رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: عراق میں امریکی سفارتخانہ

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: عراق میں امریکی سفارتخانہ

امریکی اخبارات سے: عراق میں امریکی سفارتخانہ

سفارت خانے کا بجٹ 6 ارب ڈالر ہے، اُس کی اپنی فضائی کمپنی ہے، تین اسپتال ہیں۔ وہ اپنی تمام خوراک خود درآمد کرتا ہے اور اِس سفارت خانے کا احاطہ تقریباً ویٹی کن سٹی کے برابر ہے

’واشنگٹن پوسٹ‘ کی اطلاع ہے کہ امریکہ اِس پرغور کر رہاے ہے کہ بغداد میں اُس کا سفارت خانہ کتنا بڑاہونا چاہئیے۔ اِس وقت، عراق میں اس سفارت خانے میں 16 ہزار افراد کام کرنے کر رہے ہیں، جسے اخبار نے ایک ملک کے اندر ایک اور ملک سے تشبیہ دی ہے۔

سفارت خانے کا بجٹ 6 ارب ڈالر ہے، اس کی اپنی فضائی کمپنی ہے، تین اسپتال ہیں۔ وہ اپنی تمام خوراک خود درآمد کرتا ہے اور اس سفارت خانے کا احاطہ تقریباً ویٹی کن سٹی کے برابر ہے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ سات سال قبل جب اس سفارت خانے کی تعمیر شروع کی گئی تھی، تو اُس وقت عراق میں امریکی مفادات غیر محدود معلوم ہو رہے تھے۔ لیکن، اِس وقت ناقدین کہتے ہیں کہ، بے انداز لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ سفارتی مشن سفید ہاتھی لگنے لگا ہے، جس کی افادیت مشکُوک ہے۔ اور جیسا کہ سینیٹ میں دفتر خارجہ کے اخراجات کی کمیٹی کے چیرمن پیٹرک لے ہی کہتے ہیں، 104 ایکڑ پر پھیلی ہوئی اِس عمارت کا رنگ و روغن سوکھنے سے پہلے یہ عمارت آثار قدیمہ لگنے لگی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ سفارت خانے کے 16 ہزار کے عملے میں سے تقریباً 5 ہزار عراق کےساتھ سیکیورٹی میں تعاون کے دفتر کو دئے گئے ہیں۔ ان میں عراق کے سینئر پولیس سُو پر وائزروں کو تربیت دینے والے لوگ شامل ہیں۔ ایک ہزار کو چھوڑ کر باقی تمام امدادی عملہ ہےجو مختلف امریکی تنصیبات میں تربیت دینے والوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اُنھیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ محکمہء دفاع کے ٹھیکیدار اُن چھ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو چلاتے ہیں جو مقامی طور پر سفارت خانے کی ہوائی کمپنی کے نام سے مشہور ہے۔ کویت سے کھانے پینے کی رسد لانے والے قافلوں کی حفاظت سیکیورٹی کے پرایئویٹ ٹھیکیداروں کے ذمّے ہے۔

سفارت خانے میں سفارت کاروں، انٹلی جنس کے اہل کاروں اور تجارت سے متعلّق کارندوں کی تعداد دو ہزار ہے۔

اخبار نے محکمہء خارجہ کے انڈر سکرٹری پیٹرک کینیڈی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہائٹ ہاؤس نے اس سفارت خانےکے سائز کو کم کرنے کے لئے نہیں کہا ہےاور ایسی کوئی علامات نہیں ہیں ٴکہ اس کے بجٹ میں کٹوتی کی جائے گی۔ لیکن، بغداد اور واشنگٹن میں عہدہدار اِس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اِس سفارت خانے کا سائز مناسب ہے۔

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون‘ کہتا ہے کہ دو سال قبل صدر براک اوبامہ نے قوم کے نام اپنے سالانہ خطاب میں سپریم کورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت کے اُس فیصلے کو غلط قرار دیا تھا، جِس کے تحت امریکی انتخابات کی مہم میں کارپریشنوں کو بلا روک ٹوک پیسہ خرچ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن، اب صدر نے اِس بنیادی اصول کو ترک کردیا ہے اور اُن کے مشیروں نے اعلان کیا ہے کہ سُپر پولٹکل ایکشن کمیٹی کی لامحدود چندہ جمع کرنے میں امداد کی جائے گی ، تاکہ، اسے صدر کو دوبارہ منتخب کرانے کی مہم پر خرچ کیا جائے ۔

اخبار کہتا ہے کہ اس اعلان سےپہلے اس بدعنوان طریق کار کی صرف ری پبلکن سیاست دانوں کی حمائت حاصل تھی، جنھوں نے پچھلے سال مسٹر اوبامہ اور ڈیموکریٹوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے 51 ملین ڈالر جمع کئے تھے جب کہ ری پبلکن صدارتی امیدواروں کی پولٹکل ایکشن کمیٹیوں نے 40 ملین ڈالر جمع کئے ہیں۔ ڈیموکریٹک اور ایک ایکشن کمیٹی نے 19 ملین ڈالر جمع کئے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوبامہ اس خسارے کو چھوٹے چھوٹے چندوں کی مدد سے اورکئی دوسرے طریقوں سے پورا کر سکتے تھے، لیکن، اُنھیں جو اخلاقی برتری حاصل تھی وو اب اس سے محروم ہو گئے ہیں۔ سنہ 2008 کے انتخابات میں انھوں نے پبلک فنینسنگ سسٹم کے مروجّہ طریق کار کو استعمال نہ کر کےاس کو پہلے ہی نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن ان کا نیا قدم اخبار کی نظر میں اس سے بھی بُرا ہے۔اب وہ کسی بھی سوپر پیک سےپیسہ قبول کریں گے ۔ سیدھے سادھے الفاظ میں وہ ملک کو بتارہے ہیں کہ دوبارہ منتخب ہونا اصول پر ڈٹّے رہنے کے مقابلے میں زیادہ بڑی بات ہے ۔

شکر اور موٹاپے کے باہمی تعلّق پر ’ شکاگو سن ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ اس میں شبہ نہیں کہ شکر کے بارے میں آج کل کوئی اچھی بات کرنے پر تیا رنہیں، لیکن کیلی فورنیا کےسائینس دانوں کی ایک جماعت کی یہ دلیل ہے کہ شکّر کی ایسی سخت عادت پڑ جاتی ہے کہ اس پر بھاری ٹیکس لگنا چاہئیے اور اسے الکحل اور دواؤں کی طرح قواعد و ضوابط کا پابند کر دینا چاہئیے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موٹاپہ امریکہ کا ایک قومی مسئلہ بن چکا ہےجس کا الزام بہت زیادہ حد تک شکر پر عائد ہوتا ہے۔ امریکی روزانہ اوسطاً 22 چمچے چینی کھاتے یا پیتے ہیں۔ یعنی آج سے 30 سال پہلے کے مقابلے میں تین گُنا زیادہ ۔ یہ ساری مقدار شکردان سے نہیں آتی۔ اس کی بیشتر مقدار تیار کی گئی غذاء روٹی اور اناج میں سے آتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس ہفتے خاتونِ اول مِشل اوبامہ ملک کے تین روزہ دورے پر جا رہی ہیں، یہ ان کی اس مہم کی دوسری سالگرہ ہے جو اُنھوں نے بچوں میں موٹاپے کے خلاف شروع کر رکھی ہےاور جس کی طرف قوم کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG