رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: دہشت گردی کے خلاف لڑائی

  • صلاح احمد

اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا دعویٰ ہے کہ حکومت ، سمندر پار کسی بھی ایسےامریکی شہری کو ہلاک کر سکتی ہے اگر اس کی دانست میں یہ شخص القاعدہ یا اس سے وابستہ کسی ایسی تنظیم کا کوئی اعلیٰ مرتبت لیڈر ہے جس نے امریکیوں کو ہلاک کرنے کی سازش کر رکھی ہے

اخبار’نیو یاک نیوزڈے‘ کہتا ہے کہ جب امریکی حکومت یہ دعویٰ کرے کہ اُسے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکی شہریوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کا اختیار ہے تو یہ ایک ایسا سنگین معاملہ ہے کہ اِس پر قوم کو سنجیدہ بحث کرنی چاہئیے۔

اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا دعویٰ ہے کہ حکومت، سمندرپارکسی بھی ایسےامریکی شہری کو ہلاک کر سکتی ہے اگراس کی دانست میں یہ شخص القاعدہ یا اس سے وابستہ کسی ایسی تنظیم کا کوئی اعلیٰ مرتبت لیڈرہے جس نے امریکیوں کو ہلاک کرنے کی سازش کر رکھی ہے۔ شرط یہ ہے کہ یہ خطرہ فوری نوعیت کا ہواوراُس شخص کو پکڑنا ممکن نہ ہو۔

اُن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فیڈرل عدالتوں کو یہ پُوچھنے کا حق نہیں ہےکہ کس کو اس طرح ہلاک کیا گیا ہے اور کیوں۔

اخبار کہتا ہے کسی بھی صدر کے لئے یہ حدّ سے زیادہ اختیار ہے، جب تک یہ راہ اختیار کرنے سے پہلے اس اقدام کے جواز پر عوام میں معقول بحث نہ کی جائے۔ جنگ کی نوعیت بدلتی جارہی ہے ۔دوسرے ملکوں سے جنگ کرنے لئےاب بجائے فوج کے اُن دشمن تنظیموں کے خلاف لڑائی میں، جن کا کوئی ملک نہیں انٹیلی جینس کے کارندوں اور سپیشیل فورسز کا استعمال شروع ہو گیا ہے۔ چنانچہ، بجائے فوج روانہ کر نے کے ڈرون طیاروں کے حملے اور خُفیہ اوپریشن زیادہ کارگر ثابت ہو رہے ہیں، جیسے اوسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لئے کاروائی کی گئی تھی۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اپنی حدّ سے تجاوز کیا جب اس نے ایک امریکی شہری انوار الاولکی کوموت کے گھاٹ اتارنے کی فہرست میں ڈال کر اُسے ستمبر میں ٹھکانے بھی لگا دیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس حد سے تجاوز کرنا ضروری تھا ۔لیکن جس پالیسی کے تحت امریکی شہریو ں کو ہلاک کرنے کا اختیاردیا گیا ہےاُس کی جانچ پڑتال ضروری ہے ۔ پبلک کو اُن دستاویزوں کا علم ہونا چاہئیے جن سے حکومت کو نشانہ بنا کر کسی کو ہلاک کرنے کا آئینی جواز ملتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ الاولکی جزیرہ نُما عرب میں القاعدہ کا اوپریشنل لیڈر تھا۔اس کی ہلاکت کے بعد امریکی عوام زیادہ محفوظ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکی حکومت کو محاذ جنگ سےدور قانون کے لوازمات پورے کئے بغیر اپنے کسی شہری کو ہلاک کرنے کی اجازت ہونی چاہئیے۔

’ لاس اینجلس ٹائمز‘ کی لارا کنگ کابل سے ایک مراسلے میں بتاتی ہیں کہ کابل میں جمعے کے روز امریکی اور افغان عہدہداروں کے درمیان جس سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں اُس سےایک بڑی وجہ نزاع دور ہو گئی ہےاوراب جن مشتبہ باغیوں کو حراست میں لیا گیا ہے وُہ کرزئی حکومت کے حوالے کر دئے جایئں گے۔

یہ قیدی کابُل کے شمال میں پروان کیمپ میں نظر بند ہیں ۔یہ وہی کیمپ ہے جہاں قرآن کے نسخے نا داستہ طور پر نذر آتش کئے جانے پر فسادات برپا ہوا ئے تھےاور جس کے بعد صدر کرزئی کا کیمپ کی جلد واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔ اُن کا موقّف تھا کہ اگر کیمپ افغان تحویل میں ہوتا ، تو ایسا واقعہ رونما ہی نہ ہوتا۔

’لاس اینجلس ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ اب تک امریکہ کو یہ کیمپ جس میں تین ہزار مشتبہ باغی نظر بند ہیں کابل کے حوالے کرنے میں اس لئے تامّل تھا ۔ کہ کہیں ان میں سے بُہت سے قیدی پھر میدان جنگ میں نہ پہنچ جایئں۔

امریکی معیشت میں پچھلے تین ماہ کے دوران روزگار کے اوسطاً دو ہزار 45 ہزار مواقع کا ماہوار اضافہ ہوا ۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق فرور ی میں سابقہ مہینوں کے مقابلے میں یہ شرح توقّع سے کہیں بہتر رہی۔ ماہرین اقتصادیات کی ان پیش گوئیوں کےبرعکس روزگارکےمواقع بڑھنے کی رفتار اس سے سست ہوگی اصل اضافہ اس سے زیادہ ہوا۔

یہ رپورٹ فیڈرل رزرو کے پالیسی سازوں کے اگلے ہفتے کے اجلاس سے پہلے آئی ہے ہے، جنہیں اس پر تعجب ہے کہ حالیہ دنوں میں بےروزگاری کی شرح اتنی جلد گر رہی ہے۔ اور اگر یہ شرح نمو اور افراط زر کی رفتار برقراررہی، تو اخبار کے خیال میں بانڈزکی خریداری کا پروگرام شروع ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ معیشت کو شائد مزید امداد کی ضرورت نہ پڑے گی ۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران جس شرح سے روزگار کے مواقع بڑھے ہیں وہ صدر اوبامہ کے دوبارہ منتخب ہونے کے لئے اچھاشگُون ہے ۔ لیکن، انہیں اب بھی بے روزگاری کی شرح کا سامنا ہے۔ وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

لیکن، پچھلے ماہ تقریباً 5 لاکھ افراد کام کی تلاش میں تھے جو روزگار کی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے کیونکہ بُہت سے ایسے لوگ جو پہلےمایوس ہو چُکے تھا اب پھر تلاش معاش میں مصروف ہیں اورایسے لوگوں کی تعداد بڑھ جانا ایک اچھی علامت ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG