رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: نیٹو سپلائی کی بحالی، ایک غیر ضروری بحران کا خاتمہ


'نیو یارک ٹائمز' نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا سہرا امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے سر باندھا ہے۔

'نیو یارک ٹائمز' نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا سہرا امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے سر باندھا ہے۔

اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی کی بحالی کو ایک احسن قدم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس اقدام نے پاکستان اور امریکہ، دونوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بگڑنے سے بچا سکیں۔

اپنے ایک اداریے میں اخبار نے لکھا ہے کہ دونوں ممالک کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے تک پہنچنے میں بہت وقت لگا لیکن بالآخر کئی مہینوں بعد ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔ اخبار کے مطابق اس تنازع کا حل ہونا دونوں ہی ملکوں کی ضرورت تھی اور اس کے نتیجے میں دونوں نے ہی کچھ نہ کچھ حاصل کیا ہے۔

'نیو یارک ٹائمز' کے مطابق پاکستان کی جانب سے رسد کو راہداری دینے سے انکار کے باعث امریکہ کو سات ماہ تک افغانستان میں تعینات اپنی افواج کو درکار ضروری ساز و سامان روس اور وسطی ایشیا سے گزرنے والے طویل راستے کے ذریعے بھیجنا پڑا جس پر ماہانہ 100 ملین ڈالر اضافی خرچ ہورہے تھے۔

پاکستان کی جانب سے نیٹو رسد بحال کرنے کے بعد امریکہ نہ صرف اس اضافی خرچ سے بچ جائے گا بلکہ نیٹو افواج 2014ء تک افغانستان سے انخلا سے قبل اپنا لاکھوں ٹن سامان اور آلات وغیرہ بھی باآسانی افغانستان سے منتقل کرسکیں گی ۔

'نیو یارک ٹائمز' نے لکھا ہے کہ نیٹو رسد کو راہداری دینے سے انکار کی پاکستان نے بھی بھاری قیمت چکائی ہے ۔ رسد کی معطلی پر امریکہ نے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی مد میں دی جانے والی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم روک لی تھی جب کہ اس دوران کانگریس نے بھی پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد میں کٹوتیاں کرنے کے لیے بعض اقدامات کیے۔
نیٹو رسد کو راہداری دینے سے انکار کی پاکستان نے بھی بھاری قیمت چکائی ہے


اخبار کے مطابق بظاہر انہی اقدامات کے ذریعے پاکستانی رہنمائوں کو یہ احساس دلانے میں مدد ملی کہ اس تنازع نے انہیں صرف امریکہ کے ہی نہیں بلکہ نیٹو میں شامل ان 40 سے زائد ممالک کے بالمقابل لا کھڑا کیا ہے جن کی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں۔

'نیو یارک ٹائمز' نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا سہرا امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے سر باندھا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سیکریٹری کلنٹن نے پاکستان کے مطالبے کے باوجود سلالہ حملے پر معافی مانگنے کے بجائے واقعے میں پاکستانی فوج کو ہونے والے نقصان پر محض افسوس کا اظہار کرکے معاملہ نبٹادیا۔

'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ قوی امکان ہے کہ دونوں ممالک میں موجود ناقدین اس اتفاقِ رائے پر اپنی اپنی حکومتوں کو خوب سنائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں استحکام لانے اور طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے ۔

اخبار کے مطابق اس نئے اتفاقِ رائے نے ایک غیر ضروری بحران کو تو حل کردیا ہے، لیکن دونوں ملکوں کو بداعتمادی سے بھرپور اپنے تعلقات سدھارنے کے لیے اس کے علاوہ بھی مزید بہت کچھ کرنا ہوگا۔



کیا پابندیاں ایران کا رویہ تبدیل کرپائیں گی؟

اخبار 'لاس اینجلس ٹائمز' نے اپنے ایک مضمون میں اقتصادی پابندیوں کے ایران پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ رواں ہفتے ایران پر عائد کی گئی وہ نئی امریکی پابندیاں بھی موثر ہوگئی ہیں جن کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات اور دیگر تجارت کو روکنا اور بیرونِ ملک موجود ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنا ہے۔

'لاس اینجلس ٹائمز' کے مطابق عالمی برادری انتہائی توجہ سے اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ نئی پابندیاں ایران کے اپنے جوہری پروگرام پر دیرینہ سخت موقف میں کوئی تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں گی اور ان کے ذریعے ایران کو اس تنازع کا کوئی سفارتی حل نکالنے پر آمادہ کیا جاسکے گا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ماضی میں ایران کے خلاف امریکہ کی حکمتِ عملی مکمل طور پر پابندیوں پر منحصر تھی لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس میں تبدیلی آئی ہے اور اب پابندیوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے جن کی ناکامی کی صورت میں ایران کو فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دی جارہی ہے۔

'لاس اینجلس ٹائمز' نے لکھا ہے کہ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں قوی امکان ہے کہ ایران مغربی ممالک کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے اور ایرانی معیشت بری طرح دبائو میں آچکی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایرانی تیل کی برآمدات میں دس لاکھ بیرل یومیہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کا ایران کے بجٹ پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ ایرانی ریال کی قدر تیزی سے کم ہورہی ہے جس کے باعث ملک میں افراطِ زر عروج پر ہے۔
گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایرانی تیل کی برآمدات میں دس لاکھ بیرل یومیہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے


لیکن 'لاس اینجلس ٹائمز' کے مطابق یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ معیشت کی یہ خراب حالت بھی ایرانی رہنمائوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور نہ کرسکے۔ لہذا ایرانی رہنمائوں کے ارادوں کا درست اندازہ لگانے کے لیے ایرانی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی مذاکرات میں ان کے رویے پر بھی نظر رکھنی ہوگی ۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر گزشتہ ماہ روس میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اقتصادی پابندیاں اب تک ایرانی رہنمائوں کا موقف تبدیل نہیں کرسکی ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کو پابندیوں کے ساتھ ساتھ دیگر طریقوں سے بھی ایران پر دبائو بڑھانے کی مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
XS
SM
MD
LG