاستوں میں اس کا خمیازہ بُھگتنا پڑے گا۔ اس لئے مضمون نگار کا دونوں پارٹیوں کے سیاست دانوں کو مشور ہ ہے کہ وُہ مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کی بجائے اُن کے ساتھ میل جول رکھیں۔ کیونکہ ایک ایسے معاشرے کے لئے جورواداری اور مذہبی آزادی پر فخر کرتا ہے ۔ کسی مخصوص معاندانہ رویّے کو ہوا دینا غیر امریکی حرکت ہوگی

ادھریوایس اے ٹوڈے / گیلپ کےایک نئے جائزے کے مطابق امریکہ کی اُن ریاستوں جہاں دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ خواتین ووٹروں کی بھاری تعداد صدر اوباما کی گرویدہ ہوتی جار ہی ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے۔کہ مردوں اور خواتین کی ترجیح میں یہ فرق آنے والے عام انتخابات میں ری پبلکنوں کے لئے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس جائزے کے مطابق اوباما کوبارہ ایسی ریاستوں میں خواتین ووٹروں میں مٹ ر امنی کے مقابلے میں 18 فی صد کی برتری حاصل ہے جب کہ رک سینٹورم کے مقابلے میں یہ سبقت 15 پوائنٹوں کی ہے۔ سابقہ جائزوں کے مقابلے میں یہ اعدادو شمار اوباما کے لئے اہم پیش رفت سے کم نہیں۔ اس کا بیشتر حصّہ پچاس سال سے کم عمر کی خواتین کا مرہون منت ہے۔ جن میں اوباما کو ایک کے مقابلے میں دو کی برتری حاصل ہے۔

اور اب نیو یاک پوسٹ کی یہ خبر کہ ایک 86 سالہ جرمن خاتون، جو ورزش اور کھیلوں کی اُستاد رہ چکی ہے۔ اس عمر میں کئی کرتب اُسی پُھرتی اور چابُک دستی کے ساتھ دکھا سکتی ہے ، جس طرح جوانی میں کیاکرتی تھی۔ جوہانا قصاص اُلٹی قلابازیاں کھا سکتی ہے۔ اپنے ہاتھوں پر چل سکتی ہے۔ سر کے بل کھڑی ہو سکتی ہے اور تقریباً روزانہ متوازی سلاخوں پر ورزش کرتی ہے۔ وُہ بڑے بوڑھوں کے مقابلوں اب تک 11 تمغے جیت چُکی ہے

XS
SM
MD
LG