رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: 'بیروزگاری کی وجہ قومی خسارہ نہں'

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: 'بیروزگاری کی وجہ قومی خسارہ نہں'

امریکی اخبارات سے: 'بیروزگاری کی وجہ قومی خسارہ نہں'

بے روزگاری کی شرح اِس لیے زیادہ ہے کیونکہ صارفین کی مانگ کمزور ہے، مزدوری میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا اور ملازمتوں اور اُن کے لیے درکار مہارتوں کے درمیان عدم توازن ہے: نیو یارک ٹائمز

سنہ 2008کی معاشی کساد بازاری سے امریکہ میں روزگار کے مواقع کی جو مسلسل کمیابی رہی ہے اُس پر ’نیو یارک ٹائمز ‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ ملک کا قومی قرضہ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح اِس لیے زیادہ ہے کیونکہ صارفین کی مانگ کمزور ہے، مزدوری میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا اور ملازمتوں اور اُن کے لیے درکار مہارتوں کے درمیان عدم توازن ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ریپبلیکن عرصے سے بے روزگاری اور قومی قرضے کے مابین ایک تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں، تاکہ کمزور معیشت کا الزام مسٹر اوباما پر ڈالا جائے اور اخراجات میں کٹوتی کے بارے میں اُن کے نظریاتی مقصد کے لیےحمایت حاصل ہو۔

اخبار کہتا ہے اِس کے برعکس ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ ریپبلیکن ہٹ دھرمی کی وجہ سے اخراجات میں جو کٹوتیاں کی گئیں، بے روزگاری کی ایک بہت بڑی وجہ وہی ہے اور ہم اِس غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جس میں وہ اپنے ہی پیدا کردہ بحران کی مذمت کرتے ہیں اور اِس کو ٹھیک کرنے سے انکاری ہیں۔

بے روزگاری پر صدر اوباما کے مؤقف کو مُبہم قرار دیتے ہوئےاخبار کہتا ہے کہ اُن کے دوبارہ منتخب ہونے کا دارومدار بے روزگاری کو کم کرنے پر ہے۔اِس لیے اخبار کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آخر صدر نے معیشت کو قومی قرضے سے ملانے کے لیے اپنے مخالفین کی زبان کیوں استعمال کی۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر کے لیے اب بھی یہ اصرار کرنے کا وقت ہے کہ قومی قرضے پرمذاکرات میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے سے متعلق ایک جامع پروگرام شامل کیا جائے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق پاک افغان سرحد پر حالیہ ہفتوں کے دوران تناؤ بڑھتا جارہا ہے، خاص طور پر اب جب کہ خطے میں امریکی موجودگی میں کمی آنا شروع ہوئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستانی، افغان اور امریکی فوجی نمائندوں کی پاکستان میں بات چیت ہوئی ہے جس کے بعد تینوں کے عہدے داروں نے اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں جو بہتری آئی ہے وہ حالات کو بگڑنے نہیں دے گی۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سےہونے والی گولہ باری پر جوابی کارروائی نہیں کریں گے۔اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ گولہ باری معمولی سی تھی اور اُس کا ہدف بھاگنے والے عسکریت پسند تھے۔

یہ سرحدی تناؤ ایسے میں پیدا ہوا ہے جب لگ یہ رہا تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین گرمجوشی آرہی ہے اور ایک مقامی انگریزی روزنامے نے افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ افغانستان جنگ کے اِس نئے محاذ کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھا رہا جو قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

اِسی تناؤ کے پسِ منظر میں امریکی عہدے داروں اور باغیوں کے ایک ایسے عہدے دار کے مابین مذاکرات کا ایک نیا دور ہوا ہے جو طالبان لیڈر ملا عمر کا قریبی ساتھی بتایا جاتا تھا۔

افغانوں کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان اِن مذاکرات میں رخنہ ڈالنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان اِن پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے اِس دعوے کی تردید کردی ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ اِن الزام تراشیوں کے پسِ منظر میں افغانستان امریکہ کے ساتھ 2014ء کے بعد کے باہمی تعلقات کی تفصیلات طے کر رہا ہے اور اُس نے ہتھیاروں کا مطالبہ کیا ہے جن میں لڑاکا جیٹ طیارے اور ٹینک شامل ہیں اور جِن کے بارے میں امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ افغانستان کی نئی فوج کو اُن کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اخبار کہتا ہے کہ سرحد پر تشدد کے واقعات سے افغانستان کے مطالبے کو تقویت ملتی ہے۔

اور۔ امریکہ کے خلائی شٹل کے پروگرام کے خاتمے پر ’یو ایس اے ٹوڈے‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ تیس سال کے دوران شٹل کو 135مرتبہ خلا میں بھیجا گیا جس دوران غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے گئے۔ اِن میں دو تباہ کُن حادثے بھی شامل ہیں جِن میں 14قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

اب شٹل کے پروگرام کے خاتمے پر اخبار کہتا کہ ہے اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ کے اُن اولولعزمانہ مزاج میں کوئی کمی آئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ جلد یا بدیر امریکہ خلابازوں والی نئی خلائی گاڑی کے ساتھ جلد ہی پھر میدان میں اُترے گا اور انجنیئر اُس بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کا کوئی راستہ نکال رہے ہیں، یعنی وہ انتہائی بھاری لاگت جو اِس کرہٴ ارض سے خلا کے پہلے سو میل طے کرنے پر آتی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG