رسائی کے لنکس

کاروباری اداروں کاہاتھ کھینچ لینا، اقتصادی بحالی میں رکاوٹ کاباعث

  • صلاح احمد

کاروباری اداروں کاہاتھ کھینچ لینا، اقتصادی بحالی میں رکاوٹ کاباعث

کاروباری اداروں کاہاتھ کھینچ لینا، اقتصادی بحالی میں رکاوٹ کاباعث

اِس وقت امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 9.1فی صد ہے جو پہلے سے کچھ کم ہوئی ہے۔اب ماہرین کا تخمینہ ہے کہ یہ شرح اِس سال جون میں مزید کم ہو کر 8.2ہوجائے گی اور اگلے سال دسمبر تک 7.9ہوجائے گی

اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ نےامریکہ میں اقتصادی مستقبل کی پیش گوئی کا جوتازہ ترین سروے کیا ہے اُس کے مطابق ملک کی اقتصادی بحالی میں سب سےبڑی رکاوٹ یہ ہے کہ کاروباری ادارے ہاتھ کھینچ کر اُنھیں ملازم بھرتی کرتے ہیں اور اِس طرح جِن ماہرین ِ معاشیات کی رائے پوچھی گئی تھی اُن کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آنے والے مہینوں کے دوران روزگار کے جتنے مواقع کی پیش گوئی کی تھی اُن میں شدید کمی آگئی ہے۔

اِن ماہرین کی اوسط رائے یہ تھی کہ اگلے بارہ ماہ کےدوران روزگار کےمواقع میں 22لاکھ اضافہ ہوگا، حالانکہ پہلے25لاکھ کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

اِس وقت امریکہ میں بےروزگاری کی شرح 9.1فی صد ہے جو پہلے سے کچھ کم ہوئی ہے۔ اب ماہرین کا تخمینہ ہے کہ یہ شرح اِس سال جون میں مزید کم ہو کر 8.2ہوجائے گی اور اگلے سال دسمبر تک 7.9ہوجائے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ 19ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو یہ امریکی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔ لیکن، دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ اِس سال کے آخر تک تیل کی قیمت موجودہ 100ڈالر سے گِر کر 96ڈالر فی بیرل پہنچ جائے گی۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ نے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ امریکہ کے لیے یہ خبر خوش آئند ہے کہ اوپیک کے تازہ اجلاس میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ تیل کے چشموں سے زیادہ تیل نکالے گا تاکہ لیبیا اور یمن میں خانہ جنگی سے پیدا شدہ کمی پوری کی جائے۔ لیکن، اِس کے ساتھ ساتھ اخبار کے خیال میں بُری خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے نیک ارادوں پر ہی تکیہ کرکے بیٹھ جانے سے امریکی عوام کہیں اپنی توانائی کی پالیسی میں ناگزیر ردوبدل کو معرضِ التوایٰ میں ڈالتے رہیں۔اگر اِسے اِسی طرح ٹالا جاتا رہا تو یہ بعد میں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اقتصادی بحالی کی سست رفتاری کے پیشِ نظر ماحولیات کے تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کو شاید عیش پسندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ویانا میں اوپیک کا اجلاس زبردست پھوٹ پر ختم ہوا۔ اِس کے چھ رکن ممالک سعودی عرب کی قیادت میں پیداواری کوٹہ بڑھانا چاہتے ہیں جب کہ باقی ماندہ چھ ملک ایران کی قیادت میں پیداوار کی موجودہ سطح برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کے مفادات سعودی عرب کے شاہی خاندان کے مفادات سے بہت مختلف ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ 9/11کے دہشت گردانہ حملوں کے دس سال بعد سعودی عرب کے تیل سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک حصہ دنیا بھر میں مدرسے قائم کرنے پر خرچ ہو رہا ہے جو جہادی انتہا پسندی کے لیے زرخیز زمین ثابت ہوتی ہے۔

’لاس انجلیس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ طویل کساد بازاری اور بحالی کی سست رفتاری کی وجہ سے امیگریشن کے مسائل پر لوگوں کی سوچ براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔ درحقیقت، امیگریشن عملی طور پر بند ہوگئی ہے اور اِس کے نتیجے میں تارکینِ وطن اور مقامی باشندوں کے اگلے وقتوں کے اختلافات پسِ پشت پڑ گئے ہیں۔

مقامی باشندوں کے مقابلے میں تارکینِ وطن پر کساد بازاری کا زیادہ گہرا اثر پڑا ہے۔ اِس کے نتیجے میں بعض تارکینِ وطن امریکہ چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے ملکوں سے کئی ایسے لوگ جو امریکہ منتقل ہونا چاہتے تھے وہ ایسا نہیں کرسکے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG