رسائی کے لنکس

امریکی اخباروں کے اداریے اور مضامین: امن عمل


امریکی اخباروں کے اداریے اور مضامین: امن عمل

امریکی اخباروں کے اداریے اور مضامین: امن عمل

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ فلسطینی صدر محمود عباس اِس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت امن معاہدہ نہیں کر سکتی۔ لہٰذا، وہ مذاکرات سے قبل شرائط عائد کرتے ہیں۔اِسی طرح، اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو اِن شرائط کو انتہائی سخت اور غیر معمولی تصور کرتے ہیں اور اِن شرائط کے ساتھ وہ مذاکرات میں جاکر قطعاً کوئی سیاسی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنے ایک مضمون میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں جاری تعطل کے بارے میں حاشیہ آرائی کی ہے۔

مضمون نگار ڈینس راس نے، جو صدر براک اوباما کے خصوصی معاون کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، اسرائیل کے ایک نائب وزیر اعظم کے ایک جملے کا حوالہ دیا ہے کہ امن عمل کی مثال سائیکل سواری کی طرح ہے۔ اگر آپ پیڈلنگ چھوڑ دیں گے تو گِر جائیں گے۔اسرائیل اور فلسطین دونوں فریقوں نے اِس وقت پیڈل چلانا چھوڑ دیے ہیں۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ فلسطینی صدر محمود عباس اِس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت امن معاہدہ نہیں کر سکتی۔ لہٰذا، وہ مذاکرات سے قبل شرائط عائد کرتے ہیں۔

اِسی طرح، اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو اِن شرائط کو انتہائی سخت اور غیر معمولی تصور کرتے ہیں اور اِن شرائط کے ساتھ وہ مذاکرات میں جاکر قطعاً کوئی سیاسی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے، جب کہ امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کا چار کا گروہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے نمائندےاصل فریقوں کے درمیان فوری طور پر بلا واسطہ مذاکرات پر مصر ہیں۔

مضمون نگار کے بقول، یہ بات قابلِ فہم بھی ہے کہ مذاکرات کے بغیر امن تو کسی صورت نہیں آسکتا۔

مصنف نے اسرائیل کی جانب سے اپنے ایک فوجی گیلاد شلیط کی حماس سے بازیابی کے عوض سینکڑوں فلسطینیوں کی رہائی اور عرب ملکوں میں حالیہ تحریکوں کے پسِ منظر میں فلسطین میں دوریاستی حل کی سیاسی کوششوں کی متوقع حمایت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے کہ امن عمل میں یہ تعطل ختم ہو سکتا ہے۔

وہ اِس ضمن میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے فلسطین کے اندر اداروں کے استحکام کی حمایت اور مدد کو بھی مستحسن اقدام خیال کرتے ہیں۔

’واچنگ ایلیفنٹس فلائی‘ عنوان ہے اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا۔ مصنف کے مطابق مصر میں جمہوریت کی حمایت والے مظاہروں کے بعد جو تبدیلی دیکھنے میں آئی اُس کا تصور بھی ایک دور میں محال تھا۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے ایک ہاتھی ہوا میں اُڑ رہا ہو اور کسی کو یقین نہ آرہا ہو۔ لیکن، مصنف ورتہ حیرت میں پڑے رہنے کے بجائے چوکنہ کرتے ہیں کہ اِن تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جِن جدت پسندوں اور روشن خیالوں نے صدر حسنی مبارک کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا آج وہ خود کچلے جارہے ہیں اور ملک کے عام پارلیمانی انتخابات میں لبرل نہیں بلکہ مذہبی قدامت پسند جماعتوں نے اکثریت حاصل کرلی ہے جنھیں مجموعی طور پر 65فی صد نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

مصنف کے بقول، اِن حالات میں مصر کے اندر ایک تھیوکریٹک یعنی مذہب پرست اور خواتین کے حقوق کی مخالف جماعتوں کے اُبھر کر سامنے آنے پر کسی تشویش کا نہ ہونا اگر غیر حقیقت پسندانہ ہوگا تو دوسری طرف یہ تصور کرلینا کہ یہ جماعتیں اقتدار کی ذمہ داری کے بعد جدت پسندی سے قطعاً کوئی اثر نہ لیں گی، یہ بھی حقیقت سے کوسوں دور بات ہوگی۔ کیونکہ، ملک کی آج کی سیاست ایک شفاف حکومت اور روزگار کی ترجیحات کے گِرد گھومتی ہے۔

اخبار ’فلاڈیلفیا انکوائرر‘ نے اپنے ایک اداریے میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اِس کے زندگی پر اثرات کے پسِ منظر میں قانون سازی پر زور دیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ میں آئین اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن، اخبار چند واقعات کو بنیاد بناتے ہوئے لکھتا ہے کہ حالیہ دِنوں میں فیس بک اور ٹوٹر پر اپنے افسران یا ادارے کے بارے میں ریمارکس پر کچھ شہریوں کو بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ إِسی طرح، کچھ طلبا کو بھی اپنے تعلیمی اداروں میں اِس بابت مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تفصیل آڈیو رپورٹ میں:

XS
SM
MD
LG