رسائی کے لنکس

’لاس اینجلس ٹائمز‘ میں رائٹرز کی ایک رپورٹ کےمطابق، اِن بم دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہےکہ جنگ کے ایک عشرے کے بعد بھی عراق کس قدر خطرناک اور غیر مستحکم ہے

جیسا کہ خبروں میں آپ نے سنا ہوگا، عراق پر امریکی حملے کی دسویں برسی پر منگل کو بغداد میں بم دھماکوں کی سلسلہ وار وارداتیں ہوئیں جِن میں کم از کم 56افراد ہلاک ہوگئے۔

’لاس اینجلس ٹائمز‘ میں رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اِن بم دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کے ایک عشرے کے بعد بھی عراق کس قدر خطرناک اور غیر مستحکم ہے۔

یہ ایسا ملک ہے جہاں فرقہ وارانہ تشدد کسی بھی لمحے بھڑک سکتا ہے اور باوجود یہ کہ 2006ء کے مقابلے میں جب یہ تشدد عروج پر تھا، ان وارداتوں میں قدرے کمی آئی ہے، کشیدگی برقرار ہے اور جنگجو عراقی سکیورٹی افواج کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

منگل کے حملوں میں بیشتر شیعہ بستیوں، چھوٹے ریستورانوں اور بس سٹاپوں کو نشانہ بنایا گیا اور مرنے والوں کے علاوہ 200سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

اسی دوران، عراقی کابینہ نےملک کے دو صوبوں میں 20اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کردیے ہیں جہاں اقلیتی سنی فرقے کا غلبہ ہے۔

اِن دونوں صوبوں الانبار اور نینوی میں، جس پر شیعوں کا غلبہ ہے، عراقی حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے ہوتے آئے ہیں۔

منگل کے روز کے حملوں میں سے ایک گرین زون کے زبردست قلعہ بند علاقے کے گیٹوں کے قریب ہوا ہے جہاں عراقی حکومت کے بڑے بڑے دفاتر کے علاوہ امریکہ سمیت متعدد ملکوں کے سفارتخانے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، القاعدہ کی عراقی شاخ جو عراق کی اسلامی مملکت کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران وہاں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پچھلے ہفتے اس تنظیم نے مغربی عراق میں اُس بھاری حملے کا دعویٰ کیا تھا جس میں نو عراقیوں کے علاوہ 51شامی فوجیں بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اِن شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے رکھی تھی۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ایک تجزیے میں صدر اوبامہ کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ نہ تو اسرائیل سے متعلق ہے اور نہ اُردن سے۔ اس کا ایران سے بھی واسطہ نہیں اور نہ ہی عرب بغاوتوں کے ساتھ۔ جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہے، مشرق قریب سے متعلق واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر مائیکل سنگھ کہتے ہیں کہ اُن کا یہ دورہ امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کردار کے بارے میں ہے۔

مائیکل سنگھ کہتے ہیں کہ صدر اوبامہ کو اپنی دوسری میعاد کے دوران دوبارہ آغاز کا موقع فراہم ہو ا ہے۔ 2008ء میں اوبامہ کیمپ کا یہ مؤقف غلط نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ کی طرف امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اُن کی انتظامیہ کی نظر اس خطے کے رائے عامہ کے جائزوں پر کم ہونی چاہیئے اور امریکہ کے اتحادیوں کی بات سننے پر زیادہ توجہ ہونی چاہیئے اور اُن کے مفادات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

امریکہ کے اتحادیوں کی نظر خطے میں ایران کی کارستانیوں، شام کے پارہ پارہ ہونے اور اسلامی انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے خطروں پر ہے اور اُن کے تعاون کا دارومدار امریکی مقبولیت پر کم اور اس بات پر زیادہ ہوگا کہ انھیں یقین دلایا جائے کہ اُن کے اور امریکہ کے مفادات مشترک ہیں اور یہ کہ وہ فیصلہ کُن کارروائی کرے گا۔ چناچہ، اُن کا خیال ہے کہ امریکہ کو بغیرکسی لیت و لعل کےقیادت کا وہ کردار سنبھال لینا چاہیئے جو مشرق وسطیٰ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے صرف وہی فراہم کر سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 2009ء میں اوبامہ نے قاہرہ کے دورے میں ایک نئے آغاز کی پیش کش کی تھی۔ اب کی بار اس خطے میں امریکہ کے اتحادی جو اس کی قومی سلامتی کے مفادات کےلیے بہت اہم ہیں، مقابلةً محض یہ سادہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اپنی قیادت کی تجدید کرے جو اس خطے سے ایک حقیقی اور خوش آیند وابستگی ہوگی۔
XS
SM
MD
LG