رسائی کے لنکس

لیبیا: انتقامی ہلاکتوں اورلوٹ مارکےانتہائی کم واقعات ہوئےہیں

  • شہناز عزیز

قذافی مخالف فوج کی پیش قدمی

قذافی مخالف فوج کی پیش قدمی

’نیو یارک ٹائمز‘ لکھتا ہے کہ کچھ امریکیوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ لیبیا پر اسلامی انتہا پسندی غالب آجائے گی۔ تاہم، اخبار نشاندہی کرتا ہے کہ بہت کم باغی لیڈر اسلامی اساس پسندی سے وابستہ رہے ہیں

اخبار’ نیو یارک ٹائمز‘ کے نکولس کرسٹوف Finding Hope in Libyaمیں لکھتے ہیں کہ جب میں گذشتہ ہفتے تیونس سے لیبیا میں داخل ہو رہا تھا تو قذافی کی مخالف فورسز کے ایک سپاہی ایمن نےمیرے پاس ویزا نہ ہونے پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا کہ اُس کی فورسز نے اُس حکومت کو معزول کیا ہے جو ویزے جاری کرتی تھی۔ تاہم، آخرِ کار، خوداُس نےایک حل نکالا وہ یہ کہ میں اُسے اُس کے آبائی قصبے زوارہ تک اپنی گاڑی میں لے جاؤں اور پھر ویزے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

مصنف کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اُن خدشات کی نشاندہی کرتا ہے جو بہت سے امریکیوں کو لیبیا کے باغیوں کے بارے میں ہے ، یہ آیا وہ محض ناپسندیدہ عناصر ہیں جو خود اپنی کوئی آمریت یا افراتفری تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ لیکن، بقول مصنف کے اپنے لیبیا کے حالیہ دورے کے بعد میں محتاط انداز میں پُر امید ہوں۔ جو چیز خاص طور پر متاثر کُن ہے وہ طرابلس میں انتہائی کم تعداد میں انتقامی ہلاکتوں اور لوٹ مار کے واقعات ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ کچھ امریکیوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ لیبیا پر اسلامی انتہا پسندی غالب آجائے گی۔ تاہم، بہت کم باغی لیڈر اسلامی اساس پسندی سے وابستہ رہے ہیں۔

ایک استثنیٰ عبد الحاکم بالحاج ہیں جو طرابلس کے ایک فوجی کمانڈر ہیں اور جِن کا کہنا ہے کہ اُنھیں سی آئی اے نے سنہ 2004 میں اذیت رسانی کا شکار بنایا تھا۔ تاہم، اُنھوں نے اخبار’ نیو یارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ ہر چیز معاف کی جاچکی ہے اور یہ کہ وہ لیبیا کے انقلاب میں امریکہ کے کردار کو سراہتے ہیں۔

اخبار کے الفاظ میں سچ تو یہ ہے کہ لیبیا کی کسی بھی نمائندہ حکومت میں مسٹر بالحاج جیسے اساس پسندوں کو شامل کیے جانے کی ضرورت ہے جو قذافی حکومت کے سامنے جراٴت مندی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

اخبار کہتا ہے کہ لیبیا کا موڈ ’اسلام پسند‘ اور ’مغرب پسند‘، دونوں ہے۔

اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ شام کے بارے میں اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ اسد حکومت ایک بار پھر اس کا اظہار کر رہی ہے کہ عوامی احتجاج کے جواب کے لیے اُس کے پاس بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے علاوہ کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اب تک اموات کی تعداد انداز ً 2000ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔

غیر ملکی حکومتیں مسٹر اسد کو معزول نہیں کرسکتیں۔ شام کے باشندوں کو خود ایسا کرنا ہوگا۔ تاہم، بیرونِ ملک سیاسی اور اقتصادی تعزیرات میں اضافہ کرکے مدد کی جاسکتی ہے۔

اخبار کے مطابق یورپی یونین نے شام کی تیل کی مصنوعات پر گذشتہ ماہ پابندی عائد کرکے اِس کوشش میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

شام کو یورپ کو اِن مصنوعات کی فروخت سے یومیہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر ملتے تھے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اب شامی حکومت اس کے لیے کوئی اور منڈی تلاش کرسکتی ہے۔ بقول اخبار کے، ایران اور دیگر سرکش ملکوں کے مقابلے میں شام کسی اقتصادی دباؤ کے سامنے کہیں زیادہ کمزور ہے ۔

اخبار بوسٹن گلوب نے اپنے ادارتی اور آراٴ کے صفحات میں شہری آزادیوں کی فتح کے نام سے سائمن گلک کی کہانی تحریر کی ہے

جن کے بارے میں بوسٹن کے ایک اپیلز کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وہ سنہ 2007میں اپنی اُس گرفتاری کے خلاف جو بوسٹن پولیس کو ٹیپ کرنے کے جرم میں کی گئی تھی، شہر کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتے ہیں۔

گلک نے اُس روز پولیس افسروں کے ایک گروپ کو دیکھا تھا جو ایک شخص کو گرفتار کرتے وقت بظاہر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کر رہے تھے۔

گلک نے اپنا سیل فون نکال کر تقریباً دس فٹ کے فاصلے سے اُن کا وِڈیو اور آڈیو بنانا شروع کردیا۔ پولیس نے جواب میں اُنھیں گرفتار کرکے اُن کا فون ضبط کرلیا۔

اخبار کے مطابق، اُنھیں جلد ہی آزاد کردیا گیا اور الزامات بھی ختم کردیے گئے۔ تاہم، اُس نے اپنی غیر قانونی گرفتاری پر شہر کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔

پولیس کے محکمے نے اپنے دفاع میں نہ صرف یہ دعویٰ کیا کہ یہ گرفتاری قانونی تھی بلکہ یہ بھی کہ پولیس کو ٹیپ کرنے کا حق ’فرسٹ ایمنڈمنٹ‘ میں واضح طور پربیان نہیں کیا گیا۔

اخبار لکھتا ہے کہ عدالت نے دانائی کے ساتھ اِس دعوے سے اتفاق نہیں کیا۔ اُس کا کہنا ہے کہ کسی پبلک مقام پر فرائض انجام دینے والے سرکاری عہدے داروں کی فلمنگ پہلی ترمیم کی جانب سے دیے جانے والے تحفظات کے دائرہٴ کار میں آتی ہے جس میں آواز بھی شامل ہے۔

اخبار آخر میں لکھتا ہے کہ صدر سے لے کر مقامی پولیس والے تک سرکاری عہدے داروں سے حساب لینے کا حق کسی آزاد اور کھلے معاشرے کے لیے بنیاد ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اب اِس پر عمل نئی ٹیکنالوجی سے کیا جا رہا ہو۔ تاہم، یہ اصول اتنا ہی قدیم ہے جتنی ہماری یہ قوم۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG