رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: انتخابی مہم اور افغان جنگ

  • واشنگٹن

افغان طالبان

افغان طالبان

واشنگٹن پوسٹ میں کالم نگار جیکسن ڈیل کہتے ہیں کہ دونوں صدارتی امیدوار افغانستان کی جنگ کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوج افغانستان میں طالبان سے سخت بر سر پیکار ہے

واشنگٹن پوسٹ۔ افغان جنگ نظر انداز ہورہی ہے
صدارتی انتخابات کے رواں سال میں صدر اوباما اور ان کے ری پبلکن حریف مٹ رامنی کے درمیان ایک قدر مشترک کی نشان دہی کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ میں کالم نگار جیکسن ڈیل کہتے ہیں کہ دونوں افغانستان کی جنگ کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں اور ایک ایسی خبر ہےجسے مسٹر اوباما اور مسٹر رامنی دونوں چاہتے ہیں کہ امریکی عوام نظر انداز کر د یں اور وہ یہ ہے کہ رواں موسم گرما میں افغانستان میں دسیوں ہزاروں امریکی فوجیں بر سر پیکار ہیں۔ اور اگرچہ آپ کو دونوں امیدواروں کو سننے کے بعد معلوم نہیں ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے ، کہ امریکی مرین اور فوج کے دستے اُس ملک کے جنوب اور مشرق میں طالبان سے جنگ میں مصروف ہیں۔ اور کافی تعداد میں ہلاک اور زخمی ہورہے ہیں۔

جولائی کے مہینے میں مرنے والے امریکی اور اتحادی فوجیوں کی تعداد 46 تھی۔ پچھلے سال ستمبر کے بعد یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جب کہ رواں ماہ یعنی اگست کے ابتدائی چند دنوں میں مزید چھ فوجی ہلا ک ہوئے ہیں ، اخبار کے بقول امریکی فوجی غزنی صوبے کے اندراور کابل اور قندھار کو ملانےوالی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کی جد و جہد میں مصروف ہیں۔اور اس کوشش میں ان کے خلاف گھات لگا کر کئے گئے حملو ں اورسڑک پر نصب کئے گئے بموں سے نُقصان اُٹھا رہے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما کے انتخابی خطابات کے برعکس اس جنگ کی رو فرو نہیں ہو رہی ۔ 30 جُون کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران باغیوں کےحملوں میں گیارہ فی صد اضا فہ ہو گیا، جون کے مہینے میں،39 اتّحادی فوجی ہلاک ہوئے اور حملوں کی روزانہ اوسط110 تھی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والےاتّحادی فوجوں کی تعداد میں گیارہ فی صد اضافہ ہو گیا۔

اخبار کے بقول سنہ 2011 کے مقابلے میں موسم گرما کی لڑائی سے یہ ظاہر ہو رہا ہے، کہ شکست کھانے کے برعکس طالباں کی کاروائیاں زور پکڑتی معلوم ہو رہی ہیں۔اس کے باوجُود مضمون نگار کی نظر میں امریکہ کی تاریخ میں یہ غالباً پہلی صدارتی انتخابی مہم ہے ۔ جس میں ایک جاری جنگ کے بارے میں کوئی معنی خیز مباحثہ نہیں ہو رہا۔اور ذرائع ابلاغ کو امید واروں نے اشارتاً یا واضح طور پر یہ کڑوا گھونٹ پینے پر آمادہ کر لیا ہے کہ جنگ میں ناکامی توہوئی ہے ۔ لیکن یہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اور یہ کہ سنہ 2014 تک وہاں سےتمام لڑنے والی فوجیں نکل آئیں گی۔ اور بقول مضمون نگار کےاوباما اور رامنی کے مابین اس پر اتفاق رائے ہے۔

نیویارک ٹائمز۔ صدراوباما کے انتخابی اخراجات
ا دھرنیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ،صدر اوباما نے انتخابی اخراجات کے لئے جمع کیا ہوا سرمایہ اب تک جس تیزی کے ساتھ خرچ کیا ہےوُہ حالیہ تاریخ میں کسی بر سر اقتدار امریکی صدر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ ان کی توقع یہ تھی کہ ابتدا ہی میں عملہ بھرتی کرنے ، انتخابی حلقوں میں دفاتر کھولنے اورانتخابی مہم کے بنیادی ڈھانچے کو اعلیٰ فنّیاتی خطوط پر استوار کرنےسے نومبر کے انتخاابات میں انہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ پچھلے سال کے اوائل ہی سے مسٹر اوباما اور ڈیموکریٹ، ووٹروں کی تلاش اور پھر انہیں رجسٹر کرنے پر کروڑوں ڈالر خرچ چکےہیں ، انہوں نے مختلف ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی شاخوں کو پانچ کروڑ ڈالر ، امداد میں فراہم کئے ہیں ، تاکہ وُہ انتخابی کارکنوں کو ملازم رکھ سکیں اُن کے موبائیل فونوں کا خرچ پُورا کریں ، اور ووٹروں کی فہرستوں میں نئے ووٹروں کے نام درج کرائیں۔ اُنہوں نے مزید کروڈوں ڈالر جن باتوں پر خرچ کئے ہیں۔ اُن میں رائے عامہ کے جائزے کرانا ، انٹرنیٹ پر اشتہاری مہم چلانا ، اور سافٹ وئیر تیار کرناشامل ہے ۔ تاکہ مسٹر اوباما کے رضاکاروں کی فوج کوفعال بنایا جائے، اخبار کے بقول پچھلے سال کے اوائل سے لے کر اس سال30 جون تک اس پر 40 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی ہے۔

لیکن اخبار کہتا ہے کہ اب جب کہ دونوں پارٹیوں کے قومی کنونشنو ں میں ایک ماہ رہتا ہے ۔ صدر اوباما کو نقدی میں ایک وقت جو زبردست فوقیت حاصل تھی۔وُہ ختم ہو گئی ہے۔ اور جولائی کے اوائل میں ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے پاس ڈیموکریٹوں کے مقابلے میں تقریباٍ25 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی نقدی موجود تھی ۔ اورباوجودیکہ مسٹر اوباما ، مسٹرر امنی کے خلاف کروڈوں ڈالر کی اشتہار بازی کر چکے ہیں ، لیکن اب صورت یہ ہے کہ مسٹر رامنی کے اُن سے کہیں زیادہ اشتہا رنظر آ رہے ہیں۔ اور اس میں مسٹر رامنی اُس بے تحاشہ دولت کا بھر پُور فائدہ اُٹھا رہے ہیں جو قدامت پسند سیُوپر پیک اور اور دوسری باہر کی تنظیمیں اُن پر لُٹا رہی ہیں ۔

ایکسپریس۔ شہد کی مکھیوں کا جہاز پر حملہ
اور آخر میں ایکسپریس اخبار میں شائع ہونے والی ایسوسی ایٹڈ پریس کی، شہد کی مکھیاں پالنے والے ایک ماہر کے بارے میں یہ رپورٹ،جس کے مطابق اُسے پٹس برگ کے بین الاقوامی ائر پورٹ پر اس لئے بلایا گیا تھا۔تاکہ شہد کی مکھیوں کےجُھنڈ کوایک طیارے کے پنکھے سے ہٹائے۔ جن کی وجہ سے اس کی پرواز میں تاخیر ہو رہی تھی۔ طیارے کا عملہ اس میں ایندھن ڈالنے گیا ۔ تو وہاں اس کے ایک پر کو شہد کی مکھیوں سے اٹا ہوا پایا، جس کے بعد اس ماہر کو بُلایا گیا۔اس سال ہونے والا یہ ایسا چوتھا واقعہ تھا۔
XS
SM
MD
LG