رسائی کے لنکس

کشمیر: رواں موسمِ گرما میں غیرمعمولی نوعیت کا سیاسی سُکون دیکھنے میں آیا ہے

  • صلاح احمد

کشمیر: رواں موسمِ گرما میں غیرمعمولی نوعیت کا سیاسی سُکون دیکھنے میں آیا ہے

کشمیر: رواں موسمِ گرما میں غیرمعمولی نوعیت کا سیاسی سُکون دیکھنے میں آیا ہے

اخبار’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ پچھلے موسمِ گرما کے دوران سری نگر کا محصور شہر ایک جنگ زدہ علاقہ تھا جب پتھراؤ کرنے والے احتجاجی مظاہرین اور مسلح سکیورٹی افواج کے مابین جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے

’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی میں جو کمی واقع ہوئی ہے اُس کا متنازعہ علاقے کشمیر کو فائدہ ہوا ہے اور وہاں رواں موسمِ گرما میں غیر معمولی نوعیت کا سیاسی سُکون دیکھنے میں آیا ہے۔

اخبار کہتا ہے پچھلے موسمِ گرما کے دوران سری نگر کا محصور شہر ایک جنگ زدہ علاقہ تھا جب پتھراؤ کرنے والے احتجاجی مظاہرین اور مسلح سکیورٹی افواج کے مابین جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

موسمِ خزاں تک 100سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے، باغات میں سیبوں کی فصل درختوں پر ہی گل سڑ گئی اور زعفران کی فصل کاٹی بھی نہ گئی۔وادیٴ کشمیر کی معیشت عملی طور پر تباہ ہوگئی تھی۔

اخبار کہتا ہےکہ موسمِ سرما میں جب شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں مسلمان نوجوانوں نے اپنی آمرانہ حکومتوں کے خلاف بغاوت کا الم بلند کیا تو یہ بات ناگزیر معلوم ہوتی تھی کہ مسلمان اکثریت والی اس وادی کشمیر میں اس کی صدائے بازگشت سنی جائے گی ، لیکن، ہوا اِس کے برعکس۔

وادیٴ کشمیرمیںٕ غیر متوقع طور پر امن اور سکون ہے۔ پورے ہندوستان سے سیاحوں نے وادیٴ کشمیر پر یلغار کردی ہے۔ جہا ز کی ہر سیٹ ہوٹل کا ہر کمرہ اور ہاؤس بوٹوں کا ہر کمرہ بُک ہے اور کاروبار زوروں پر چل رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی ایسا بڑا سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے جسے آپ اِس نئے امن کی وجہ قرار دے سکیں اور کشمیر کے ہندوستانی حصے میں کوئی بڑی مراعات بھی نہیں دی گئی ہیں۔

وہاں وہ سنگین قوانین اب بھی نافذ ہیں جِن کے تحت سکیورٹی افواج کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا اور پولیس کسی بھی شخص کو امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں حراست میں لے سکتی ہے۔ باوجود یہ کہ کشمیر جہاں واقع ہے اُس کا شمار دنیا کے خطرناک ترین جوہری ’فلیش پوائنٹس ‘ میں شمار ہوتا ہے، وہاں ایک پراسرار اور صریح تبدیلی آئی ہے، جِس نے امن کے فروغ میں مدد دی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان’ دیتانت ‘ Detenteکی فضا نے کشیدگی کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دی ہے۔

27جولائی کو دونوں ملکوں نے کشمیر کی لائن آف کنٹرول کے آرپار آنے جانے کی پابندیاں نرم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔

اُدھر، بھارتی سکیورٹی افواج نے بغاوت کو کچلنے کے پرانے طریقے چھوڑ دیے ہیں۔ اُنھیں نئی تربیت اورنئے ہتھیار ملے ہیں جِن کی مدد سے وہ ہلاکت خیز طاقت کا استعمال کیے بغیر بے قابو ہجوموں پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔

’لاس انجیلس ٹائمز‘ کے ادارتی عملے نے اس پر خیال آرائی کی ہے کہ آیا صدر براک اوباما اگلے انتخابات میں اپنی صدارت برقرار رکھنے میں کامیاب ہونگے۔

اخبار کہتا ہے کہ صدررجائیت کا دامن زور سے پکڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ حالات بہت اچھے نہیں ہیں، بے روزگاری کی شرح نو اعشاریہ دو سے نو اعشاریہ ایک تک کم ہونا کوئی بڑی گِراوٹ نہیں ہے۔ صدر روزویلٹ کے بعد اتنی بھاری بے روزگاری کے ہوتے ہوئے کوئی صدر دوبارہ منتخب نہیں ہوا ہے۔

صدر اوباما کا معیشت کو مہمیز لگانے کے لیے ایک mini-stimulus منصوبہ ہے، لیکن اوباما کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اِس کی مدد سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

با الآخر اوباما کو اُنہی نتائج کی بنیاد پر رکھا جائے گا۔ اگر 2012ء میں بے روزگاری کی شرح گر گئی تو پھر اس کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کر سکتے ہیں، لیکن جب تک روزگار کی صورتِ حال میں کوئی بہتری نہیں آتی تو پھر اُن کو ایک سنگین مشکل کا سامنا ہوگا۔

اخبار کہتا ہےکہ صدر اوباما اپنی صدارت کو اس طرح بھی بچا سکتے ہیں اگر وہ ووٹروں کو یہ باور کرائیں کہ ری پبلیکن حالات کو مزید بگاڑدیں گے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے کالم نگار ہیرلڈ مائرسن نے صدر اوباما کو امریکی معیشت کو بچانے کے لیے اس میں بھارتی مداخلت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔اُنھوں نے خبر دار کیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ معیشت یا تو جمود کا شکار ہوگی یا پھر پیچھے کی طرف جائے گی۔

مصنف کا کہنا ہے کہ یہ وقت ہے جب معیشت کو زبردست مہمیز لگانے کی ضرورت ہے، یعنی صدر کے اُس منصوبے سے کہیں زیادہ جِس میں بے روزگاری کا بیمہ بڑھانے ، پے رول ٹیکس میں کٹوتی کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک بینک کے لیے کہا گیا ہے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ ایک بھاری Stimulusلگانے کا منصوبہ وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت اقتصادی سرگرمی اور روزگار میں کم از کم کئی برسوںٕ تک زبردست اضافہ ہوگا۔

اخبار کہتا ہے کہ 2008ء کے بحران سے پہلے بھی امریکی کارپوریشنیں امریکہ میں ملازمتیں ختم کرکے سمندر پار بھیج رہی تھیں اور

اِس بحران سے ترقی پذیر لیکن کم مزدوری والی معیشتوں میں روزگار کے جو مواقع منتقل ہوگئے ہیں وہ اب شاید واپس نہیں آسکتے۔

کالم نگار نے صدر کے پہلے Stimulusمنصوبے کی ناکامی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا کام ریاستی اور مقامی حکومتوں کو سونپا گیا تھا اور اب صدر اِن دشواریوں کا خیال کرتے ہوئے اس کے لیے روزگار کا ایک وفاقی ادارہ قائم کریں گے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG