رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: نیٹو میں اختلافِ رائے

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: نیٹو میں اختلافِ رائے

امریکی اخبارات سے: نیٹو میں اختلافِ رائے

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک اداریے میں کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے افغانستان کے بارے میں فوجی اور سفارتی تجاویز میں باہمی مطابقت پیدا کرنا مشکل بنا دیا ہے

برسلز سے ’لاس اینجلس ٹائمز‘ اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی اِس تجویز سے کہ وہ اگلے سال کے وسط تک افغانستان میں رواں فوجی کارروائی کی قیادت کرنا بند کردے گا، نیٹو میں پھوٹ پڑ گئی ہے، جب کہ بعض اتحادیوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ اُن کے لیے غیر متوقع بات تھی۔ اِسی کے ساتھ فرانس نے کہا ہے کہ نیٹو کو اگلے دو سال کے اندر اِس لڑائی میں شرکت کرنا مکمل طور پر بند کردینا چاہیئے۔

اخبار کہتا ہے کہ یورپی حکومتوں کا کہنا ہے کہ باوجود یکہ افغانستان کی جنگ عوام میں غیر مقبول تھی، اُنھوں نے اُس کی حمایت جاری رکھی اور اب جو یہ امریکی تجویز آئی ہے، وہ اخباری اطلاعات کے مطابق، اِس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن افغانستان چھوڑ کر جانا چاہتا ہے۔ اِس کے بعد اُن کے لئے اپنی فوجیں افغانستان میں برقراررکھنا سیاسی طور پرزیادہ مشکل ہوگا۔

’لاس انجلس ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز سے نیٹو سکریٹری جنرل اینڈرز فاغ راس مسن بظاہر پریشان ہوگئے ہیں۔ چناچہ، جمعرات کو اُنھوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ اگلے سال کے وسط تک لڑائی کی قیادت افغان فوج اورپولیس کےہاتھ میں آجائے گی جیسا کہ وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے۔ لیکن، اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے بعض باتوں کی وضاحت بھی طلب کی ہے۔

بظاہر، اِس تشویش کی وجہ سے کہ امریکی اعلان کے بعد نیٹو کے دوسرے ارکان اگلے سال سے اپنی فوجیں واپس ہٹانا شروع کریں گے، راس مسن اپنے اس سابق پُر امید بیان سے پیچھے ہٹ گئے کہ افغان فوجیں 2013ء میں پورے ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گی، جبکہ نیٹو فوجوں کے ذمے اُن کی امداد کرنا ہوگا۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر پنیٹا نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی فوجیں افغان یونٹوں کو تربیت اور مشورے دینا جاری رکھیں گی، خصوصی آپریشن بھی کریں گی اور ہنگامی حالات میں دوسری فوجوں کی امداد کے لیے بھی دستیاب ہونگی۔اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوجیں خود لڑائی میں ضرورت پڑنے پر شرکت کریں گی۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک اداریے میں کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ نےافغانستان کے بارے میں فوجی اور سفارتی تجاویز میں باہمی مطابقت پیدا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ پچھلے مہینے محکمہٴ خارجہ نے لڑائی اور گفت و شنید کی ایک حکمتِ عملی سے پردہ اُٹھایا جِس کے تحت اعلیٰ طالبان کمانڈروں کو گوانتانامو سے قطر منتقل کرکے طالبان کو مذاکرات کرنے کی ترغیب دینا تھا، جسے وہ بار بار ٹھکرا چکے ہیں۔

اِن مذاکرات کا مقصدافغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے ایک امن معاہدہ طے کرنا تھا، جِس کی بنیاد موجودہ افغان آئین کو تسلیم کرنے اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے پر ہو۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ اب وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اس سے بالکل مختلف تجویز دی ہے ،یعنی اگلے سال کی دوسری شش ماہی کے خاتمے تک امریکی اور اتحادی فوجوں کی بیشتر کارروائی کو ختم کرنا۔ یعنی، پہلے جو توقع تھی اُس سے ایک سال قبل ہی۔

اِسی طرح، افغان مسلح افواج کا جو سائیز پہلے طے کیا گیا تھا اُس میں بھی بھاری تخفیف کی جائے گی اور اگرچہ مسٹر پنیٹا نے یہ نہیں کہا اس حکمتِ عملی کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ اگلے سال امریکی فوجوں کی تعداد میں بھی بھاری کمی کی جائے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے اِس دور میں صدر اوباما کی اس حکمتِ عملی کو شاید ووٹر پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں لیکن طالبان اِسے کس نگاہ سے دیکھیں گے؟

امریکی فوجوں کو اتنی جلدی سے واپس بلانے کو ایک برُی غلطی قرار دیتے ہوئے، اخبار کہتا ہے کہ اِس طرح ایک نئی خانہ جنگی شروع ہو جانے کا سب سے زیادہ امکان موجود ہے، جِس میں طالبان کا پلا ّبھاری ہونے کا امکان ہے اور اِس کے وجہ سے پورے خطے میں امریکی مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG