رسائی کے لنکس

یہ گمان قبل از وقت ہوگا کہ القاعدہ اب تباہی کے دہانے پر ہے: لاس اینجلس ٹائمز

  • مدثرہ منظر

فائل فوٹو

فائل فوٹو

’نیو یارک پوسٹ ‘ لکھتا ہے: اگرچہ، شام کے خلاف نئی تعزیریں عائد کی گئی ہیں، مگر ماضی میں یہ تعزیریں کچھ زیادہ کارگر نہیں رہیں۔ چناچہ، امریکی عہدےدار محض یہ بیان دینے پر اکتفا کررہے ہیں کہ شام کے صدر تاریخ کے غلط رُخ پر ہیں اور اپنا جائز مقام کھو چکے ہیں۔ لیکن، اخبار کا کہنا ہے کہ اگر صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا اعلان اتنا ہی مشکل ہے تو پھر بہتر ہے کہ منہ بند رکھا جائے

اخبار’ لاس اینجلس ٹائمز ‘کے ادارتی صفحے پر’ کونسل آن فارین رلیشنز‘ کے قومی سلامتی کے امور کے ماہر میکس بوٹ کا ایک مضمون چھپا ہے جِس کا عنوان ہے ’قومی سلامتی کا جھوٹا احساس‘۔

وہ لکھتے ہیں اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے امریکہ نے جو حملہ کیا اُسے ابھی تین ماہ کا ہی عرصہ ہوا ہے مگر یہ ابھی سے امریکی اسپیشل آپریشن کمانڈ کی تاریخ کا روشن باب بن چکا ہے اور اوباما انتظامیہ بھی اِس پر فخر محسوس کر رہی ہے۔

تاہم، مصنف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں حکومتی عہدے داروں کا یہ گمان قبل از وقت ہوگا کہ القاعدہ اب تباہی کے دہانے پر ہے ، اور اخبار کے مطابق، القاعدہ واحد دہشت گرد گروپ بھی نہیں جِس کے بارے میں امریکہ کو فکر ہونی چاہیئے۔

مصنف کے مطابق، عراق میں القاعدہ سنہ 2007اور 2008ء میں شکست سے پہلے عراق میں سنی اکثریت کے اکثر علاقوں میں غلبہ رکھتی تھی۔ حماس نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اپنی حربی قوت میں اضافہ کررہی ہے، حزب اللہ لبنان میں طاقتور ترین فورس ہے اور اِس کے پاس بعض دیگر ممالک سے زیادہ میزائل ہیں۔پاکستانی طالبان اسلام آباد میں حکومت کو پہ در پہ دہشت گردی کے واقعات میں الجھائے رکھتے ہیں اور لشکرِ طیبہ بھارت میں دہشت گرد حملوں کے ذریعے بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لے آئی تھی اور دوبارہ بھی حملہ کر سکتی ہے۔

چناچہ، اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ میں میکس بوٹ اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب صدر بش نے وقت سے پہلے ہی عراق میں فتح کا اعلان کردیا تھا۔ اب ایسا نہ ہو اوباما اور اُن کے معاونین اِسی غلطی کا اعادہ کریں۔

اخبار’ نیو یارک پوسٹ‘ کے اداریے کا عنوان ہے ’پنٹنگ آن سیریا‘۔ اخبار لکھتا ہے گذشتہ ہفتے جب شام کے لوگ رمضان مبارک کا استقبال کر رہے تھے، شام کے لیڈر بشار الاسد حما میں سینکڑوں مظاہرین کو ہلاک کرنے اور ٹینک اور فوجی تعینات کرنے میں مصروف تھے۔

اخبار لکھتا ہے صدر اسد بھی اپنے باپ کے نقشہ قدم پر چل رہے ہیں۔ اُن کے والد نے 1982ء میں حما میں ایک ماہ کے آپریشن میں 10000عام شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔

اخبار لکھتا ہے ترکی نے حما کی تازہ ترین کارروائی میں 300افراد کی ہلاکت کو ’جبر‘ قرار دیا ہے۔ مگر وائٹ ہاؤس صرف آنکھ جھپکا کر رہ گیا۔

اخبار کے مطابق لیبیا کے لیڈر معمر قذافی نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ٹینک استعمال کیے تو صدر اوباما نے سوچا کہ امریکی مفادات اور اقتدار بھی داؤ پر لگ گئیں اور فوراً اِس قتلِ عام کو روکنے کے لیے جنگی اقدام کیا۔ مگر صدر اسد کو روکنے کے لیے ایسی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی۔

اگرچہ، نئی تعزیریں عائد کی گئی ہیں مگر ماضی میں یہ تعزیریں کچھ زیادہ کارگر نہیں رہیں۔ چناچہ، اخبار لکھتا ہے امریکی عہدےدار محض یہ بیان دینے پر اکتفا کررہے ہیں کہ شام کے صدر تاریخ کے غلط رُخ پر ہیں اور اپنا جائز مقام کھو چکے ہیں۔ لیکن، اخبار کا کہنا ہے کہ اگر صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا اعلان اتنا ہی مشکل ہے تو پھر بہتر ہے کہ منہ بند رکھا جائے۔

بعض امریکی اخبارات نے اپنے اداریوں میں امریکی قرضوں کی حد بڑھانے اور خسارہ کم کرنے کے تازہ ترین سمجھوتے کو بھی موضوع بنایا ہے۔

اخبار ’فلاڈیفیا انکوائرر‘ کے اداریے کا موضوع ہے ’رپیٹ دِی فرسٹ ورس‘۔ اخبار لکھتا ہے کانگریس اور صدر اوباما نے وفاقی حکومت کی مالیاتی امور کو سنبھالہ دینے کے لیے آخری وقت میں ایک قدم اُٹھایا ہے مگر اب بڑا بوجھ اُس 12رکنی سُپر کمیٹی پر ڈال دیا گیا ہے جِس کے ارکان کا انتخاب بھی ابھی نہیں ہوپایا۔

اخبار لکھتا ہے ڈیموکریٹس اب بھی اصرار کر رہے ہیں کہ روینیو کو کسی بھی دیرپہ حقیقت پسندانہ اور منصفانہ حل کا حصہ ہونا چاہیئے جب کہ ایوان میں اکثریتی لیڈر ری پبلیکن ایرک کینٹر کا کہنا ہے کہ ایوان ٹیکسوں میں اضافے کا کوئی بل قطعاً منظور نہیں ہونے دے گا۔

اخبار لکھتا ہے کانگریس میں ری پبلیکن اِس حقیقت کو نظر انداز کررہے ہیں کہ وفاقی آمدنی امریکی معیشت کا صرف 14فی صد رہ گئی ہے جو 40برسوں میں کم ترین سطح ہے۔

اخبار لکھتا ہے اگر ٹیکسوں میں کمی ہی اِس مسئلے کا واحد علاج ہوتی تو آج ہم معاشی لحاظ سے صحت یابی کی راہ پر گامزن ہوتے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG