رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: حسین حقانی کا مضمون اور اسرائیل کی جنگی تیاری

  • عمیر ریاض

حافظ سعید

حافظ سعید

سابق سفیر نے اپنے اس دیرینہ موقف کو دہرایا ہے کہ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی کا خطرہ درپیش ہے اور پاکستانی ریاست اس کا ادراک نہیں کر پارہی

موقر امریکی روزنامے 'دی نیویارک ٹائمز' میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے پنپنے کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔

اپنے مضمون میں حقانی لکھتے ہیں کہ رواں ماہ اسامہ بن لادن کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان مسلم دنیا کا واحد ملک تھا جہاں دہشت گردوں کے اس سرغنہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے گئے۔

حسین حقانی کو ان دنوں پاکستان میں اس خط کے معاملے پر عدالتی تحقیقات کا سامنا ہے جو انہوں نے مبینہ طور پر امریکی حکام کو لکھا تھا۔اس خط میں اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امریکہ سے مداخلت کی اپیل کی گئی تھی۔

خط کا معاملہ سامنے آنے پر حقانی کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا اور ان دنوں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ سابق سفیر نے اپنے اس مضمون میں عدلیہ کوبھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ بجائے اس کے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کی تحقیقات کرتی، اس نے وزیرِاعظم کو سزا سنادی ہے، جنہوں نے، بقول ان کے، عدالت کے یک طرفہ ایجنڈے پر عمل کرنے سے گریز کیا تھا۔

سابق سفیر نے اپنے اس دیرینہ موقف کو دہرایا ہے کہ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی کا خطرہ درپیش ہے اور پاکستانی ریاست اس کا ادراک نہیں کر پارہی۔

حقانی کے بقول اس وقت پاکستان دو طبقوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ ایک طرف جدید خیالات رکھنے والے افراد ہیں جب کہ دوسری طرف، ان کے بقول، اسلام کے نام پر دہشت گردی اور اقلیتوں پر تشدد کی وکالت کرنے والے کھڑے ہیں۔

اپنے مضمون میں حقانی نے پاکستانی میڈیا پر بھی یہ کہہ کر تنقید کی ہے کہ اس نے ملک میں انتہاپسندی کے خاتمے اور دہشت گردی کے مقابلےکے لیے سرگرم کردار ادا نہیں کیا۔

ان کے بقول، ملک کی عدالتیں، رجعت پسند حزبِ اختلاف اور میڈیا ملک کو اسلامی شدت پسندی سے بچانے کے بجائے موجودہ حکومت کی مبینہ کرپشن اور خراب کارکردگی کو اچھالنے پہ مصر ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے رواں ہفتے حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت 'قدیمہ پارٹی' کے ساتھ مل کر قومی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس نئی حکومت کے قیام پر اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کہتا ہے کہ بظاہر اسرائیل میں ایک بار پھر 1967ء کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ سنہ 67 میں اسرائیل کو اپنے پڑوسی عرب ممالک کے حملے کا خطرہ درپیش تھا جس سے اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا۔ اس صورتِ حال کے مقابلے کے لیے اسرائیلی سیاست دانوں نے قومی حکومت تشکیل دی تھی۔حکومت کی تشکیل کے فوری بعد اسرائیلی افواج نے جنگ چھیڑ دی تھی اور محض چھ دن کے اندر اندر عرب ممالک کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اخبار لکھتا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے قومی حکومت کی اچانک تشکیل سے ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل خود کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔ اخبار کے بقول، جنگ میں پہل کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے اور بھاری اکثریت کی حامل حکومت تشکیل دے کر اسرائیلی وزیرِاعظم نے اس جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔

اخبار 'یو ایس اے ٹوڈے' کا کہنا ہے کہ امریکہ کی 19 ریاستوں کے سرکاری اسکولوں میں اب بھی طلبا کو جسمانی سزا دینے کی اجازت ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔

ایک اداریے میں اخبار لکھتا ہے کہ طلبا استاد کی مار پیٹ سے دو سبق سیکھتے ہیں جو دونوں ہی نامناسب ہیں۔ پہلا یہ کہ والدین کے علاوہ بھی کوئی شخص ان پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ غلط رویے کا تشدد سے جواب دینا قابلِ قبول ردِ عمل ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ طلبا کے ساتھ مارپٹائی کے ان واقعات میں اساتذہ کا نسلی تعصب بھی کارفرما ہوتا ہے۔خود امریکی محکمہ تعلیم نے تسلیم کیا ہے کہ اسکولوں میں سیاہ فام طلبا کو دیگر طلباکے مقابلے میں دگنی پٹائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مار پیٹ سےطلبا کے سیکھنے کی صلاحیت اورخود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اگر والدین گھر کی چار دیواری میں اپنے بچوں کو جسمانی سزا دینا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی، لیکن اساتذہ کو اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے کہ وہ طلبا پر ہاتھ اٹھائیں۔

XS
SM
MD
LG