رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: دفاعی حکمتِ عملی


امریکی اخبارات سے: دفاعی حکمتِ عملی

امریکی اخبارات سے: دفاعی حکمتِ عملی

یہ سفارشات محکمہٴ دفاع کے ایک سٹڈی گرو پ کی کاوش کا نتیجہ ہےجِس کی مدد سے صدر کہتے ہیں ایک ایسی فوج وجود میں آئے گی جو چُست و چوکس، لچکدار اور کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات یا خطروں سے نبرد آزما ہو سکتی ہے: ’لاس اینجلس ٹایمز‘

صدر اوباما نے امریکی دفاعی اخراجات میں جِس دور رس کفایت کا اعلان کیا ہے، اُس پر ’لاس اینجلس ٹایمز‘ کہتا ہے کہ اس دفاعی حکمت عملی کے پیچھے بجٹ کی ضروریات کا ہاتھ یقیناً ہوگا۔ لیکن، اِس کا یہ ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ تبدیلی غیر ذمہ دارانہ یا عاقبت نا اندیشی پر مبنی ہے۔

بلکہ، یہ سفارشات محکمہٴ دفاع کے ایک سٹڈی گرو پ کی کاوش کا نتیجہ ہےجِس کی مدد سے صدر کہتے ہیں ایک ایسی فوج وجود میں آئے گی جو چُست و چوکس، لچکدار اور کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات یا خطروں سے نبرد آزما ہو سکتی ہے۔ ایسا دفاعی اخراجات میں اگلے دس سال کے دوران ، کم تر اضافے کرنے سے ممکن ہوگا ۔ چنانچہ، رواں سال کے لئے پچھلے سال کے مقابلے میں105 ارب ڈالر کی حد تک کم اضافہ ہوگا۔

رپورٹ میں زیادہ کفایت کی ضرورت پر زور د یا گیا ہے، جِس کا اخبار کے خیال میں، جیو پولیٹکل رجحانات کے تجزئے سے جواز ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً، اِس میں چین اور مشرق وسطیٰ کے معاملے میں دفاعی منصوبہ بندی نئے سرے سے ترتیب دینے کے لئے کہا گیا ہے اور یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ یورپی ممالک اب سیکیورٹی کا سامان خریدنے والے نہیں رہے ۔ بلکہ ،اُس کو خود تیار کرنے والے بن گئے ہیں۔

اِس میں افریقہ اور لاطینی امریکہ کو لاحق خطروں کی طرف زیادہ توجّہ دینے کا بھی پہلے سے اندازہ لگایا گیا ہے اور اس کا بھی کہ امریکہ سیکیورٹی کے مقاصد کے حصول کےلئے کم خرچ اور جدت طراز پالیسیوں کو فروغ دے گا۔

رپورٹ میں جوہری ہتھیاروں پر اُٹھنے والےخرچ میں محتاط انداز سےکمی لانےپر غور کرنے کی بات بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک کم تر جوہری فورس کی مدد سے ملک کے مزاحمتی مقاصد حاصل کئے جائیں جس کے نتیجے میں ایک تو جوہری بموں کی تعداد میں کمی کی جا سکتی ہےاور ملک کی سیکیورٹی کی حکمت ِعملی میں اُن کا رول بھی کم ہو جائے گا۔

کیا ایسی حکمت ِعملی کو موثّر طور پرترک کردیا گیا ہے جِس کا تقاضہ ہےکہ امریکہ کے لئے بیک وقت دو بڑی جنگیں لڑنے کے لئے تیار ہو؟ رپورٹ میں پالیسی کی اس تبدیلی کو ردّ کردیا گیا ہے۔بلکہ، اس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی فوجیں دنیا کے ایک علاقے میں وسیع پیمانے کی لڑائی میں مصروف ہوں اُس کے باوجود اُن میں یہ صلاحیت ہونی چاہئیے کہ وہ کسی اور علاقے میں کسی موقع پرست جارح ملک کے مقاصد کو ناکام بنا دیں۔

سنہ 2011 کی دوسری ششماہی کے دوران امریکہ میں روزگار کی صورت حال میں خاصی بہتری آئی اور دسمبر کے مہینے میں روزگار کے دو لاکھ نئے مواقع پیدا ہوئے۔ اور بے روز گاری کی شرح 8 اعشاریہ 7 سے کم ہو کر 8 اعشاریہ 5 رہ گئی ۔‘وال سٹریٹ جرنل‘ کےمطابق یہ معاشی ماہرین کی پیش گوئیوں سےبھی بہتر اعدادو شمار ہیں جن کا اندزہ تھا کہ صرف ڈیڑھ نئی اسامیاں پیدا ہونگی ۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ اِس کے باوجود صدر اوباما کو نومبر کے انتخابات تک بے روزگاری کی جس شرح کا سامنا ہوگاوہ دوسری عالمی جنگ کے بعدکسی بھی برسر اقتدار صدر کے لئے سب سے زیادہ ہے۔ لیکن اگربےروزگاری کی شرح اسی طرح گرتی رہی تومسٹر اوباما کو اس سے فائدہ ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ صدر کے دوبارہ منتخب ہونے کا دارومدار بذاتِ خود بےروزگاری کی شرح پر کم ہے اور انتخابات کے دن سے پہلے کے ایک یا دو برسوں کے دوران روزگار کے رُجحانات پر زیادہ ۔ بہت سے تاجروں کا کہنا ہے کہ صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئےوہ اپنے یہاں زیادہ ملازم رکھیں گے۔

اخبار’نیو یارک پوسٹ‘ کہتا ہےکہ سنہ 2011 میں معیشت میں روزگار کے 16 لاکھ کے نئے مواقع پیدا ہوے جب کہ اس سے ایک سال قبل یہی اعدادو شمار 9 لاکھ 40 ہزار تھے۔ معاشیات کے ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اس سال 21 لاکھ سے زیادہ نئی اسامیاں نکلیں گی۔

اخبار کہتا ہے کہ اِس صحتمند مارکیٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے مثبت اعدادو شمار سامنے آئے ہیں اور گذشتہ سال کا خاتمہ بھی اِسی رفتار کے ساتھ ہوا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG