رسائی کے لنکس

کرسمس تعطیلات: تحائف خریدنے اورپیش کرنے کا موسم

  • یاسمین جمیل

کرسمس تعطیلات: تحائف خریدنے اورپیش کرنے کا موسم

کرسمس تعطیلات: تحائف خریدنے اورپیش کرنے کا موسم

’پرفیکٹ تحفہ‘ وہ ہے جو لینے والے کو حقیقی خوشی اور اِس خیال سےہمکنار کرے کہ آپ کو اُس کا خیال ہے: بوسٹن گلوب

امریکہ میں دسمبر کا مہینہ کرسمس کی تعطیلات کی سوغات لاتا ہے۔ ان تعطیلات کی سب سےبڑی سوغات ، کرسمس کی پس منظر موسیقی میں سجے ہوئے شاپنگ مالز میں اپنے احباب اور دوستوں کے لیے خوبصورت سوغاتوں کی خریداری ہے جس کی نذر امریکی اپنے پورے سال کی بچتیں کر دیتے ہیں ۔ لیکن ان سوغاتوں کی خریداری کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔

اخبار’ بوسٹن گلوب‘ نے پرفیکٹ گفٹ کے عنوان سے اپنا ایک اداریہ تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سال کا وہ موسم آچکا ہے جب آپ کو کرسمس کے تحائف کی خریداری اور چند مشکل سچائیوں کا سامنا کرنا ہے ۔ مثلاً یہ سچ کہ آپ جن لوگوں کو تحائف دینا چاہتے ہیں ان میں سے اکثر کے بارے میں آپ نہیں جانتے کہ انہیں حقیقی خوشی کونسا تحفہ پا کر ہوگی ۔

مثلاً یہ سچ کہ آپ نےتحفہ لینے والے کی طرف سے تحفے کی پسندیدگی کی جس وجہ کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے وہ تحفہ خریدا تھا وہ وجہ تقریبا ًبلکہ سراسر غلط تھی ۔مثلاٍ یہ کڑوا سچ کہ کم سے کم خرچ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تحائف دینے اور تحفہ برائے تحفہ کے نظریے کے تحت خریدے گئے آپ کے اکثر تحائف تحفہ پانے والا یا تو گھر کے کسی کونے میں اسی بند ڈبے میں اگلے سال تک یا کئی برسوں تک پڑا رہنے دے گا یا پھر اسے دوبارہ ریپ کر کے کسی اگلے کرسمس پر کسی ایسے شخص کو گفٹ کر دے گا جس کی حقیقی خوشی کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہو گی۔

اخبار مشورہ دیتا ہے کہ تعطیلات کے موقع پر اگر تحفہ لینے والے سے پوچھ لیا جائے کہ اسے کیا تحفہ چاہیئے تو یقیناً آپ اس کے لیے ایک ایسا پرفیکٹ گفٹ خرید سکیں گے جسے دے کر آپ کو اور جسے پا کر اسےخوشی ہو گی اور آ پ کا قیمتی وقت اور پیسہ کسی عام تحفے کی بجائے بہت سے ایسے پرفیکٹ گفٹس کی خریداری میں استعمال ہو گا جو کرسمس کے موقع پر فضامیں بکھری خوشیوںمیں اضافے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ اخبار لکھتا ہےکہ پرفیکٹ تحفہ وہ ہے جو لینے والے کو حقیقی خوشی اور اس خیال سےہمکنار کرے کہ آپ کو اس کا خیال ہے ۔

اور خیال تو کرسمس کے موقع پر ان ضرورت مندو ں کا بھی رکھا جاتا ہےجن کو تحفے دینے والا کوئی نہیں ہوتا لیکن ان کا خیال کیسے رکھا جائے ؟ یہ ہے وہ خیال جس پر اخبار ’ نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنا ایک اداریہ تحریر کیا ہے ۔

اخبار لکھتا ہے کہ کرسمس کے موقع پر کن ضرورتمندوں کو کن تحائف کی ضرورت ہے اس بارےمیں فلاحی اداروں کی ویب سائٹس مشوروں سے پُر ہوتی ہیں جو کرسمس کے موقع پر ضرورت مندوں تک خصوصی تحائف پہنچانے کا بندو بست کرتے۔ لیکن، اخبارمشورہ دیتا ہے کہ اس موقع پر بین االاقوامی فلاحی اداروں کے توسط سے دنیا بھر میں ضرورت مندوں کو تحائف دے کر آپ ایک منفرد خوشی کے احساس سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ہیلن کیلر انٹر نیشنل کے توسط سے آپ 25 ڈالر خرچ کر کے کسی بچے کے لیے بینائی کی عینک اور وٹامنز کا تحفہ دے کر اسے نابینا ہونے سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی طرح ’اگینسٹ ملیریا ڈاٹ کام‘ کے توسط سے آپ صرف پانچ ڈالر خرچ کر کے مچھر دانی کے تحفے سے افریقہ میں کسی گھرانے کے بچے کو ملیریا ا ور آخر کار موت سے بچا سکتے ہیں۔

اسی طرح پاکستانی کاروباری افراد کے شروع کیے گئے ’سٹیزن فاؤنڈیشن‘ جیسے اداروں کے توسط سے پاکستان میں غریب بچوں کے لیے اچھے اسکولوں کے تحفے میں اپنا حصہ ڈال کر انہیں دہشت گردی کی تربیت دینے والے مدرسوں سے دور رکھ سکتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی خوشی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔

اور اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کا یہ مضمون نگار یونیورسٹی کے طالبعلموں کے لیے تعطیلات کے ایک ممکنہ تحفے کا اعلان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ 2012ء میں اپنے ذاتی بند وبست کے سالانہ چھٹے مقابلے win-a-trip میں جیتنے والے کو کسی ایک ترقی پذیر ملک کا دورہ کرائے گا، تاکہ وہاں کے ان مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے جنہیں اب تک نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔

اور، مسائل صرف ترقی پذیر ملکوں ہی میں نہیں بلکہ امریکہ میں بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں خاص طور پر امیر اور غریب کے درمیان فرق اور بے روزگاری اور معاشی مسائل جن پر توجہ دلانے کے لیے ان دنوں امریکہ بھر میں انتہائی دولتمندوں کے خلاف’ وال اسٹریٹ پر قبضہ کر لو‘ نامی مہم جاری ہے۔ اِس کا کہنا ہے کہ یہ 99 فیصد عام لوگوں کی ان ایک فیصد لوگوں کے خلاف ایک جنگ ہے جوملک کی بیشتر دولت کے مالک ہیں ، جو اپنی مرضی کے سیاسی امیدواروں کو فنڈز دیتےہیں ، بنکوں کو کنٹرول کر تے ہیں اورلاکھوں ڈالر کے پے جیکس اور اربوں ڈالر کے بیل آؤٹس حاصل کرتے ہیں۔ لیکن، نہ تو مناسب ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی امریکی روز گار پیدا کرنے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جب کہ 99 فیصد باقی لوگ، کم تنخواہوں کی ملازمتیں کرتے ہیں لیکن پھر بھی اپنی آمدنی کا ایک مناسب حصہ ٹیکسوں میں ادا کرتے ہیں اس لئے یہ 99 فیصد عام لوگ امیر ترین ایک فیصد عام لوگوں کو اپنا دشمن قرار دیتے ہوئے ان کے خاف جنگ ضروری سمجھتے ہیں۔

اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے اپنے ایک اداریے میں اس مہم کی بنیادی اسٹریٹیجی میں نقص کی نشاندہی کی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک فیصد رئیس ترین طبقے میں میں شامل سبھی دولتمندوں کو 99 فیصد عام لوگوں کا دشمن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خاص طور پر بہت سے وہ لوگ جنہوں نے عام آدمی کی طرح اپنا کاروبار شروع کیا مگر اتنی بڑی بڑی ایجادات اور اختراعات سامنے لے کر آئے جن سے 99 فیصد عام لوگوں کی زندگیوں میں بہتری اور خوشحالی آئی ۔

اخبار لکھتا ہے کہ عام لوگوں کی پریشانی کی وجہ وال اسٹریٹ نہیں بلکہ واشنگٹن ہے جس کی پالیسیوں کی ناکامی اور سیاسی تعطل کے ایک سلسلے نے لوگوں کو اپنے نظر انداز کیےجانے کے شدید احساس سے دوچار کیا۔

اس لیے اخبار لکھتا ہے کہ وال اسٹریٹ کے لکھ پتی اور ارب پتی افراد کو موجودہ اقتصادی حالات کا ذمہ دار قرار دینا ایک غلطی اور خود کو آخر کار دھوکا دینے کے مترادف ہو گا۔کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ ان ایک فیصد امیر ترین کاروباری افراد میں سے سبھی لالچی یا خود غرض نہیں بلکہ وہ اصل میں 99 فیصد عام لوگوں میں شامل کامیاب ترین کاروباری افراد ہیں۔ اور اخبار لکھتا ہے کہ اگر ہمارے پاس ایسے افراد کی تعداد اور بھی زیادہ ہوتی اور سیاسی کھیل کھیلنے والے موجودہ سیاستدانوں کی تعداد مزید کم ہوتی تو ہم سب ہی کے حالات بہت بہتر ہوتے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG