رسائی کے لنکس

پاکستان کی حقوق انسانی کے شعبے کی ایک سرگرم خاتون وکیل حنا ربانی کا کہنا ہے، کہ فرقہ وارانہ تشدّد کو روکنے سے متعلق قانون موجود ہیں ۔ لیکن اُن پر عمل درآمد کرنے میں کمزوری برتی جا رہی ہے

کرسچن سائنس مانیٹر
پاکستانی پولیس نے اب اس مولوی کو گرفتا کر لیا ہے۔ جس کے کہنے پرایک چودہ سالہ عیسائی لڑکی کو مقدّس آیات کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔اس مولوی کے خلا ف یہ قدم اس لئے اٹھایا گیاہے ۔ کہ اس کے ایک معاوٕن نے گواہی دی ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ اس نے جلے ہوئے کاغذات کے ساتھ قرآن کے جلے ہوئے صفحات ملا دئے تھے ۔
کرسچن سائنس مانٹر کی رپورٹ کے مطابق اس کے معاون نے اس کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی ۔ لیکن مولوی کو اصرار تھا ، کہ اس علاقے سے عیسائیوں سے نجات حاصل کرنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔

اخبار کہتا ہے۔ کہ یہ اس مقدمے کا تازہ ترین موڑ ہے ۔ جس کی وجہ سے دینا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اوراب پاکستانی حکام پر دباؤ بڑھے گاکہ وہ اس لڑکی کو رہا کر دیں، جو پچھلے ایک ماہ سے جیل میں بند ہے،اور جسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، اخبار کہتا ہے کہ اس انکشاف کی وجہ سے اُن فعال کار کنوں کے ہاتھ مضبوط ہونگے ، جو سالہا سال سے اہانت کے قانون کو کا لعدم کرانے یا کم از کم اس میں ترمیم کرانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، اُن کا استدلال ہے ، کہ اس قانون کے تحت بے شمار من گھڑت مقدمے قائم کئے گئے ہیں۔ جنہوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ اور جنہیں ذاتی عداوت کی بناء پر قائم کیا گیا ہے

پاکستان کی حقوق انسانی کے شعبے کی ایک سرگرم خاتون وکیل حنا ربانی کے حوالے سے اخبار میں کہا گیا ہے کہ کئی برسوں سے عیسائیوں کی ایذاء رسانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ملک کی پوری آبادی میں عیسائیوں کا تناسُب محض دو فی صد ہے۔ پھر بھی مذہبی انتہا پسندوں کو اُن سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے، حنا ربانی کا کہنا ہے، کہ فرقہ وارانہ تشدّد کو روکنے سے متعلق قانون موجود ہیں ۔ لیکن اُن پر عمل درآمد کرنے میں کمزوری برتی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پرزور دیا ہے کہ وہ مذہبی لابٕیز کے دباؤ میں مت آئیں۔ بلکہ اس کا فرض بنتا ہے کہ وُہ ایسے عناصر کو ملک کے مختلف فرقوں درمیان منافرت پھیلانے سے باز رکھیں۔

نیویارک نیوز ڈے
امریکہ میں3 ستمبر کا دن لیبر ڈے یعنی محنت کشوں کا دن تھا ، اس موقع پر نیو یارک نیوز ڈے اخبار کہتا ہے کہ اس وقت ملک میں بے روز گاری کا جو دور دورہ ہے وُہ روزگار سے محروم لوگوں کے لئے روزانہ کا عذاب ہے ۔ بالخصوص اس دن کی مناسبت سے، لیکن اخبار کہتا ہے کہ قلیل وقتی بے روزگاری نتیجہ ہے اقتصادی سرد بازاری سے متعلّقہ عوامل کا ، مثلاً صنعتی شُعبہ جو مصنوعات فراہم کرتا ہے، اُن کی مانگ میں کمی واقع ہونا، لیکن طویل وقتی بے روزگاری کی وجہ تعلیمی تفاوت ہے ، یعنی ایک وہ تعلیم ، جس کی روزگار فراہم کرنے والوں کو ضرورت ہے ، اور دوسر ی وہ تعلیم جو روزگار تلاش کرنے والوں کے پاس ہے ، اخبارکا خیال ہے کہ اگر ہم اپنی معیشت کا احیاء چاہتے ہیں، اور دنیا میں طاقتور رہنا چاہتے ہیں، تو ہمیں یہ تفاوت دُور کرنا پڑے گا۔

چنانچہ اخبار کہتا ہے کہ ان مقامی کالجوں کی بھر پُور امداد کرنے کی ضرورت ہے ، جو اپنے نصاب کو روزگار فراہم کرنے والوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالیں ۔ اور یہ بات یقینی بنائیں ، کہ تدریسی مراحل میں جس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ اُس میں اُسی ٹیکنالوجی کی عکّاسی ہو رہی ہے جس سے بالآخر روزگار ملنے پر طالب علم کا واسطہ پڑے گا۔ مثلاً ایک نیا طیّارہ ، جس کا کاک پٕٹ جدید ترین سازو سامان سے ۔

اخبار کہتا ہے۔ کہ ایسا لگ رہا ہے کہ روزگار میں تربیت کا یہ پہلو کارگر ثابت ہو رہا ہے۔مقامی فارمنگ ڈیل کالج کی مثال دیتے ہوئے جو 1990 کی دہائی میں قائم ہوا تھا ، اخبار کہتا ہے کہ وہاں اب طلبہ کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اور اس نے ریاستی اور کونٹی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیم پر زیادہ سرمایہ لگائیں ۔ اورتعلیم اور روزگار کے باہمی تعلق کو سمجھیں ۔ تاکہ مستقبل میں محنت کشوں کے اس دن ، تقریبات زیادہ خُوش آیند ہوں ۔

وال سٹریٹ جرنل
وال سڑ یٹ جرنل کہتا ہے کہ اگست کے مہینے میں ایشیا میں کارخانوں کی مصنوعات کا حجم مزید سُکڑ گیا ، کیونکہ پورے خطے میں یعنی چین سے لے کر ہندوستان تک ،برآمدی آرڈروں میں مزید کمی واقع ہوئی ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں قرضے کے بُحران کا عالمی معیشت پر اور بھی زیادہ بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ اور ایسے اندیشے بڑھ رہے ہیں ، کہ یورو کرنسی والا علاقہ مزید کساد بازاری کی طرف جا رہا ہے ۔ جب کہ امریکہ کو اپنی معیشت کے احیاء کے لئے سخت جدّوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ہندوستا ن میں بھی، جہاں مصنوعات کے شعبے میں پچھلے تین سال کے دوران بلا روک ٹوک توسیع جاری تھی ۔اگست میں اکتوبر کے بعدبرآمدی آرڈروں میں کمی ہوئی ہے بیرونی مانگ میں اس کمی ساتھ ساتھ مہینے کے اوائل میں بجلی کا شعبہ فیل ہونے کی وجہ سے مصنوعات کی پیداوار متاثر ہوئی۔ اس بحران کی وجہ سے ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی کُچھ روز بجلی سے محروم ہو گئی تھی

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG