رسائی کے لنکس

اوباما ملک کے لیے نیا اقتصادی راستہ متعین کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں: ’ڈیٹرائیٹ نیوز‘

  • صلاح احمد

وال اسٹریٹ

وال اسٹریٹ

اخبار کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے پر دوہرا ٹیکس بھی لگا دیا گیا تو بھی خسارہ دور نہیں ہوگا، لیکن اگر استحقاق کی مراعات مثلاً سوشل سکیورٹی ، میڈی کیر اور میڈک ایڈ کو سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ مرتب کیا جائے تو یہ ممکن ہوجاتا ہے

اخبار’ڈیٹرائیٹ نیوز‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ صدر اوباما ملک کے لیے ایک نیا اقتصادی راستہ متعین کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور اِس ڈگمگاتی معیشت کے لیے اُن کے خیالات بالکل ویسے ہی ہیں جو پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ قوم اِس بات کی منتظر تھی کہ صدر سے ایسے اشارے ملیں گے جِن سے معیشت کو موجودہ دلدل سے نکالا جائے۔

لیکن قومی قرض کے معاملے میں امریکی تاریخ میں اِس کی کریڈٹ ریٹنگ یا قرضے واپس کرنے کی صلاحیت کو’ ٹرپل اے‘ سے گھٹا کر’ ڈبل اے پلس‘ کرنے کا فیصلہ آنے کے بعد اباما کا جواب یہ تھا کہ Stimulusکے نام پر مزید اخراجات اور زیادہ ٹیکس کا سہارا لیا جائے۔

اخبار کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے پر دوہرا ٹیکس بھی لگا دیا گیا تو بھی خسارہ دور نہیں ہوگا، لیکن اگر استحقاق کی مراعات مثلاً سوشل سکیورٹی ، میڈی کیر اور میڈک ایڈ کو سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ مرتب کیا جائے تو یہ ممکن ہوجاتا ہے۔

ٹیکس بڑھانے کے علاوہ، جِس سے اخبار کی نظر میں اقتصادی شرحِ نُمو مندی کا شکار ہوجائے گی، صدر اوباما نے بنیادی ڈھانچے پر جو سرمایہ لگانے کے لیے کہا ہے اُس پر اخبار کہتا ہے کہ صدر نے ابتدا میں 800ارب ڈالر کا جو Stimulus Packageشروع کیا تھا اس کی مدد سے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ہونی چاہیئے تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ اس وقت ملک کی شرح نمو نے صرف ڈیڑھ فی صد ہے اور اخبار نے بعض ماہرینِ معاشیات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک شاید پہلے ہی دوسری معاشی کساد بازاری کے دور میں داخل ہوچکا ہے۔

اخبار ’لاس ویگس سن‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی Standard & Poor’sیاS&Pنے امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ AAAسے گھٹا کرAA+کرنے کے فیصلے کے ساتھ یہ کہا ہے کہ قومی قرض کی حد بڑھانے پر جو سمجھوتہ ہوا ہے اُس میں کافی کچھ نہیں کیا گیا ہے اور اُس نے اِس بات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ صدر اوباما اور کانگریس نے اِس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

اخبار کہتا ہے کہ S&Pکی یہ کارروائی کسی حیرانی کی باعث نہیں، کیونکہ اِس ادارے نے پہلے ہی یہ عندیہ دے دیا تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔ محکمہ ٴ خزانہ نے اُن غلطیوں کی نشاندہی کردی تھی جو اس نے حقائق کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کی ہیں اور یوں بھی اخبار کہتا ہے اس ادارے کی شُہرت کوئی شاندار نہیں ہے۔

اِسی ادارے نے دوسری کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر 2008ء کے مالیاتی پگھلاؤ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ وہ ایجنسیاں تھیں جنھوں نے اُن خطرناک سرمایہ کاریوں کو زبردست ریٹنگ دی تھی جِن کی وجہ سے بعد میں کساد بازاری آئی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ اِس ایجنسی کی صریح غلطی تھی کہ اُس نے امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ گِرا دی۔

امریکہ کو تو بہرحال قرض ادا کرنا ہے البتہ، اُس نے ایک حقیقی مسئلے کی نشاندہی ضرور کی ہے۔ وہ یہ کہ واشنگٹن کی سیاسی صورتِ حال بے عملی کی شکار ہے۔

اخبار نے ری پبلیکن لیڈروں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اُن کے اِس مؤقف کو ڈھٹائی سے تعبیر کیا ہے جِس میں وہ قوم کے قرضے کی ذمہ داری صدر اوباما پر ڈالتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ری پبلیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اِس میں اُن کا اپنا کتنا ہاتھ ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ یہ ایک ری پبلیکن صدر تھا جس نے دو جنگیں شروع کیں اور ایک ری پبلیکن کانگریس تھی جِس نے دولتمندوں کے ٹیکسوں میں بھاری چھوٹ کی منظوری دے دی۔ نتیجتاً وفاقی قرضے میں ڈرامائی اضافہ ہوگیا۔

اخبار کہتا ہے کہ ملک اب اس قسم کی مزید بے عملی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے اور ری پبلیکنوں کا چاہیئے کہ وہ ڈیموکریٹوں کے ساتھ مل کر قوم کے مسائل کا دونوں پارٹیوں کی حمایت سے حقیقی حل نکالیں۔

اخبار ’ہیوسٹن کرانیکل‘ امریکیوں میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر لکھتا ہے کہ ملک میں ’جنک فوڈ‘ کے لیے لوگوں کی اشتہا بے قابو ہوگئی ہے۔ نتیجتاًٍ، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ صحت کے اِن سنگین مسائل کے جوان لوگ زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔

اِن امراض میں گردوں کی بیماری کا اضافہ ہوا ہے جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں اور گردے فیل ہوسکتے ہیں جس کا علاج یا تو Dialysisہے یا پھر گردے کی پیوند کاری۔

اخبار کہتا ہے اس پر بے تحاشا لاگت آتی ہے اور 2008ء کے دوران مجموعی طور پر اس کے علاج پر 35ارب ڈالر سے زیادہ کی لاگت آئی تھی۔

اخبار کے بقول 2009ء میں چار لاکھ افراد Dialysisپر تھے۔ اِس علاج پر بہت وقت اور پیسہ لگتا ہے اور عام صحت پیچیدگیوں کا شکار ہوتی ہے۔ بہترطریقہٴ کار گردے کی پیوند کاری ہے۔ جو لوگ گردہ پیوند کراسکیں وہ زیادہ معمول کی زندگی گرازنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ لیکن گردے کا عطیہ دینے والوں کی تعداد کم ہے جس کی وجہ سے ہر سال چار ہزار سے زیادہ لوگ گردے بیکار ہونے سے مرجاتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ زیادہ صحتمند لوگوں کو اِس کا قائل کیا جائے کہ وہ وفات پر اپنے دو گردوں میں سے ایک کا عطیہ ضرور دیں اور صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان صرف ایک گردے کی مدد سےمعمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG