رسائی کے لنکس

بٹی ہوئی دہشت گرد تنظیم 11/9 کی طرح کا بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکی ہے۔ لیکن بم پھوڑنے کی اکا دکا واردارتوں کے ذریعے یہ تنظیم اب بھی تباہی مچا سکتی ہے

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ القاعدہ کے بم پھوڑنے کی تازہ ترین سازش سے مستقبل میں درپیش خطروں کا اندازہ ہوتا ہے۔

پچھلے ہفتے امریکہ نے اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کی برسی پر دہشت گردی کے اس ماہر کی رُو پوش زندگی کے آخری برسوں کے خطوط کے متن جاری کئے تھےجن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کااب القاعدہ پر تصرُّف نہیں رہا تھا۔ اس بٹی ہوئی دہشت گرد تنظیم سے 11/9 کی طرح کا بڑے پیمانےپر دہشت گردی کا کوئی مربوط کارنامہ سر انجام نہیں دیا جا سکا ہے ۔ لیکن بم پھوڑنے کے اکا دکا واردارتیں کر کے یہ تنظیم اب بھی تباہی مچا سکتی ہے ۔چنانچہ، بن لادن ، مرنے کے بعد دنیا کے لئے یہ چیلنج چھوڑ گیا ہے کہ وہ ان دہشت گردانہ حملوں کا تدارک کرے۔

یہ بات صحیح ثابت ہوئی جب یمن میں کی گئی ایک ایسی سازش کو طشت از بام کیا گیاجس کا مقصد امریکہ جانے والے ایک طیارے کو ایک ایسے بم سے تباہ کرنا تھا جس کا سُراغ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ پھر یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکہ کے خُفیہ ایجنٹوں نے القاعدہ کی ایک سیل میں داخلہ حاصل کر لیا تھا اور ایک ڈبل ایجنٹ نےنہ صرف یہ بم حاصل کر لیا ، بلکہ اس سیل کے غیر ملکی اوپریشنز کے ڈئرکٹر کے بار ے میں ضروری معلومات فراہم کی تھیں جس کی بنیاد پر اسے قتل کر دیا گیا تھا۔

اخبار کہتاہے کہ انسداد دہشت گردی کی کاروائی کی کامیابی کی یہ حیرت انگیز مثال ہےاور اس بات کاثبوت ہے کہ ایسے حملوں کو روکنے کی حکمت عملی ، انٹیلی جنس جمع کرنا غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنااور دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کرنا ، دہشت گردی کے خلاف اُس کاروائی سے بالکل مختلف ہے۔جس میں یہ ملک سال ہا سال سے مصروف ہے ۔

اخبار کہتا ہے کہ القاعدہ اور اس سے وابستہ ٹولےامریکی سیکیورٹی ضوابط سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اس امید سے بم کا ڈیزائن اور اس میں استعمال ہونے والے مواد بدل دیا تھا کہ میٹل ڈیٹیکٹر اس کا سُراغ نہ لگا سکے گا۔ شکر کا مقام ہے کہ یہ بم اب امریکہ کی تحویل میں ہے اور اس کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ جس دن امریکہ نے اس سازش کا بھانڈہ پھوڑ دیا اُسی روز القاعد ہ نے ایک حملے میں یمن کے 22 فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ اخبار کہتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مستقل فتح قسم کی کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ لڑائیوں کا جاری تسلسل ہے ۔

اسی موضوع پر اخبار’ نیویارک نیوز ڈے‘ کہتا ہے کہ امریکہ آنے والے ایک طیارے کو بھک سے اُڑانے کی سازش کو سی آئی اے نے بے نقاب کیا ہے، اس پر لوگوں کو خُوش ہونا چاہیئے ۔ اور اس طیارے کے پائیلٹ کو مشرق وسطیٰ ہی کے اندر جس طرح روکا گیا تھا،وہ ظاہر ہے، اندر سے حاصل کی گئی معلومات پر مبنی کاروائی تھی۔ انہی معلومات کی بنیاد پر اتوار کے روز ڈرون حملہ کر کے القاعدہ کی شاخ کے بیرونی کاروائیوں کے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ سی آئی اے اپنے غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جو کام کر رہی ہے وُہ بین الاقوامی تعاون کی ایک اُمید افزاء علامت ہے۔

لیکن، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ القاعدہ کا قلع قمع کرنے میں امریکہ کو اب تک جو کُچھ حاصل ہوا ہے اس کے باوجود یہ زخم خوردہ تنظیم ابھی تک خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس میں اب بھی اپنے مکروہ عزائم کو عملی جامہ پہنا نے کی صلاحیت ہےاور اسی بنا پر امریکہ کو اس تنظیم کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنی چاہئیے۔

اور اب کُچھ ذکر ایک افسوس ناک حادثے کا جس میں ریاست میری لینڈ میں ایک باپ نے بے خیالی میں گھاس کاٹنے کی مشین سے اپنی پانچ سالہ بچی کے پاؤں کاٹ ڈالے۔ بالٹی مور سن کے مطابق اُس نے بچی کو نہیں دیکھا تھا جب اس نے مشین کو اُلٹے گئیر میں ڈالا۔ اخبار کہتا ہے کہ امریکہ میں گھاس کاٹنے کی مشین کے حادثوں کی وجہ سے اکثر کم سن بچوں کے اعضا کاٹنے پڑتے ہیں۔ اور اس قسم کے حادثوں کی وجہ سے امریکہ میں ہر سال نو ہزار سے زیادہ بچے اسپتال پہنچ جاتے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG