رسائی کے لنکس

جنوبی سوڈان: بین الاقوامی برادری کوامداد کے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا

  • صلاح احمد

جنوبی سوڈان: بین الاقوامی برادری کوامداد کے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا

جنوبی سوڈان: بین الاقوامی برادری کوامداد کے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا

اخبار’ بوسٹن گلوب‘ کا کہنا ہے کہ یہ وہ ملک ہے جہاں 30فی صد بچے پیدائش سے پہلے ہی مرجاتے ہیں، اُس کے صرف 25فی صد لوگوں کو لکھنا پڑھنا آتا ہے اور پینے کا صاف پانی صرف 30فی صد آبادی کو میسر ہے، جبکہ 90 فی صد لوگ ایک ڈالر یومیہ پر گزر اوقات کر رہے ہیں

جنوبی سوڈان کی آزادی پر اخبار ’بوسٹن گلوب‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ دنیا کی سب سے کم عمر جمہوریہ کی حیثیت سے اُس نے جمہوریہ جنوبی سوڈان کے نام سے افریقہ کی اُس طویل ترین خانہ جنگی کے بعد آزادی کا اعلان کیا ہے جِس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ 20لاکھ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ خشکی سے گھِرے ہوئے اِس کم ترقی یافتہ خطے کو ایک فعال مملکت میں بدلنے کے لیے بین الاقوامی برادری پر لازم ہوگا کہ وہ اُس کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر قائم رہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ یہ وہ ملک ہے جہاں 30فی صد بچے پیدائش سے پہلے ہی مرجاتے ہیں، اُس کے صرف 25فی صد لوگوں کو لکھنا پڑھنا آتا ہے اور پینے کا صاف پانی صرف 30فی صد آبادی کو میسر ہے، جبکہ 90 فی صد لوگ ایک ڈالر یومیہ پر گزر اوقات کر رہے ہیں۔ اور یہ نہ بھولنا چاہیئے کہ شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان سرحدوں کا تعین ابھی ہونا باقی ہے اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کا معاملہ ابھی طے نہیں ہواہے۔

اِسی دوران امریکہ جس نے جنوبی سوڈان کے باقیماندہ سوڈان سے الگ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا وعدہ کیا ہے کہ وہ جنوبی سوڈان کی غذائی امداد کے لیے 15کروڑ ڈالر دے گا اور اِس کے علاوہ سڑکوں ، شاہراہوں اور اسکولوں کی تعمیر کے لیےمزید 30کروڑ ڈالر دے گا۔

اخبار’ وال اسٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی کے قتل نے افغانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

افغانستان کے اِس سب سے بارسوخ پاور بروکر کو منگل کے روز ایک بااعتبار سکیورٹی گارڈ نے اپنے ہی گھر میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جِس سے خطے کے استحکام پر ایک کاری ضرب لگی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اِس قتل سے جنوبی افغانستان میں صدر کرزئی اور امریکی مفادات کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے جب کہ 2014ء تک بیشتر امریکی اور نیٹو افواج کو افغانستان سے نکلنے کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ افغانستان میں قابلِ اعتبار فوج اور پولیس قائم ہو۔

اخبار کہتا ہے کہ احمد ولی کرزئی کی طاقت کا راز وہ مسلح ملیشیا تھی جِس کا پچھلے دس سال کے دوران بھرپور استعمال کیا گیا تاکہ سی آئی اے اور امریکی اسپیشل فورسز کی جنوبی افغانستان میں آپریشنز میں مدد کی جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ احمد ولی کرزئی کو ان خدمات کے عوض کئی ملین ڈالر کا معاوضہ ملا۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران تعزیتی پیغامات لیتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا آج صبح میرے چھوٹی بھائی احمد ولی کرزئی کو اپنے ہی گھر میں ہلاک کردیا گیا۔ یہی اب افغانستان کے لوگوں کی زندگی ہے۔ ہم میں ہر ایک ایک عذاب سے گزر رہا ہے۔

آج کل امریکہ میں قومی قرضے کی حد پر بحث جاری ہے۔ اُس کی ابتدا کے بارے میں اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ یاد دلاتا ہے کہ 1917ء میں جب امریکہ پہلی عالمی جنگ میں شریک ہوا تو کانگریس نے جنگ کے اخراجات پورے کرنےکے لیے

طویل وقتی بانڈ جاری کرنے کی اجازت دے دی۔ لیکن اِس کی ایک حد مقرر کردی گئی۔ اِس حد کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھایا جاتا رہا۔ اِس وقت یہ حد 14اعشاریہ 3کھرب ڈالر ہے۔

سیدھی سادھی زبان میں حکومت کے اخراجات ٹیکسوں کے محاصل سے بڑھ جاتے ہیں تو وہ بجٹ کا خسارہ کہلاتا ہے، جسے بانڈ جاری کرکے پورا کیا جاتا ہے۔ إِس وقت یہ خسارہ بڑھ جانے کی ایک بڑی وجہ عراق اور افغانستان کی جنگیں ہیں جن کے اخراجات قرضوں سے پورے کیے گئے ہیں۔

قرض لینے کی حد دو تین ہفتوں میں پوری ہونے والی ہے جس کے بعد حکومت قانون کی رو سے مزید قرض نہیں لے سکتی۔

امریکی حکومت کے 100ارب ڈالر کے مساوی بانڈز کا قرضہ چکانے کی تاریخ 4اگست ہے۔ عام حالات میں حکومت یہ کرتی ہے کہ پرانے بانڈز کی قیمت چکانے کے لیے نئے بانڈ جاری کرتی ہے، لیکن اگر بانڈ مارکیٹ اِس اندیشے کے پیشِ نظر کہ حکومت ادا نہیں کر پائے گی، صورتِ حال اور زیادہ غیر یقینی ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG