رسائی کے لنکس

9/11نےدہشت گردی کوامریکہ کے قومی احساس کا حصہ بنا دیا ہے: لاس انجلیس ٹائمز

  • مدثرہ منظر

فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی حکومت میں ہوم لینڈ سکیورٹی تیسرا بڑا وفاقی ادارہ ہے جس میں دو لاکھ 30ہزار لوگ کام کرتے ہیں اور اس کا سالانہ بجٹ 55ارب ڈالر ہے

اخبار ’لاس انجلیس ٹائمز‘ میں Doyle McManusکے مضمون کا عنوان ہے The High Cost of Protecting America۔ وہ لکھتے ہیں دس سال پہلے9/11نے دہشت گردی کو ہمارے قومی احساس کا حصہ بنا دیا اور ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے تحت کام کرنے والے ادارے حفاظتی اور ہنگامی انتظامات پر سالانہ 22ارب ڈالر خرچ کرنے لگے ہیں۔

وفاقی حکومت میں ہوم لینڈ سکیورٹی تیسرا بڑا وفاقی ادارہ ہے جس میں دو لاکھ 30ہزار لوگ کام کرتے ہیں اور اس کا سالانہ بجٹ 55ارب ڈالر ہے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ عہدے دار رہمیں بارہا یقین دہانی کرواچکے ہیں کہ ہم 9/11سے اب کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔ اور، وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ القاعدہ کی مرکزی قیادت کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ کے خلاف منصوبے بناتے رہے ہیں، مگر اب تک اُن کے تمام منصوبے ناکام ہوئے ہیں۔

مک مانس خود ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا اِس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اندرونِ ملک سکیورٹی کی وسیع مہم کو کم کردینا چاہیئے؟

وہ کہتے ہیں جب یہی سوال ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر جینٹ نیپولیٹانو سے کیا گیا تو ایک لفظ میں اُن کا جواب تھا کہ ’نہیں‘۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے ماہرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو یہ سوال اُٹھانے لگے ہیں کہ آیا قومی سلامتی پر ضرورت سے زیادہ خرچ ہو رہا ہے؟ مگر لوگوں کی خواہش کہ زیادہ سے زیادہ محفوظ رہیں اور کانگریس کی خواہش کہ لوگوں کو خوش کیا جائے، دونوں نے مل کر ناممکن بنا دیا ہے کہ کوئی اخراجات پر انگلی اُٹھا سکے۔

اب بھلے ایک ایئرپورٹ سکینر ہویا بحری جہازوں کے ذریعے امریکہ آنے والے مال کی سکریننگ، وسیع لاگت کے کسی پروگرام کو روکا نہیں جاسکتا، کیونکہ حکام اُنھیں جاری رکھنے کے لیے 101دلائل لے آئیں گے۔

مگر ڈوئل مک مانس کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ احساس کیا جائے کہ ہر خطرہ ٹالہ نہیں جاسکتا اور نہ ہی سلامتی کے لیے پیسا بلا وجہ خرچ کرنا مناسب ہے۔

اخبار’ لاس ویگس سن‘ نے اپنے اداریے میںrenewableیا دوبارہ قابلِ استعمال توانائی کی افادیت بیان کی ہے۔ اخبار لکھتا ہے صدر براک اوباما کی انتظامیہ میں وفاقی حکومت نے قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک زیادہ جارحانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ مگر اُسے معدنی تیل کی صنعت اور کانگریس میں اس کے حامیوں کی جانب سے کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اُنھیں زیادہ اعتراض رنیوایبل توانائی کے منصوبوں کے لیے مالی مراعات اور ٹیکسوں میں چھوٹ پر ہے۔

اخبار لکھتا ہے ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اُن اشیا ٴ کی لاگت پر اعتراض کرتے ہیں جنھیں وہ پسند نہیں کرتے۔ لیکن، اگر امریکہ نے حالات جوں کے توں رکھنے کا فیصلہ کرلیا تو غیر ملکی تیل پر امریکہ کا انحصار کم نہیں ہوگا اور نہ ہی معدنی تیل کے استعمال سے ماحولیات پر مضر اثرات کم ہوسکیں گے۔

اخبار لکھتا ہے گذشتہ ہفتے لاس ویگس میں سینیٹ میں اکثریتی لیڈر ہیری ریڈ کی قیادت میں صاف توانائی کی قومی کانفرنس کے دوران توانائی کے وزیر سٹیون چو نے کہا تھا کہ اِس صنعت کو مدد کی ضرورت ہے، مگر غیر معینہ عرصے کے لیے نہیں اور نائب صدرجو بائیڈن بجا طور پر کہہ چکے ہیں کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے لیبارٹری سے باہر آکر کمپنیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور نجی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ چناچہ، اخبار آخر میں کہتا ہے یہ سرمایہ کاری قوم کے مفاد میں ہے اور اِسے سب کی حمایت حاصل ہونا چاہیئے۔

اخبار ’نیو یارک پوسٹ ‘ نے اپنے اداریے میں توجہ دلائی ہے کہ توانائی کے شعبے میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا اوباما انتظامیہ کا عزم پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔

اخبار لکھتا ہے جمعرات کو صدر اوباما کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں گے۔

مگر قوی امکان یہ ہے کہ وہ سلیکون ویلی میں شمسی توانائی کے پینل بنانے والی کمپنی، سلینڈرا کا ذکر نہیں کریں گے۔

اخبار لکھتا ہے سولر پینل اتنے ماحول دوست ہیں کہ اُن کی حمایت ایلگور کرچکے ہیں اور سلینڈرا کو وفاقی حکومت نے ساڑھے 53کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ضمانت دی تھی تاکہ وہ اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ملازمت دے۔ مگر ہوا اِس کے برعکس اور 1100لوگوں کو وہاں ملازمت سے نکال دیا گیا۔

اخبار لکھتا ہے گذشتہ ماہ اخبار’ نیو یارک ٹائمز ‘کی اطلاع کے مطابق دس سال میں 50لاکھ ماحول دوست ملازمتیں پیدا کرنے کا صدر اوباما کا خواب تاحال شرمندہٴ تعبیر نہیں ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جمعرات کی تقریب میں وہ امریکیوں کے ذہنوں میں اُٹھنے والے سوالوں کے کیا جواب دیتے ہیں اور ملازمتوں کے کتنے بند دریچے دوبارہ کھولنے کی امید پیدا کرتے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG